جلد کرپٹ اور نااہل حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرینگے

اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک بھیانک دور سے گزر رہا ہے اوراس حکومت سے جتنا جلدی ہوسکے چھٹکارا پانا ضروری ہے اور ہم اپنا فرض ادا کرنے کے لیے متحد ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں ملک کی تباہی کا دو سالہ جشن منایا جارہاہے.عاشورہ کے بعد اپوزیشن متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ان کا مزید کہنا تھا کہ صدرکی تقریر میں صرف جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ حکومت نےمذاق کےسوا ملک کے ساتھ کچھ نہیں کیا۔ان کا اقتدار میں رہنا مزید حالات خراب کرےگا۔۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ تبدیلی والوں کا مزید حکمران رہنا ریاست کے لئے خطرہ ہے،، عوام ماتم کر رہی ہے اورحکمران پارلیمنٹ میں خالی ڈیسک بجا رہے ہیں
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجا پرویزاشرف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو دھوکا دینے کی باتیں ہورہی ہیں جو کو کھڑے ہو کر نہیں سن سکتے تھے۔رہنما پی پی پی نے کہا کہ اگر صدر مملکت جو پورے پاکستان کا صدر ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن کی طرح ہاں میں ہاں ملانی ہے تو پھر یہ صدر مملکت کا خطاب نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے کسی کارکن کا خطاب ہوسکتا ہے جس میں ایک بات حقیقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کہاں کھڑی ہے، پاکستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہے، شاید پہلی دفعہ ہوا ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی، حکومت اور عوام، حکومت اور کاروباری حضرات دو مختلف علاقوں میں کھڑے ہیں جہاں ان کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بالکل درست فیصلہ کیا، ہمارے پاس دو راستے تھے، ہم وہاں بیٹھ کر وہ تمام باتیں سنتے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یا پھر پاکستان کے عوام کو دھوکا دینے کی باتیں وہاں بیٹھ کر سنتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جو جھوٹ بولا جائے کیا اس کو سنتے، پاکستان کے صریحاً دھوکا ہورہا ہے، پاکستان کے نوجوانوں، عام لوگوں کے ساتھ دھوکا ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ سب نہیں سن سکتے تھے اس لیے پارلیمنٹ سے باہر آئے ہیں اور عوام کو کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جو خطاب ہورہا ہے صرف پارلیمانی ضرورت کے علاوہ اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
راجاپرویز اشرف نےکہا کہ جو کچھ بھی کہا جارہاہے وہ صریحاً جھوٹ پر مبنی ہے، پاکستان مشکل کا شکار ہے اور ایک بھیانک دور سے گزر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بہت مجبور قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں اور ہماری جمہوریت کے اوپر بڑے سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، یہ ایک ایسا دور ہے جس سے جنتا جلد ہوسکے جان چھڑائی جائی ضروری ہوگا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی اپوزیشن متحد ہے اور جس طرح کہا گیا ہے کہ بہت جلد لائحہ عمل دیا جائے گا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس صدر مملکت کے خطاب اور وزیراعظم عمران خان کی اسمبلی میں موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ انہوں نے عوام کو یہ موقع دینے کو بھی تیار نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم جدوجہد جاری رکھیں گے، عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری بات عوام کی بات ہے۔
راجاپرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری ان کو سمجھ چکا ہے اور انہیں افسوس ہے، سوشل میڈیا میں لوگ کہتے ہیں کہ میں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا لیکن میں شرمندہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ لوگ مایوس ہوچکے ہیں، پاکستان کی اپوزیشن متحد ہے اورہمارا یک نکاتی ایجنڈا جمہوریت ہے اور ہم سمجھتے ہیں جتنا اس حکومت سے چھٹکارا ملے وہ پاکستان کے حق میں ہے، ہم اپنا فرض پورا کریں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ پاکستان کے عوام کے سامنے ان کا اصل چہرہ سامنےآئے اور لوگ ان کے کرتوت سمجھ جائیں جبکہ انہوں نے بلند بانگ دعوے کیے لیکن آج پاکستان میں ان کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کی کارکردگی عوام کے سامنے لانا ضروری تھی اور آج سب کچھ کے عوام کے سامنے آگیا ہے اور عوام کو ان کی کارکردگی کے حوالے سے سب پتہ چل گیا۔
اپوزیشن کے اتحاد پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پہلے بھی متحد تھی اور اب بھی متحد ہے اور اس نکتے پر متحد ہے کہ عمران خان اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے ہیں۔راجا پرویز اشرف نے ایک سوال پر کہا کہ اے پی سی پر کوئی ابہام نہیں ہے اور بھرپور اے پی سی ہوگی، رہبر کمیٹی وقت اورمقام سمیت تمام معاملات طے کرے دی۔
قبل ازیں صدر مملکت نے قومی اسمبلی میں مشترکہ اجلاس سے خطاب شروع کیا تو اپوزیشن نے احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی جس کے بعد واک آؤٹ کیا لیکن صدر مملکت نے اپنا خطاب جاری رکھا۔ان کا کہنا تھا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو اس قوم نے ماضی سے سیکھی ہیں، پہلا یہ کہ آپ لوگوں نے ملکر دہشت گردی کا مقابلہ کیا، پاکستان وہ واحد قوم ہے جس نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا، میں فوجیوں، سیاستدانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی دوسری جیت افغان مہاجرین کو پناہ دینا ہے، 35 لاکھ افغان مہاجرین کو دل سے پناہ دی، کسی حکومت یا اپوزیشن نے اس کے خلاف بات نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں جو انسانی حقوق پر تبصرہ کرتے ہیں وہ 100 مہاجرین کو اپنے ملک میں آنے نہیں دیتے لیکن پاکستان 35 لاکھ مہاجرین کو دل سے لگائے بیٹھا ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ تیسری بڑی جیت انتہا پسندی کے خلاف ہے، جب ہم اپنے پڑوسی ملک میں دیکھتے ہیں جہاں انتہاپسندی جنم پارہی ہے۔صدر مملکت کاکہنا تھا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو قرضوں کا بوجھ تھا اور کرپشن کا بازار گرم تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ معیشت تیزی سے زوال پذیر تھی۔ڈاکٹر عارف علوی نے معیشت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر سے ساڑے 3 ارب ڈالر پر آگیا۔
