شہریار آفریدی نے جھوٹی قسمیں کس کے کہنے پر کھائیں؟

وفاقی کابینہ کے 31 دسمبر کو ہونے والے وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں جب رانا ثنا اللہ خاں معاملے پر شہریار آفریدی اور ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف خٹک کی کھنچائی ہوئی تو آفریدی نے انکشاف کیا کہ میں نے اے این ایف کے سربراہ کے کہنے پر قسمیں کھائی تھیں کیونکہ عارف ملک نے میرے سامنے اپنے بچوں کی قسمیں کھا کر یقین دلایا تھا کہ رانا ثناء کے خلاف ناقابلِ تردید ویڈیو ثبوت واقعی موجود ہیں۔ بعد ازاں آفریدی ڈی جی اے این ایف کو لیکر وزیراعظم عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ گئے جہاں پر انھیں یقین دلایا گیا کہ رانا ثناء کے خلاف کیس مضبوط شواہد کی بنیاد پر بنایا گیا ہے اور اے این ایف بطور ادارہ اس کی ذمہ داری لیتا ہے۔ چنانچہ ڈی جی اے این ایف اور شہریار آفریدی کو پریس کانفرنس کرنے کے لیے کہا گیا جس کے دوران دونوں نے یہ دعوی کیا کہ ان کے پاس رانا ثناء کی منشیات برآمد گی کے وڈیو ثبوت موجود ہیں تاہم بعدازاں عدالت میں یہ دعوی جھوٹا ثابت ہوا اور حکومت کے منہ پر کالک ملی گئی۔
شہریار آفریدی کی طرف سے یہ انکشاف ہونے کے بعد ڈی جی اے این ایف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دوبارہ کہا کہ ان کے پاس رانا ثنااللہ کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں لیکن ان میں کوئی ویڈیو موجود نہیں۔ اس پر وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے غصے میں آ کر کہا کہ عدالتیں خالی قسمیں نہیں بلکہ ثبوت مانگتی ہیں اور جب آپ کے پاس ثبوت نہیں تھے تو پھر آپ نے پوری حکومت کو رسوا کیوں کروایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کھچ مارنے کے بعد ڈی جی اے این ایف کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنا اس حکومت کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چوہدری فواد اور دیگر وزرا نے بھی رانا ثناء اللہ کے معاملے پر اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور اسے حکومتی سبکی اور رسوائی کا باعث قرار دیا جس سے حکومت کا احتسابی بیانیہ ہوا ہو گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ منشیات کیس میں ثبوت سامنے نہ آنے اور ضمانت کے فیصلے میں عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے حوالے سے بھی وفاقی کابینہ نے گہری تشویش اورپریشانی کا اظہار کیا۔ کابینہ کے اجلاس میں میجر جنرل عارف ملک اور شہریار آفریدی کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ڈی جی اے این ایف سے پوچھا کہ آپ رانا ثناء اللہ کیس کے فوٹیج سامنے کیوں نہیں لائے؟ آپ کے دعوے کے مطابق اگر رانا ثناء اللہ کے ساتھ پورا گینگ تھا تو ان کا جسمانی ریمانڈ کیوں نہیں لیا؟ رانا ثناء اللہ کو اتنے دن جیل میں رکھا مگر ان کے بیان کی ایک ویڈیو تک ریکارڈ نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں جتنا آپ کو جانتا ہوں یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ نے کسی پر ہیروئن کا الزام لگوا کر مقدمہ بنوایا ہو۔اس موقع پر فواد چوہدری نے جون ایلیا کا یہ شعر بھی پڑھا کہ”میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس،،،، خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں“۔
کابینہ اجلاس میں شریک وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ کا مؤقف تھا کہ رانا ثناء کیس کا چالان بہت کمزور ہے، اسے یا تو بہت نااہل لوگوں نے بنایا ہے یا ملزم کو فائدہ پہنچانے کیلئے ایسا کیا گیا۔وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اے این ایف نے پورے ملک میں ہمارا مذاق بنوایا، اے این ایف کی نااہلی اس کیس میں واضح ہے، عدالتوں کو قسمیں نہیں ثبوت چاہئے ہوتے ہیں۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اے این ایف نے اتنا کمزور کیس بنایا کہ راناثناء اللہ باہر آگئے، اتنا کمزور کیس بنانے پر میجر جنرل عارف کو برطرف کردینا چاہیے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے سوال اٹھایا کہ جب اپریل میں وزارت قانون کو خصوصی عدالت کے جج مسعود ارشد کی تبدیلی کیلئے اے این ایف نے درخواست کر دی تھی تو اس بارے میں میڈیا کو کیوں نہیں بتایا۔ کیوں اس تاثر کو تقویت دی گئی کہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد جج کو بدلا گیا۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ کیخلاف مضحکہ خیز کیس بنایا گیا ہے۔
وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ اے این ایف نے تو تفتیش کے بنیادی سوالات کو ملحوظ خاطر ہی نہیں رکھا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء نے یہ بھی استفسار کیا کہ اے این ایف نے بروقت میڈیا کو بریف کیوں نہیں کیا؟ سیف سٹی منصوبے کے کیمروں میں وقت کا فرق کیوں آرہا ہے؟ ذرائع نے بتایا کہ ڈی جی اے این ایف کا کہنا تھا کہ ہم نے انٹری کی بجائے ایگزٹ کا ٹائم لے لیا تھا، ہمارا مقصد ملک کو منشیات سے پاک کرنا ہے، کسی پرالزام تراشی کرنا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوئی سیاسی وابستگی نہیں، ہم حکومت کے ملازم ہیں، ہم نے کسی پرسیاسی کیس نہیں ڈالا بلکہ جو کیا وہ حقائق پر مبنی ہے۔
خیال رہے کہ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو یکم جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔ رانا ثناء اللہ نے عدالت سے رجوع کیا اور پھر 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔رانا ثناء اللہ کی جانب سے 10، 10 لاکھ روپے کے دو حفاظتی مچلکے جمع کرائے جانے کے بعد 26 دسمبر کو انہیں رہا کر دیا گیا۔ رانا ثنا اللہ کی ضمانت منظور ہونے کے بعد شہریار آفریدی اور اے این ایف کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے میرا نام لے کر گرفتاری کی ہدایت کی تھی کیونکہ گرفتاری سے قبل رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی سے متعلق قابل اعتراض گفتگو کی تھی۔ واضح رہے کہ رانا ثناء اللہ خان کی گرفتاری کے بعد وزیر مملکت شہریار آفریدی نے اے این ایف کے سربراہ میجر جنرل عارف ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں باقاعدہ پریس کانفرنس میں علی الاعلان کہا تھا کہ ان کے پاس رانا ثنا اللہ کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں جو وقت آنے پر عدالت کو فراہم کئے جائیں گے تاہم چھ ماہ رانا ثنا اللہ زیر حراست رہے درجنوں پیشیاں ہوئیں مگر عدالت کی جانب سے بارہا ثبوت طلب کئے جانے کے باوجود شہریار آفریدی اور اے این ایف عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ اس سارے عرصے میں شہریار آفریدی قسمیں کھاکر اور اللہ کو گواہ بناکر الزام عائد کرتے رہے۔ یہاں ایک سوال کا جواب سامنے آنا ابھی باقی ہے کہ اگر بالفرض شہریار آفریدی سچ بول رہے ہیں تو پھر اے این ایف کے سربراہ میجر جنرل عارف ملک نے کس کے کہنے پر رانا ثنااللہ کے خلاف اتنا بڑا الزام لگایا اور اس کے لئے بھی محض کھوکھلے دعووں کا سہارا لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button