شہباز شریف جتنے مرضی ترلے کر لے اس کی گرفتاری یقینی ہے

وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی عادت ہے لیکن وہ جتنی مرضی منت ترلے کر لے اس کو جیل جانا ہی پڑے گا. نیب کے چھاپے کے دوران شہبازشریف اپنے گھر کے پیچھے والے کمرے میں چھپے ہوئے تھے لیکن گرفتاری کے ڈر سے سامنے نہیں آئے.
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ شہبازشریف مفاہمتی کردار ادا کرنا چاہتے ہی ںتاہم عمران خان کو کوئی دلچسپی نہیں۔ شیخ رشید نے اپنی رمضان میں کی گئی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے آپ سب کو پہلے ہی کہا تھا کہ رمضان کے بعد ٹارزن کی واپسی ہو گی، اس کی واپسی کا اندازہ آپ کو شہبازشریف کی رہائش گاہ پر نیب کے چھاپے سے ہو گیا ہو گا۔بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کا کیس سنجیدہ ہے، انہیں جیل جانا ہو گا.
پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ملک بھر میں ٹکٹوں کی فروخت کے لیے تمام کرنٹ بکنگ دفاتر کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد کو آن لائن بکنگ کرنا نہیں آتی اور جن علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں وہاں بھی لوگ کرنٹ بکنگ دفاتر سےبکنگ کرواسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ مجھے لاتعداد لوگ کال کرتے ہیں جنہیں آن لائن بکنگ کا طریقہ کار معلوم نہیں۔
وزیر ریلوے نے بتایا کہ ڈی اے ایز کو ہدایت کردی گئی ہے کہ کہیں بھی کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تشکیل دیے گئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی نہ ہوں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عوام کی سہولت کے پیشِ نظر تمام ٹرینوں کے اوقات کار پر نظرِ ثانی کی جائے گی تا کہ جو صبح سفر کرنا چاہے اسے بھی اور رات کو سفر پر جانا چاہے اسے بھی ٹرین ملے۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آج رحمٰن بابا ایکسپریس اور ہزار ایکسپریس سمیت 10 ٹرینیں دوبارہ چلانے کا اعلان کرنا تھا لیکن کورونا کیسز میں اضافے کے باعث اسے ملتوی کردیا گیا ہے کیوں کہ ہم نہیں چاہتے کہ 60 فیصد سے زیادہ مسافر سوار ہوں۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ ریلوے کو روزانہ تقریباً ایک کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا ہے جو پیٹرول سستا ہونے کی وجہ سے 75 لاکھ روپے ہوگیا ہے لیکن اگر پیٹرول مہنگا ہوگیا تو پھر یہ دوبارہ ایک کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔
سیاسی گفتگو کرتے ہوئے شیخ ریشد نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے شہباز شریف کے گھر پر چھاپے کے موقع پر وہ گھر میں ہی موجود تھے اور پچھلے کمرے میں چھپے ہوئے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست پر اس لیے زیادہ بات نہیں ہوسکتی کیوں کہ مجھے اپوزیشن کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا، ایک مرتبہ پھر انہوں نے دہرایا کہ جو بھی شخص چینی بحران میں ملوث پایا گیا وزیراعظم اسے آئین و قانون کے شکنجے میں لائیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی کابینہ کے آئندہ روز یا اس کے بعد بعد ہونے والے کابینہ اجلاس میں ملک میں آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے فرانزک آڈٹ کا بھی فیصلہ ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آٹا چینی بحران وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا میڈیا اتنا کھیلا جارہا ہے کہ ایک آدمی کی تصویر کو بھی سیاست بنایا جارہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن بے جان اور کیسز میں ملوث ہے، اپوزیشن کی کسی جماعت میں اتنی جرات نہیں کہ وہ عمران خان کی حکومت کے مقابلے میں آئے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے ایک نئی تھیوری پیش کی ہے کہ ملک کو بھارت کی جانب خطرات کا سامنا ہے اسلیے سب یکجا ہو کر افہام و تفہیم سے معاملات لے کر چلیں لیکن عمران خان کو اس مفاہمت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ میں کچھ نہ کچھ چھیڑ چھاڑ ضرور کی گئی ہے لیکن میں اس بات کا حامی ہوں کہ وہ ملک سے باہر گئے تو چلے جانے دو۔اسٹیل ملز ملازمین کی برطرفی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے وہی کرے گی جو فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سمجھ رہے ہیں کہ ان کی کمپنی کی مشہوری ہورہی ہے حالانکہ ان کی کمپنی پر ’ریجیکٹڈ‘ کا ٹھپہ لگ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کیسے لیڈر ہیں جن کے پیچھے پولیس لگی ہوئی ہے، ہم تو خود گرفتاری دے دیا کرتے تھے، حقیقی سیاستدانوں کے جیل سسرال ہوتی ہے لیکن یہ چور سیاستدان ہیں ان کے اوپر کیسز کا انبار لگا ہوا ہے۔لندن سے نواز شریف کی تصاویر کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ باہر جا کر زندگی گزارنا بہت مشکل کام ہے وہ بھلے واک کرتے نظر آئیں لیکن اندر سے پوچھو ان کا کیا حال ہے لاہور لاہور ہے لندن میں کچھ نہیں رکھا۔
