میشا کو ہراساں کرنے والے علی ظفر سے سول ایوارڈ واپس لینے کا مطالبہ


خواتین کے حقوق سے متعلق آواز اٹھانے والی مختلف تنظیموں نے گلوکارہ میشا شفیع کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے نامور گلوکار علی ظفر کو حکومت پاکستان کی جانب سے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیے جانے پر اعتراض اٹھایا ہے اور اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ صدر مملکت نے رواں برس 14 اگست کو ‘ یوم آزادی ‘کے موقع پر 184 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کے لیے سول ایوارڈز کا اعلان کیا تھا جنہیں 23 مارچ 2021 کو ‘یوم پاکستان’ کے موقع پر منعقد کی جانے والے تقریب میں ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔ گلوکاری اور اداکاری کے شعبوں سے وابستہ علی ظفر کے لیے اعلان کردہ تمغہ حسن کارکردگی حکومت پاکستان کی طرف سے ایک شہری اعزاز ہے جو پاکستان میں ادب، فنون، کھیل، طب، سائنس اور دیگر شعبوں میں اعلی کاردکرگی دکھانے والوں کو سال میں ایک دفعہ دیا جاتا ہے، صدر پاکستان نے اس سال جن شخصیات کو سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیا ہے ان میں گلوکار علی ظفر بھی شامل ہیں۔ علی ظفر نے حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کے لیے نامزدگی پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا اور نامزدگی کو بہت بڑا اعزاز قرار دیا تھا۔
علی ظفر کے لیے حکومتی ایوارڈ کے اعلان کے چند روز بعد اداکارہ عفت عمر نے سول ایوارڈز کی نامزدگی سے متعلق ایک تنقیدی ٹوئٹ کی تھی لیکن کسی کا نام نہیں لیا تھا۔ عفت عمر نے اہنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ صرف پاکستان میں ہی یہ ممکن ہے کہ حکومت کی ایک خاتون کو ہراساں کرنے والے شخص کو ایوارڈ دے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کس شخص کے حوالے سے بات کررہی ہیں تاہم لوگوں نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ عفت عمر گلوکار علی ظفر کے بارے میں بات کررہی ہیں جن پر اداکارہ صبا حمید کی گلوکارہ بیٹی میشاشفیع کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے۔ اس ٹویٹ کو کئی خواتین نے دوبارہ سے ٹویٹ کیا تھا جس کے بعد اب عورت مارچ، عورت آزادی مارچ، ویمن ایکشن فورم اور تحریک نسواں کی جانب سے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے ایک خط میں علی ظفر کو سول ایوارڈ دینے سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا گیا ہے۔
اس حوالے سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ ہم پاکستانی معاشرے کو مزید مساوی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں تا کہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے اور کام کی جگہ پر تشدد کا خاتمہ ہو۔ خط میں کہا گیا کہ ہمارا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت تمام سیاسی اداروں اور مشینری میں برابری اور انصاف کو شامل کرنے کے مینڈیٹ پر کام کررہی ہے اور پاکستانی خواتین، ٹرانس ویمن اور دیگر پسماندہ طبقات کے تحفظ ان کا خصوصی فرض ہے۔ مذید کہا گیا کہ صدارتی دفتر کی جانب سے گلوکار علی ظفر کو تمغہ حسن کارکردگی دینے کے فیصلے پر ہمیں شدید تشویش ہے کیونکہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد ہیں اور اس حوالے سے مقدمات تاحال جاری ہیں۔
حقوق نسواں کی تنظیموں نے اپنے مشترکہ خط میں کہا کہ ہم اس تمغے کی میراث کو داغدار ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ مزید کہا گیا کہ قصوروار ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ ہوتا ہے لیکن علی ظفر کے خلاف سپریم کورٹ میں ہراسانی سے متعلق ایک اپیل زیر التوا ہے اور ہتک عزت کا ایک مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ لاہور میں زیر التوا ہے جبکہ اس دوران یہ اعزاز دیے جانے کا وقت انتہائی پریشان کن اور بے حسی پر مبنی ہے۔ یہ فیصلہ پریشان کن اس لیے ہے کیونکہ اس سے تاثر جاتا ہے کہ ریاست پاکستان نادانستہ طور پر زیر التوا فیصلوں سے قطع نظر جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
خواتین تنظیموں نے مزید کہا کہ صدر پاکستان کی جانب سے علی ظفر کے لیے اعلان کردہ ایوارڈ ایسی ثقافت کو فروغ دینے کے مترادف ہے جہاں جنسی مس کنڈکٹ کو سنجیدہ نہیں لیاجاتا۔ خط میں علی ظفر کے انتخاب پر نظرثانی پر زور دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسے اس وقت تک کے لیے ملتوی کردیا جائے جب تک ان کے خلاف گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے لگائے گے الزام کے حوالے سے تمام تر قانونی معاملات مکمل نہیں ہوجاتے۔
اسکے ساتھ ہی وزیراعظم سے ملازمت کی جگہوں کو جنسی ہراسانی سے پاک بنانے پر غور کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
خط میں وزیر اعظم سے یہ درخواست بھی کی گئی کہ ان معاملات پر فوری طور پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ حکومت پاکستان کے دفاتر کو امتیازی نظاموں، علامات، معیار سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ علی ظفر کے خلاف بہت ساری خواتین نے اپریل 2018 کے بعد اس وقت سوشل میڈیا پر الزامات لگانا شروع کیے تھے جب کہ میشا شفیع نے ان پر ٹوئٹ کے ذریعے جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے۔ علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے گلوکارہ کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے پر لاہور کے سیشن کورٹ میں ایک ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر درجنوں سماعتیں ہو چکی ہیں۔سیشن کورٹ میں علی ظفر اور ان کے 11 گواہوں کے بیانات مکمل ہوچکے ہیں اور اب میشا شفیع کے گواہوں کے بیانات قلم بند ہوں گے، اسی کیس میں میشا شفیع اور ان کی والدہ اداکارہ صبا حمید بھی اپنا بیان ریکارڈ کروا چکی ہیں۔
اسی عدالت میں میشا شفیع نے بھی علی ظفر کے خلاف 2 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے جس پر عدالت نے کیس کی سماعت روک رکھی ہے اور حکم دیا ہوا ہے کہ پہلے علی ظفر کے ہرجانے کے کیس کا فیصلہ ہوگا۔ واضح رہے کہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے والی خواتین میں سے دو معافی بھی مانگ چکی ہیں جن میں صوفی نامی ٹوئٹر صارف اور خاتون بلاگر مہوش اعجاز شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button