آج پروفیسر وارث میر کی برسی پر صدر زرداری سیمینار کی صدارت کریں گے

آج ممتاز صحافی، دانشور اور استاد پروفیسر وارث میر کا یوم وفات ہے جو 9 جولائی 1987 کو صرف 48 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے. انکی صحافتی اور جمہوری خدمات کے حوالے سے آج لاہور کے الحمرا ہال نمبر 1 میں سہ پہر ساڑھے 4 بجے ایک سیمینار کا انعقاد ہو گا جس کی صدارت صدر پاکستان آصف علی زرداری کریں گے۔ صدر زرداری پروفیسر وارث میر کی جمہوری خدمات پر گفتگو کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کے سکول آف ماس کمیونیکیشن میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنے والی طالبات میں وارث میر اچیومنٹ ایوارڈز بھی تقسیم کریں گے۔

لاہور ہائی کورٹ: محسن نقوی کی سینیٹ کی نشست سے نااہل قرار دینے کی درخواست پر سماعت ملتوی

یاد رہے کہ وارث میر پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ صحافت کے سربراہ  ہونے کے باوجود ضیا دور میں اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہے اور کلمہ حق بلند کرتے رہے حالانکہ انہیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کے دوران پاکستان کے تمام بڑے اردو اخبارات کے لیے پرمغز مضامین تحریر کیے جنہیں ان کی وفات کے بعد کتابوں کی صورت میں شائع کیا گیا۔ ان کی مشہور کتابوں میں وارث میر کا فکری اثاثہ، حریت فکر کے مجاہد، ضمیر کے اسیر، فوج کی سیاست، اور کیا عورت آدھی ہے شامل ہیں۔ وارث میر مشکل ترین حالات میں بھی سچائی کا علم اٹھائے آنے والی نسلوں کو حق اور سچ پر ڈٹے رہنے کا پیغام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن وہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ جمہوریت کی بحالی اور آزادی صحافت کے لیے بے مثال جدوجہد کے اعتراف میں ریاست پاکستان نے انہیں 2012 میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سِول ایوارڈ ”ہلال امتیاز“ سے نوازا۔ 2013  میں بنگلہ دیشی حکومت نے وارث میر کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں ”فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ” سے نوازا۔ جون 2020 میں پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں نے وارث میر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حق میں متفقہ قراردادیں منظور کیں اور ان کے خلاف دیا جانے والا غداری کا فتوی سختی سے رد کر دیا۔ پروفیسر وارث میر پنجاب یونیورسٹی کے لا کالج قبرستان میں مدفون ہیں۔

Back to top button