شہباز تتلہ قتل کیس، ایس ایس پی مفخر عدیل نے گرفتاری دیدی

ایس ایس پی مفخر عدیل نے بالآخرگرفتاری دے دی۔۔مفخرعدیل نے9 مارچ کی رات پولیس کو گرفتاری دی۔۔مفخرعدیل پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دوست اسد بھٹی کے ساتھ مل کرایڈووکیٹ شہبازتتلہ کوقتل کیا ہے.ذرائع کےمطابق ایس ایس پی مفخر عدیل نے گرفتاری پنجاب سے باہر دی ہے اور انہیں 24 گھنٹوں میں لاہور لایا جائے گا۔
مفخرعدیل پر7 فروری کو اسد بھٹی کیساتھ مل کر شہبازتتلہ کوقتل کرنے کا الزام ہے. شہباز تتلہ کے اغوا کے بعد مبینہ قتل کے معاملے کامرکزی ملزم ایس ایس پی مفخر عدیل بتیس روز بعد لاہور پولیس کے سامنے پیش ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق مفخر عدیل نے اپنے قابل اعتماد پولیس افسران کی یقین دہانی پر لاہور پولیس کے اعلی افسران کو گرفتاری دی۔ ملزم سات فروری کی رات کو مفخر عدیل اپنے جگری دوست ایڈووکیٹ شہباز تتلہ کو اس کے دفتر سے گاڑی میں بٹھا کر فیصل ٹاون میں اپنے کرائے کے گھر میں لے کر آیا، جہاں شراب میں نشہ آور گولیاں ڈالیں اور شہباز تتلہ کو پلا کر بیہوش کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا اسی دوران ان کا ایک اور ساتھی اسد بھٹی بھی گھر میں موجود تھا، جنہوں نے شہباز تتلہ کا گلہ گھونٹ کر اسے قتل کیا اور بعد میں تیزاب کی مدد سے اس کی لاش تحلیل کر دی۔ پھر مواد دو چھوٹے ڈرموں میں منتقل کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اسد بھٹی نے بتایا کہ مفخر عدیل نے دونوں ڈرم سرکاری گاڑی میں رکھے اور فیروز پور روڈ پر کنکر پلی کے قریب روہی نالے میں بہا دیئے۔اسد بھٹی کے بیان کے بعد ایس ایس پی کے فیصل ٹاؤن گھر سے کیمیکل کاڈرم قبضے میں لیا گیا تھا، شہباز تتلہ اور مفخر عدیل کے ساتھ اس روز اسد بھٹی بھی موجود تھا،ایس یس پی مفخر عدیل شہباز تتلہ کے اغوا میں ملوث ہے،تفتیش میں سامنے آنے والے حقائق مفخر عدیل کے خلاف ہیں۔اس سلسلے میں پولیس نے ایس ایس پی مفخر عدیل کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا۔ شہباز تتلہ کے اہلخانہ اسے ڈھونڈتے رہے لیکن جب وہ نہ ملا تو نصیر آباد تھانے میں اغوا کی ایف آئی آر درج کروا دی گئی۔
گیارہ فروری کو مفخر عدیل نے گھر سے تمام شواہد مٹائے اور خود لاپتہ ہو گیا۔ پولیس نے اسی دوران پندرہ فروری کو اسد بھٹی کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد کہانی کھلتی گئی۔ مفخر عدیل نے اپنی دوسری بیوی کے ذاتی ملازم عرفان کی مدد سے تیزاب منگوایا تھا اور پوری پلاننگ سے قتل کرنے کے بعد فرار ہوا۔ پولیس نے مفخر عدیل کی گرفتاری کے لیے کوشش شروع کیں لیکن کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ بالآخر پولیس نے روایتی طریقوں سے تفشیش کا اغاز کیا اور مفخر عدیل کی والدہ اور دیگر قریبی رشتے دار حراست میں لے لئے گئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ مفخر عدیل کو جب یہ بات پتہ چلی تو اس نے اپنے قریبی پولیس افسران سے رابطہ کیا جنہوں نے لاہور پولیس کو اعتماد میں لے کر مفخر عدیل کو پولیس کے سامنے پیش کر دیا۔ مفخر عدیل کی گرفتاری کے بعد پولیس اب کیس کو پائے تکمیل پر پہنچانے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے، کیونکہ کیس میں تاحال مقتول کی لاش کا سراغ نہیں لگ سکا، جس کی وجہ سے کیس کی بنیاد کمزور دکھائی دے رہی ہے جس کا فائدہ قاتل کو پہنچے گا۔
خیال رہے ایس ایس پی نےاپنی اہلیہ عیزہ سے 1 لاکھ کی رقم لی تھی جس میں سے مفرور ملزم نےفیصل ٹاؤن میں گھر لے رکھا تھا، مفخر عدیل نے سی ایس ایس کی تیاری کے لیے ایک اکیڈمی بھی بنا رکھی تھی جہاں وہ خواتین کو شادی کا جھانسہ دیتا تھا۔یاد رہے کہ سابق اسسٹنٹ اٹارنی ایڈووکیٹ شہباز تتلہ 7 فروری کو اغواء ہوئے تھے اور ان کے دوست ایس ایس پی مفخر عدیل 12 فروری کی شب اچانک پُراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ ایس ایس پی مفخر عدیل اور سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شہباز تتلہ کے لاپتا ہونے کا معاملہ گزشتہ ماہ سامنے آیا تھا، بغیر درخواست کے ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضری کے بعد پنجاب کانسٹیبلری نے مفخر عدیل کو ڈیوٹی پر نہ آنے کی وجہ سے او ایس ڈی بنانے کے لیے مراسلہ بھیجا تھا۔ کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری نے اپنے مراسلے میں کہا تھاکہ ایس ایس پی مفخر عدیل منگل سے ڈیوٹی پر نہیں آئے، انہوں نے کال کی ہے اور نہ چھٹی کی درخواست بھیجی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button