سندھ ہائیکورٹ: شوگر کمیشن کی تشکیل اور رپورٹ غیر قانونی قرار

سندھ ہائی کورٹ نے 17اگست کو شوگر انکوائری کمیشن کے خلاف ملز مالکان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے چینی بحران کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کے تشکیل کردہ شوگر انکوائری کمیشن اور اس کی رپورٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق آزادانہ نئی تحقیقات کرنے کا حکم بھی صادر کیا۔
جسٹس کے کے آغا پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے شوگر ملز کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) اور ایف بی آر کو قانون کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات سے روکنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔
واضح رہے کہ 26 جون کو میرپور خاص شوگر ملز اور صوبے کی دیگر 19 ملوں نے چینی کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف مرتب کی گئی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔ جس پر فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے کمیشن کو غیر قانونی قرار دیا اور حکم نامے میں اس کی 8 وجوہات کا ذکر کیا جس میں ضروری قواعد و ضوابط پر عمل کرنے میں ناکامی، کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بروقت گزیٹ میں شائع نہ ہونا، کمیشن کی نامکمل تشکیل، کمیشن کی جانبداری، درخواست گزاروں کو صفائی کا موقع نہ دینا شامل ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ کمیشن کی رپورٹ، ایکشن پلان اور مشیر احتساب و داخلہ کی جانب سے متعدد اداروں کو بھیجےگئے خطوط سے درخواست گزاروں کے لیے تعصب کا اظہار ہوا۔
چنانچہ 16 مارچ کو نافذ کردہ نوٹیفکیشن اور 21 مئی 2020 کو جاری کردہ رپورٹ اور اس کے تحت اٹھائے گئے بلواسطہ یا بلاواسطہ اقدامات اور احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں لہٰذا مذکورہ رپورٹ اور اان تمام احکامات اور اقدامت کو کالعدم قرار دیتی ہے۔ساتھ ہی عدالت نے وفاقی حکومت اور محکموں کو رپورٹ کی بنیاد پر براہ راست یا بلا واسطہ احکامات لینے سے روک دیا۔اس کے علاوہ عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کو احتساب آرڈیننس کے تحت اس بات کی آزادانہ تحقیقات کرنے کی ہدایت کی کہ کیا کمیشن کی رپورٹ سے ہٹ کر درخواست گزاروں میں سے کوئی بھی بدعنوانی کا مرتکب ہوا۔
مزید برآں عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے چیئرمین کو متعلقہ ٹیکس قوانین کے تحت اس بات کی آزادانہ تحقیقات کرنے کی ہدایت کی کہ کیا کمیشن کی رپورٹ سے ہٹ کر درخواست گزاروں سے کوئی ’غیر قانونی‘ اقدامات کیا۔اسی طرح ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو بھی انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آزاد انکوائری کرنے کی ہدایت کی کہ کیا کمیشن کی رپورٹ سے ہٹ کر درخواست گزار میں سے کسی نے بھی منی لانڈرنگ کی۔علاوہ ازیں حکم نامے میں مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی)، اسٹیٹ بینک پاکستان اور سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس اے سی پی) کو ’درخواست گزاروں اور چینی کی صنعت کے حوالے سے قانون کے مطابق اپنا متعلقہ کردار ادا کرنے کی ہدایت کی‘۔عدالت نے حکم نامے کی نقول نیب، ایف بی آر،سی سی پی، ایس ای سی پی کے چیئرمین، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیف سیکریٹری سندھ کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ وہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
یاد رہے کہ 27 جولائی کو وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کرتے ہوئے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کی روشنی میں شوگر ملز مالکان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا حکم دیا تھا۔اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، قومی احتساب بیورو (نیب)، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی)، مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے علاوہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹریز کو خطوط لکھے تھے۔ مذکورہ خطوط میں متعلقہ حکام سے 90 روز میں عملدرآمد رپورٹ طلب کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
بعدازاں حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ 21 مئی کو سامنے لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔شہزاد اکبر نے کہا تھا انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔معاون خصوصی نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔
چنانچہ 7 جون کو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
