شہریار آفریدی کے انتقام کی کہانی، ایک صحافی کی زبانی


جھوٹ بولتے وقت ‘جان اللہ کو دینی ہے’ کا تکیہ کلام استعمال کرنے والے شہریار آفریدی مسئلہ کمشیر اجاگر کرنے کے بہانے سے سرکاری خرچ پر فرانس تو گھوم آئے لیکن اپنے دورے کے دوران مسئلہ کشمیر بھلائے رکھنے کا یہ جواز پیش کیا کہ وہ اسلام دشمن فرنچ حکام سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ یاد رہے کہ کشمیر کمیٹی کا سرکاری وفد جب بھی کسی دوسرے ملک جاتا ہے تو وہاں کے پارلیمنٹرین سے ملاقات کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتا ہے۔
کشمیر کمیٹی کے حالیہ دورہ فرانس میں مسئلہ کشمیر پر اپنی کارکردگی بارے سوال کرنے کی پاداش میں شہریار آفریدی کی جانب سے بدزبانی اور دھمکیوں کا شکار ہونے والے پیرس میں مقیم پاکستانی صحافی یونس خان کا دعویٰ ہے کہ آفریدی نے فرانس میں سیر سپاٹے اور سیایس مخالفین کو ملعون مطعون کرنے کی سوا کچھ نہیں کیا۔ انکے مطابق جب میں ان سے پوچھا کہ آپ نے ابتک کس فرانسیسی تھنک ٹینک یا فرنچ پارلیمنٹیرین سے مسئلہ کشمیر پائی لائٹ کرنے کے لیے ملاقات کی ہے تو وہ بہانے بازی کرنے لگے اور بولے کہ میں جب سے پیرس پہنچا ہوں اپنے آدھے سر کے درد کا علاج کروانے میں مصروف ہوں اس لیے مجھے وقت نہیں ملا، لیکن انشاءاللہ میں اگلے دورہ فرانس میں یہ کام ضرور کروں گا۔ یونس خان کے مطابق اسکے بعد آفریدی نے فون کال پر مجھے بتایا کہ چونکہ فرانس کی حکومت گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے قبیح جرم میں شامل ہے اس لئے میں فرنچ حکام سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کے بعد شہریار آفریدی کی ایک آڈیو کال وائرل ہوگئی جس میں وہ پیرس میں مقیم پاکستانی منتظمین کو اس بات پر اکسا رہے تھے کہ وہ یونس خان کو نشان عبرت بنائیں چونکہ اس نے بھری محفل میں انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر امور کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے دورہ فرانس کے دوران کشمیری کمیونٹی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی اور دو گھنٹے سے زائد تقریر کی لیکن اس تقریر میں وہ کشمیر کے بجائے اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے رہے۔ تقریب کے احتتام پر ان سے پاکستانی نژاد صحافی یونس خان نے سوال کرنے کی جسارت کی تھی۔ صحافی نے شہریار آفریدی سے پوچھا کہ آپ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ آپ کا کام پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر پر سفارت کاری میں کردار ادا کرنا ہے۔ آپ فرانس میں ہیں، آپ یہاں کس تھنک ٹینک سے ملے؟ کیا آپ نے کشمیر پر کسی رکن پارلیمنٹ سے بات کی ہے؟ اس سوال کے جواب میں شہریار آفریدی آئیں بائیں شائیں کر کے فارغ تو ہو گئے لیکن سخت شرمندہ بھی ہوئے۔
سوال پوچھنے والے صحافی یونس خان کے مطابق انہوں نے سوال و جواب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور مختلف چینلز نے اسے خبر کو طور پر چلایا جس پر آفریدی نے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ یونس کا دعویٰ کیا کہ اس کے بعد پی ٹی آئی میں موجود میرے دوستوں سے رابطہ کیا گیا تاکہ میں ویڈیو ڈیلیٹ کر دوں۔ اس کے علاوہ پاکستانی سفارت خانے کے افسران کی جانب سے بھی یہ ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کی درخواست آئی لیکن میں نے معذرت کر لی۔ بعد ازاں آفریدی نے یونس خان کے ایک دوست سے رابطہ کرکے ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کا کہا لیکن دوبارہ انکار ہو گیا۔
یونس خان کہتے ہیں کہ میں نے وزیر صاحب سے ویڈیو ڈیلیٹ کرنے سے معذرت کرتے ہوئے انہیں بتایا تھا کہ فرانس اور پاکستان کے تعلقات کی خرابی کی وجہ توہین آمیز خاکے نہیں بلکہ انڈیا اور فرانس کے اچھے تعلقات ہے لہذا اپ اس ایشو پر مذہب کارڈ استعمال نہ کریں۔ یونس خان کے انکار کے بعد آفریدی نے ایک کھانے کے دوران انکے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے تقریب کے منتظمین کو ہدایت کی کہ مجھے نشان عبرت بنا دیا جائے۔ یونس خان کے مطابق ڈنر گفتگو کی آڈیو میں آفریدی کو اللہ کی قسم کھاتے ہوئے یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اگر منتظمین نے میرے خلاف کارروائی نہ کی تو وہ انہیں چھوڑیں گے نہیں۔ یونس کے مطابق آفریدی نے لوگوں کو میرے خلاف تشدد پر اکسانے والی زبان استعمال کی اور مجھے رگڑا دینے پر زور دیتے رہے۔ ان کے الفاظ کافی سخت اور غیر پارلیمانی تھے اور یہاں کے فرانسیسی اور یورپین قوانین کے بھی خلاف تھے۔
یونس خان کہتے ہیں کہ شہریار آفریدی شاید یہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستان میں نہیں بلکہ یورپ میں ہیں اور یورپ میں اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے انتہائی سخت قوانین موجود ہیں۔ جو الفاظ استعمال کئے گئے وہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ بقول یونس خان اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے جب ایک وزیر موصوف جو اپنی وزرات کے حوالے سے ایک سادہ سے سوال کا جواب نہیں دے سکتے وہ کیسے دنیا کو کشمیر کے مسئلے کے بارے میں اگاہ کر سکتے ہیں ؟ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اس پست ذہنی معیار کا حامل آدمی چیئرمین کشمیر کمیٹی کیسے بنا دیا گیا؟

Back to top button