شہباز شریف فیملی کیخلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کیلئے منظور

لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کرلیا۔ احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن ریفرنس پر ابتدائی سماعت کریں گے اور عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹر عاصم ممتاز کو ابتدائی سماعت کے لیے طلب کر لیا۔
خیال رہے کہ شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریفرنس پر اعتراض اٹھایا گیا تھا جسے بعد ازاں ختم کرکے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔نیب کی جانب سے شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت 16 ملزمان کے خلاف دائر ریفرنس 55 جلدوں پر مشتمل ہے۔اس ریفرنس میں شہباز شریف، سلمان شہباز، حمزہ شہباز، رابعہ شہباز ،نصرت شہباز ، نثار احمد ،شاہد رفیق، یاسر مشتاق، محمد مشتاق، آفتاب محمود، محمد عثمان، طاہر نقوی، قاسیم قیوم، فاضل داد عباسی اور علی احمد کو نامزد کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف 4 ملزمان وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں، جن میں شاہد رفیق، یاسر مشتاق، محمد مشتاق اور آفتاب محمود شامل ہیں۔یاد رہے کہ حمزہ شہبازجوڈیشل ریمانڈ پر ہیں جبکہ سلیمان کو لندن سے واپسی میں ناکامی پر مفرور قرار دیا گیا ہے اور شہباز شریف نے عبوری ضمانت حاصل کررکھی ہے۔
واضح رہے کہ 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کنبے کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔
ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔اس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ کے تحت منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔
اس معاملے میں شہباز شریف لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے منظور کردہ ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں، ان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت پیر کو ہونا تھی تاہم متعلقہ بینچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کی سماعت نہ ہو سکی۔
