اساتذہ نما بھیڑیے چینی طالبات کو بھی بھنبھوڑنے لگے

خیبر پختونخواہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات سامنے آنے کے بعد اب تعلیم کے حصول کیلئے چین سے آنے والی ایک طالبہ نے مالاکنڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
گومل یونیورسٹی میں باریش اساتذہ کی طرف سے جنسی ہراسانی کے مختلف واقعات سامنے آنے کے بعد اب چین سے آئی طالبہ من ذو نے مالاکنڈ یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کیا یے اور بتایا ہے کہ وہ مسلسل چھ ماہ اس کے ہاتھوں ہراساں ہوتی رہی اور پھراسے مجبورا پاکستان چھوڑنا پڑ گیا۔
ذرائع کے مطابق چینی طالبہ من ذو مالاکنڈ یونیورسٹی کے انگلش ڈپارٹمنٹ کی دعوت پر ایم فل کرنےپاکستان آئیں لیکن یونیورسٹی میں کلاسزشروع نہ ہوسکیں جس کے بعد انگلش ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر نے اسے یونیورسٹی پبلک اسکول میں 900 روپے دیہاڑی پر لیب اٹینڈنٹ تعینات کروا دیا۔ اس دوران وہ پروفیسر طالبہ کو ہراساں کرتا رہا۔ تاہم چھ ماہ بعد چینی طالبہ نے اپنے ملک واپس جانے کے بعد پاکستان میں چینی سفارتخانے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو پروفیسر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی باقاعدہ شکایت بھجوائی ہے جس پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان نے چینی طالبہ کی جانب سے مالاکنڈ یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر کے خلاف جنسی طورپر ہراساں کرنے کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طورپر انکوائری کے احکامات جاری کردئیے ہیں ۔
گورنر شاہ فرمان نے چینی طالبہ کی طرف سے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے استاد نما بھیڑیے پر جنسی ہراسگی کے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے چینی طالبہ کی شکایت پر انکوائری کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور حکومت واقعے میں ملوث افراد کو ہرگز معاف نہیں کرے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات پر گومل یونیورسٹی میں پہلے ہی حکومت نے کارروائی کی ہے لہٰذا کسی کو معاف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ہم پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی بچیوں کو تعلیمی اداروں میں بھجواتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس قسم کے واقعات کے تدار ک کے لئے فوری اور موثر اقدامات کا فیصلہ کیاگیا ہے اور جو بھی جنسی طورپر طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات میں ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مالاکنڈ یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق چینی طالبہ کی شکایت پر پانچ رکنی کمیٹی قائم کی جاچکی ہے جو معاملے کی چھان بین کررہی ہے۔ مالاکنڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر گل زمان کا کہنا ہے کہ پانچ رکنی کمیٹی الزامات کی تحقیقات کررہی ہے اور چینی طالبہ کا بیان بھی ریکارڈ کیاجائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ چینی طالبہ کئی ماہ تک پاکستان میں مقیم رہی لیکن پاکستان میں موجودگی کے دوران کوئی شکایت درج نہیں کروائی البتہ چین جانے کے بعد اپنی شکایت بھجوائی ہے۔
دوسری طرف چینی طالبہ کا یہ موقف ہے کہ وہ اتنی زیادہ خوفزدہ تھی کہ پاکستان میں رہتے ہوئے پروفیسر کے خلاف شکایت درج نہیں کرواسکتی تھی۔ تاہم انگلش ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر نے چینی طالبہ کی طرف سے عائد کردہ الزامات کومسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد قرارد یا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر صلاح الدین کو طالبات کو فیل کرنے کی دھمکی دے کر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر نوکری سے فارغ کردیا گیا تھا۔ گومل یونیورسٹی کے جنسی درندے گریڈ 21 کے ڈین فیکلیٹی آف اسلامیات پروفیسرحافظ صلاح الدین نے گرفتاری کے بعد دوران تفتیش میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع گومل یونیورسٹی کے عملے پر عرصے سے مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں اور جنسی ہراسگی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور اس بارے میں انکوائریاں بھی کی گئی ہیں لیکن ان کے نتیجے میں دی گئی تجاویز پر کچھ خاص عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
خیال رہے چند ماہ پہلے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کے وائس چانسلر کی بھی ایک لڑکی کے ساتھ قابل اعتراض ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔
خیبر پختونخواہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں پے در پے ہونے والے جنسی ہراسگی کے واقعات پر عوامی و سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دارعناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
