پاکستان اور بھارت ہتھیاروں کی خریداری کم، مشرق وسطیٰ نے بڑھا دی

دنیا میں ہتھیاروں کی طلب میں اضافے سے عالمی سطح پر ہتھیاروں کی برآمدات اوردرآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2015 سے 2019 تک عالمی سطح پر ہتھیاروں کی برآمدات میں 2010-2014 کےعرصے کے مقابلے میں 5.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان دنیا میں ہتھیار درآمد کرنے والا گیارواں بڑا ملک بن گیاہے جبکہ 2010 سے 2014 اور 2015 سے 2019 کے درمیان بھارت اور پاکستان کی جانب سے ہتھیاروں کی درآمد میں بالترتیب 32 اور 39 فیصد تک کمی آئی ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سپری کی ایک رپورٹ کے مطابق سویڈن سے تعلق رکھنے والے ادارے نے اپنے نئے اعداد و شمار میں بتایا کہ گزشتہ 5 برسوں میں بھارت دنیا میں ہتھیار درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک تھا۔ اس حوالے سے سپری میں ایک سینئر محقق سیمن ٹی ویزیمین کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کی طرح، سال 2019 میں جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے پر درآمد شدہ بڑے ہتھیاروں کی ایک صف کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی بڑے ہتھیاروں کے برآمد کنندگان دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کو اپنے بڑے ہتھیار برآمد کر رہے ہیں لیکن 2010 سے 2014 اور 2015 سے 2019 کے درمیان بھارت اور پاکستان کی جانب سے ہتھیاروں کی درآمد بالترتیب 32 اور 39 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک اپنے ہتھیار خود تیار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن یہ دونوں ممالک بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتے ہیں اور ان کے پاس بڑے ہتھیاروں کی تمام اقسام کو درآمد کرنے کے لیے آرڈرز اور پلانز موجود ہوتے ہیں۔
سپری کا مزید کہنا ہے کہ 2019 کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرگئی تھی، پاکستان نے مبینہ طور پر چین سے درآمد شدہ جنگی طیارہ استعمال کیا جو روسی انجنز سے لیس تھا اور کارروائی میں حصہ لینے کیلئے امریکا سے درآمد شدہ لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ فضا میں سویڈن سے حاصل کئے گئے قبل از خطرہ اطلاع دینے والے طیارے شامل تھے۔ اس کے علاوہ بھارت نے فرانس اور روس سے درآمد شدہ جنگی طیارے، اسرائیل سے درآمد شدہ گائیڈڈ بم اور سویڈن سے درآمد شدہ توپ خانے کا مبینہ طور پر استعمال کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چین دنیا میں ہتھیاروں کا 5واں بڑا برآمد کنندہ ہے جس نے 2010سے2014 میں پاکستان کو 51 فیصد ہتھیارفراہم کئے جبکہ 2015سے 2019 تک چینی ہتھیاروں کی پاکستان کو برآمدات 73 فیصد رہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ہتھیاروں کی درآمدات میں مجموعی طور پر کمی امریکا کی پاکستان کے لیے فوجی امداد روکنے سے منسلک تھی۔
امریکا نے 2010 سے 2014 میں پاکستان کو 30 فیصد ہتھیاروں کی برآمد کی لیکن 2015 سے 2019 میں یہ صرف 4.1 فیصد تک رہ گئی۔ تاہم 2015 سے 2019 کے میں پاکستان نے یورپی ریاستوں سے ہتھیاروں کی درآمد جاری رکھی جبکہ ترکی کے ساتھ ہتھیاروں کی درآمدات کے ذریعے اپنے تعلقات کو مضبوط کیا اور پاکستان نے سال 2018 میں ترکی کو 30 جنگی ہیلی کاپٹرز اور 4 جنگی جہازوں کے آرڈرز دئیے۔
ادارے کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اٹلی اور ترکی جیسے ہتھیاروں کے بڑے درآمد کنندگان سے ہتھیار خریدنے والے 3 بڑے ممالک میں شامل ہے۔ مزید برآں 2015 سے 2019 میں پاکستان کا اٹلی سے ہتھیاروں کی درآمد کا حصہ 7.5 فیصد تھا جبکہ اسی عرصے میں ترکی کے ہتھیاروں میں یہ حصہ 12 فیصد تک ہوگیا تھا۔
سپری کے مطابق دنیا میں مجموعی طور پر اسلحہ کی منتقلی میں اضافہ ہوا ہے،ہتھیار درآمد کرنے والے ممالک میں طلب بڑھی ہے. امریکا سے شپمنٹ میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد عالمی سطح پر ہتھیاروں کی برآمدات میں اس کا حصہ 36 فیصد ہوگیا ہے 2015 سے 2019 کے درمیان امریکا نے 96 ممالک کو بڑے ہتھیار فراہم کیے.امریکا کے ہتھیاروں کی برآمدات کا آدھا حصہ مشرق وسطیٰ میں گیا اور اس کا بھی آدھا سعودی عرب میں گیا۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہے سعودی عرب کی ہتھیاروں کی درآمدات 2010-2014 کے مقابلے میں 130 فیصد بڑھی ہے اور اس نے 2015-2019 کے درمیان عالمی سطح پر ہتھیاروں کی برآمدات میں سے 12 فیصد وصول کیا ہے۔ امریکا کے ہر4 ہتھیاروں میں سے ایک سعودی عرب نے خریدا ‘ مشرق وسطیٰ کے ممالک نے اس عرصے میں ماضی کے مقابلے میں دو گنا ہتھیار خریدے گئے ہیں۔
دنیا کے دوسرے بڑے ہتھیار برآمد کرنے والے ملک روس سے برآمدات 18 فیصد کم ہوئی جس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کو فروخت میں کمی ہے۔ فرانس کے ہتھیاروں کی برآمدات میں سب سے بڑی تبدیلی سامنے آئی جو گزشتہ 5 سالوں میں 72 فیصد تک بڑھ گئی جس کے بعد فرانس آگے بڑھتے ہوئے دنیا کا تیسرا بڑا ہتھیار برآمد کرنے والا ملک بن گیا جس کی عالمی سطح پر حصہ 7.9 فیصد رہا فرانس کے آدھے سے زیادہ ہتھیار وں اور جنگی جہازوں کے خریدارمصر، قطر اور بھارت ہیں.
واضح رہے کہ امریکا کے بعد اسلحہ برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک بالترتیب روس، فرانس، جرمنی اور چین ہیں.
