شہباز شریف کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا آسان کیسے ہو گیا؟

تحریک انصاف کے 35 اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے بعد اب وزیراعظم شہباز شریف کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا کافی آسان ہوگیا ہے کیونکہ قومی اسمبلی کا 342 رکنی ایوان 35 ارکان کے فارغ ہونے کے بعد سکڑ کر 307 رکنی بنچ گیا ہے، لہٰذا اب اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے اس کے دو تہائی ارکان کی اکثریت 169 بنتی ہے۔ ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کیلئے اعتماد کا ووٹ لینا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر عمران خان کے ایما پر صدر عارف علوی نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا تو ایم کیو ایم کے پانچ ووٹوں کے بغیر بھی شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ مل جائے گا۔ یاد رہے کہ 11 اپریل 2022 کو وزیر اعظم کی حیثیت سے شہباز شریف کو 174 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا تھا جبکہ وزیر اعظم بننے کیلئے 172 ارکان کی اکثریت دکھانا آئینی تقاضا ہے، اس طرح شہباز شریف دو اضافی ووٹوں سے وزیر اعظم بنے تھے۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے اپنے ارکان کے استعفوں کی منظوری کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے کہا ہے کہ وہ سپیکر کو مجبور کریں گے کہ پی ٹی آئی کے تمام اراکین قومی اسمبلی کے استعفے قبول کیے جائیں۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف تمام نشستوں پر الیکشن لڑے گی اور عمران خان ہی ان 33 نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدوار ہوں گے۔ تاہم حکمراں اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ انکی جانب سے ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔ استعفوں کی منظوری کے حوالے سے حکومتی ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف کے 35 اراکین کو اچانک ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا بلکہ اس کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں۔ انکا کہنا یے کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے چند روز قبل سابق سپیکر اسد قیصر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے بعد 35 اراکین قومی اسمبلی کی فہرست تیار کروائی تھی۔ یہ نام ایاز صادق، سعد رفیق، نوید قمر اور اسعد محمود کی مشاورت سے فائنل ہوئے تھے اور سپیکر پرویز اشرف نے 35 استعفوں کو قبول کرکےفائل اپنے پاس رکھی ہوئی تھی۔سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے 35 اراکین کے استعفے قبول کرنے کا نوٹیفیکیشن انتہائی خفیہ رکھا اور عمران کی جانب سے قومی اسمبلی واپس جانے کے عندیہ کے فوری بعد انہیں قبول کرنے کا نوٹیفکیشن پبلک کر دیا۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کو 35 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے قبول کرنے کی خبر سے شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ وزیر اعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے چکر میں ڈالنے کی منصوبہ بندی ناکام ہو گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ استعفے منظور ہونے کے بعد عمران اپنے ساتھیوں پر سخت برہم ہوئے۔ وہ چاہتے تھے کہ صدر علوی شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا کہیں اور ناکامی کی صورت میں نیا قائد ایوان چنا جائے۔ عمران چاہتے تھے کہ کسی طرح ان کا نمائندہ قائد ایوان منتخب ہوجائے۔ لیکن استعفوں کی منظوری سے عمران کی ساری سکیم پر پانی پھر گیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے 35 ارکان کے استعفوں کی منظوری سے خالی نشستوں پر ضمنی انتخابی شیڈول آئندہ ہفتے جاری ہو گا۔ الیکشن کمیشن کو 60 روز کے اندر ضمنی انتخابات کرانا ہونگے جس میں 45 روز کا انتخابی شیڈول شامل ہو گا۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ڈسٹرکٹ اور ریٹرننگ افسروں کی تقرری کا کام اسی ہفتے مکمل ہو جائیگا۔ توقع ہے کہ 35 خالی نشستوں پر 15 مارچ کو پولنگ کرا ئی جائیگی۔ اس دوران پی ڈی ایم نے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا یے کہ تمام 35 نشستوں پر عمران خان امید وار ہونگے۔ دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن خان صاحب کو نا اہل قرار دے چکا ہے، اس لئے وہ 35 سیٹوں پر الیکشن نہیں لڑ سکتے تاہم پی ٹی آئی والوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی نا اہلی صرف اس سیٹ کیلئے تھی جس پر وہ 2018 میں منتخب ہوتے تھے اور وہ میانوالی کی نشست تھی، انہوں نے یاد دلایا کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے بعد بھی عمران خان قومی اسمبلی کی 9 سیٹوں پر الیکشن لڑے اور 7 پر کامیاب ہوئے تھے۔ اس سے پہلے ریٹرننگ افسروں نے انکی نا اہلی کے اعتراضات مسترد کر دیئے تھے۔
