شہدا کی قربانیوں کا مذاق اڑانے والی مہم خوفناک تھی

وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں شہید ہونے والے جوانوں کے بارے میں سوشل میڈیا مہم چلانے پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے شہدا کی قربانیوں کا تمسخر اڑانے اور انہیں برا بھلا کہنے کی سوشل میڈیا مہم صرف شرمناک ہی نہیں خوفناک بھی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شہباز شریف نے کہا متکبراورمنافقانہ سیاسی نظریے کا یہی نتیجہ ہے کہ یہ کم سن ذہنوں میں زہر گھول کر بدتہذیبی کو ترویج دیتا ہے۔

وزیراعظم نے کہاآخر ہمارا معاشرہ کس سمت جارہا ہے، ہمیں شدت سے خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

ادھر پیپلزپارٹی نے پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا، پی پی رہنما سلیم مانڈوی والا نے ایک بیان میں کہا کہ ایک پارٹی کی جانب سے پاک فوج کے خلاف مسلسل پروپگینڈا کیا جارہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے، تحقیقات کی جائیں کہ پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کس کی ہدایات اور ایما پر کیا جارہا ہے، ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کرکے حقائق سامنے لانے چاہیے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر چند لوگوں نے غلط قسم کا پروپیگنڈا کیا، تضحیک آمیز اور غیر حساس تبصرے شروع کر دیے جو انتہائی تکلیف دہ ہے، بے حسی کا رویہ ناقابل قبول ہے اور ہر سطح پر اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یکم اگست کو ہونے والا حادثہ بہت افسوس ناک تھا، جس میں کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈ بریگیڈیئر امجد حنیف، 12 کور کے انجینئر بریگیڈیئر محمد خالد، ہیلی کاپٹر کے 2 پائلٹ اور کریو چیف شہید ہوگئے تھے، یہ سیلاب کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

میجرجنرل بابرافتخار نے بتایا کہ پہلے ہی شہدا کے اہل خانہ اور پوری قوم کرب ناک کیفیت سے گزر رہی تھی، اس دوران اس طرح کی قیاس آرائیاں کرنا، اور اپنی ذاتی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر اس قسم کے تبصرے دینا بہت ہی غیر حساس تھا، جس کی وجہ سے ادارے، افسران، جوانوں اور خاص طور پر شہدا کے لواحقین کو بہت تکلیف پہنچی۔

ادھر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہیلی کاپٹر حادثے کے شہدا کی نمازِ جنازہ میں اپنی عدم شرکت کے حوالے سے افواہوں کی تردید اور واضح الفاظ میں مذمت کی تھی۔ گزشتہ شب سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘شہدا کے جنازے میں میری عدم شرکت کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جارہا ہے۔گزشتہ شب سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شہدا کے جنازے میں میری عدم شرکت کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جارہا ہے، اس تمام غیر ضروری مشق سے مجھے نفرت انگیز ٹوئٹس کرنے والوں کی واضح الفاظ میں مذمت کرنے کا موقع ملتا ہے جو ہماری ثقافت اور ہمارے مذہب سے ناواقف ہیں۔

یاد رہے کہ یکم اگست کو بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف پاک فوج کا ہیلی کاپٹر لاپتا ہوگیا تھا جس میں کور کمانڈر سمیت 6 افراد سوار تھے، بعد ازاں 2 اگست کو لاپتا ہوجانے والے فوجی ہیلی کاپٹر کا ملبہ مل گیا تھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت تمام 6 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کی۔

اس کے بعد ایسی افواہیں گردش میں تھیں کہ صدر عارف علوی بطور سربراہ مملکت شہید فوجی جوانوں کے جنازوں میں شرکت کے خواہاں تھے مگر مبینہ طور پر پی ٹی آئی ٹرولرز کی جانب سے شہدا سے متعلق منفی پروپیگنڈے کے باعث شدید غم و غصہ پائے جانے کے پیش نظر انہیں شہدا کے جنازوں میں شرکت نہ کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔

Back to top button