دبئی کے حکمران کی 11 سالہ بیٹی کی سعودی ولی عہد سے شادی کی کوشش

شیخ محمد بن راشد المکتوم سے طلاق کے بعد دبئی سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچنے والی ان کی سابقہ چھٹی اہلیہ شہزادی حیا نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا جاوند زبردستی اپنی 11 سالہ بیٹی شہزادی جلیلہ کی شادی 35 سالہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے کروانا چاہتا تھا۔
یاد رہے کہ اپریل 2019 میں دُبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم کی چھٹی بیوی شہزادی حیا امارات سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچی تھیں۔ اب انہوں نے برطانوی عدالت کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ شیخ محمد بن راشد اپنی پہلی بیوی سے پیدا ہونے والی بیٹیوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک بیٹی کو قید میں بھی ڈال رکھا ہے۔ شہزادی حیا نے عدالت کو بتایا کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے فروری 2019 میں اپنی 11 سالہ بیٹی شہزادی جلیلہ کی 35 سالہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے زبردستی شادی کرانے کی کوشش کی۔ اسی وجہ سے وہ دبئی سے فرار ہو کر برطانیہ آ گئیں۔
دوسری طرف شیخ محمد بن راشد المکتوم کے وکیل نے شہزادی کی طرف سے عائد کردہ تمام الزامات مسترد کرتے ہوئےعدالت کو بتایا کہ ان کے کسی بچے کی بھی زبردستی شادی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کی زبردستی منگنی کی گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ شہزادی جلیلہ کی محمد بن سلمان کے ساتھ زبردستی شادی کا کوئی منصوبہ بھی زیر غور نہیں تھا۔ شیخ راشد المکتوم نے اپنی 13 بیٹیوں میں سے کسی کی بھی اس عمر میں زبردستی شادی نہیں کی۔
واضح رہے کہ شہزادی حیا نے برطانوی عدالت میں اپنے شوہر سے خلع اور بچوں کو اپنے پاس رکھنے کے لیے ایک مقدمہ بھی دائر کر رکھا تھا۔ برطانوی عدالت نے دُبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم کو اپنی دو بیٹیوں کے اغوا کا ذمہ دار ٹھہرا یا تھا۔
شہزادی حیا بنت الحسین اُردن کے موجودہ فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم کی سوتیلی بہن بھی ہیں۔ شیخ محمد سے شادی کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ بیٹی کی عمر 12 سال جبکہ بیٹے کی عمر 8 سال ہے۔ شہزادی حیاء نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے خاوند کی جانب سے سگی بیٹیوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیے جانے کے بعد اپنے دونوں بچوں کے بارے میں بھی بہت زیادہ فکر مند ہو گئی تھیں۔ جس کی وجہ سے انھوں نے دبئی میں سکونت اختیار کرنے کی بجائے خفیہ طور پر برطانیہ پہنچنے کو ترجیح دی اور وہ اپنی جان بچا کر برطانیہ پہنچنے میں کامیاب رہیں۔
شیخ محمد نے برطانوی عدالت سے اس مقدمے کی کارروائی اور فیصلہ خفیہ رکھنے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے اس کے خلاف سُنایا اور مشتہر کر دیا۔ برطانیہ کی عدالت کے جج اینڈریو میکفرلین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شیخ محمد بن راشد پر یہ الزام ثابت ہو گیا کہ انہوں نے 2000ء میں اپنے بڑی بیٹی19 سالہ شہزادی شمسہ کو جو کیمبرج میں زیر تعلیم تھی، زبردستی دُبئی بلوا کر اس کی نقل و حرکت اور آزادی محدود کر دی تھی۔ اس کے بعد اپنی دوسری بیٹی35 سالہ لطیفہ کو بھی 2018ء میں بھارت فرار ہونے کی کوشش کے بعد دُبئی واپس لا کر تین سال سے قید میں ڈال رکھا ہے۔ جج کے مطابق شیخہ لطیفہ سے ایسا ہی سلوک 2002ء میں بھی کیا گیا تھا۔ شیخہ لطیفہ کو دُبئی سے بھارت فرار ہونے کی کوشش میں مدد فراہم کرنے والی اس کی ایک سہیلی نے دعویٰ کیا کہ دُبئی کے فرمانروا کے کہنے پر بھارتی بحریہ نے شیخہ لطیفہ کی کشتی کو بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہونے دیا تھا اور انہیں بھارتی فوجیوں کی تحویل میں دوبارہ دُبئی روانہ کر دیا گیا تھا۔ برطانوی عدالت نے گواہوں کے بیانات سننے کے بعد قرار دیا کہ شیخ محمد اپنی ایک اور شادی سے دو بیٹیوں کے اغوا اور جبری دبئی واپسی کے بھی ذمہ دار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button