شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

اسلام آباد کی عدالت نے بغاوت کے مقدمہ میں زیر حراست پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

شہباز گل کو 2روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر سخت سکیورٹی میں ایف ایٹ کچہری پہنچایا گیا۔عدالت میں اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ہر دن اسلام آباد پولیس ملزم شہباز گل سے تفتیش کر رہی ہے، ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا گیا، ملزم کی حراست بہت ضروری ہے، ان کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرانا ہے، ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی۔

رضوان عباسی نے کہا کہ 48 گھنٹوں کے ریمانڈ میں فونز، 4 یو ایس بیز اور ملزم کے کمرے کی تلاشی لی گئی، ابھی بھی ہمیں کچھ سوالات کے جوابات درکار ہیں، مرکزی موبائل فون جو شہباز گل استعمال کرتا تھا اس کی برآمدگی مقصود ہے۔

عدالت نےکہا پولی گرافک ٹیسٹ کی پہلے ریمانڈ میں استدعا نہیں کی گئی تھی؟ جس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پچھلے ریمانڈ میں استدعا نہیں تھی، جو ریمانڈ معطل ہوا اس میں تھی، واردات میں استعمال کیا گیا موبائل فون ابھی تک برآمد نہیں کیا جا سکا۔

عدالت نے کہا حکم نامے میں تو کہہ رہے تھے کہ پولی گرافک ٹیسٹ اسلام آباد میں ہوتا ہے، جس پر رضوان عباسی نے کہا کہ وہ شاید کا لفظ ہے، اگر اسلام آباد میں ہوتا ہے تو ادھر سے ہی کروا لیں گے، کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی کچھ تفتیش باقی ہے، ملزم سے کچھ برآمدگی اور ملزمان سے متعلق پوچھ گچھ کرنی ہے۔

وفاقی پولیس نے شہباز گل کے مزید 7 روز کے ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اسلحے کے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا ہے۔

اس دوران پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو کمرہ عدالت میں جانے سے روک دیا جس پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کے عدالت کے باہر نعرے بازی شروع کر دی۔ پی ٹی آئی رہنما علی نواز نے عدالت میں داخلے کی اجازت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کو ٹارچر کیا جا رہا ہے، ہمیں سماعت بھی سننے نہیں دی جا رہی، اسلام آباد پولیس گلو بٹ بنی ہوئی ہے۔

جس کے بعد عدالت نے شہباز گل کے مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

Back to top button