ضیاء سے باجوہ تک، آرمی چیف لگانے والا پچھتایا کیوں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ اگر آئین آڑے نہ آئے تو مسلم لیگ ن اسحاق ڈار کو اور پی ٹی آئی شہباز گل کو نیا آرمی چیف بنا ڈالیں۔ ضیا الحق سے اب تک جس نے بھی آرمی چیف کی تقرری میں ’اپنا بندہ‘ تلاش کرنے کی کوشش کی، وہ سب سے زیادہ خسارے میں رہا، یہ وہ کھلا راز ہے جو اب اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ لیکن اگر نہیں جانتا تو اقتدار میں آنے والا یا نکلنے والا نہیں جانتا۔ لیکن وہ پھر بھی خود کو سینیئر سیاستداں کہلانے پر بضد رہتا ہے۔
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ان دنوں وفاقی دارالحکومت کی حدود سے نکل کے آپ بھلے پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر یا گلگت جائیں یا سندھ، بلوچستان کی جانب نکلنا چاہیں۔ آپ کو گزرنا پی ٹی آئی کی حکومتوں کے درمیان سے ہی ہو گا۔ یعنی بہت ذمہ داری کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سلطنتِ شاہ عالم از دلی تا پالم۔‘ شاہ عالم عرف شہباز شریف کے کوتوالِ اعلیٰ رانا ثنا اللہ اپنے آبائی شہر فیصل آباد جانا تو کجا دارالحکومت کی حدود سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے کیونکہ پی ٹی آئی کے زیرِ انتظام پنجاب کی ایک عدالت نے ان کے ناقابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ پنجاب میں پرویز الٰہی وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر بٹھائے تو گئے ہیں مگر ان کی کلائی پر بندھے دھاگے کا دوسرا سرا بنی گالہ کے گیٹ سے بندھا ہوا ہے۔ یعنی شوق دا کوئی مل نئیں۔ رہی خیبر پختونخوا کی حکومت تو وہ اس وقت عملاً عمران خان کے جلسوں کی دریاں بچھانے اور ہیلی کاپٹر کے پروں پر کپڑا مارنے پر مامور ہے۔ جہاں تک ڈاکٹر عارف علوی کے ایوانِ صدر کا معاملہ ہے تو وہ دوج اور عمران کے درمیان پل بلکہ ’پش اینڈ پل‘ کا کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پانچ ججوں کی خالی آسامیاں پُر کرنے کے معاملے پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں قائم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے کچھ برادر ججوں کے درمیان کھلے خطوط و بلاواسطہ بیانات کی شکل میں بیچ چوراہے پر الگ پیکار چل رہی ہے۔ جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا بیشتر وقت پی ٹی آئی کے حق میں یا خلاف دائر درخواستیں نمٹانے پر صرف ہو رہا ہے اور معمولی سائل عدالت کے باہر گرین بیلٹ کے سائے میں دھوپ سے نمٹ رہے ہیں۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اہلِ سوات مسلح طالبان کی علاقے میں واپسی کے حوالے سے دی جانے والی سرکاری و عسکری یقین دہانیوں پر لمحے بھر کے لیے یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوات کے مختلف علاقوں میں طالبان کی آمد کے خلاف روزانہ احتجاجی جلوس نکل رہے ہیں۔ نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ مظاہرین سرکاری تحفظ کی توقع سے مایوس ہونے کے بعد اپنی مدد آپ کے تحت مسلح شہری حفاظتی دستے تشکیل دینے کا الٹی میٹم دے رہے ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے زیریں علاقوں میں طالبان کی دیامیری شاخ اس خطے کو کاغانِ کے راستے پاکستان سے ملانے والی سڑک پر ناکہ لگا کر گلگت بلتستان کے ایک وزیر عبید اللہ بیگ کو اغوا کرنے کے چند گھنٹوں بعد رہا کر کے اپنی قوتِ نافذہ کا با آوازِ بلند اعلان کر رہی ہے۔
اس شاخ کا لیڈر حبیب الرحمان ماضی قریب میں شیعہ مسافروں اور دس غیر ملکی سیاحوں کے قتل کے الزام میں 2013 میں گرفتاری کے دو برس بعد گلگت جیل سے فرار ہو کر پچھلے سات برس سے اپنے علاقے میں نہ صرف موجود ہے بلکہ مقامیوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے عدالت بھی کر رہا ہے۔ چند روز قبل حبیب اللہ نے اچانک نمودار ہو کر میڈیا سے بھی بات کی۔ مگر پولیس کی فائلوں میں حبیب الرحمان روپوش ہی بتایا جاتا ہے۔ رہے پاکستان کے بدترین سیلاب کے ساڑھے تین کروڑ متاثرین، تو ان کے نام پر امداد بیرونِ ملک سے آ رہی ہے۔ امداد بانٹنے کے کام میں نجی فلاحی تنظیمیں آگے آگے ہیں اور صوبائی و وفاقی عمل دار جگہ جگہ دورے کر کے فوٹو سیشن کروانے کی آئینی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی حدود میں نظربند حکومت کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں کر سکتی جس کے لیے دو تہائی پارلیمانی اکثریت درکار ہو۔ قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے 123 ارکان کی غیر حاضری کے سبب پارلیمنٹ بھی ایک پھیپھڑے پر زندہ ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی زبان زد عام ہے کہ کیا پی ٹی آئی واپس قومی اسمبلی میں قدم رکھے گی؟ اسکا جواب پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر ظفر کو بھی نہیں معلوم جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پانچ روز میں جواب دینے کے لیے کہا ہے۔ علی ظفر نے تحریک انصاف کے 10 اراکین قومی اسمبلی کے ایما پر یہ پٹیشن دائر کی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ان کے استعفوں کی قبولیت کو منسوخ کیا جائے۔
اب یہ راز یا تو عمران خان جانتے ہیں یا پھر اوپر والا کہ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ پی ٹی آئی سپیکر کی جانب سے 123 میں سے 11 ارکان کے استعفی منظور کرنے کے عمل کو غیر آئینی بھی سمجھتی ہے لیکن استعفوں کی منظوری کے سبب خالی ہونے والی زیادہ تر نشستوں پر خود عمران نتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب خان صاحب آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد میں فاتحانہ داخل ہونے پر بھی کمر بستہ ہیں۔ اسی دوران ایوانِ وزیرِ اعظم کی لیک ہونے والی گفتگو ٹیپ وار ریلیز ہونے کے باوجود نہ تو عمران کے حامیوں کی تعداد گھٹی ہے اور نہ ہی ان کی آواز کا کرارا پن دھیما۔پڑا ہے۔ الٹا پی ٹی آئی کے میڈیا سیل اور حکومت کے پبلسٹی ونگ کے درمیان یہ دوڑ جاری ہے کہ کون نظریہِ عمرانی کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس بیچ یہ بحث بھی درجہ حرارت بڑھا رہی ہے کہ نیا آرمی چیف پرانا ہی ہوگا یا کوئی تازہ ہو گا اور تقرری ہو گی تو کب تلک۔ یہ وہ گاجر ہے جسے عمران خان موجودہ وفاقی حکومت سے 29 نومبر سے پہلے پہلے اچکنے کے لیے بے تاب ہیں۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر آئین آڑے نہ آئے اور اپنے بس میں ہو تو مسلم لیگ ن اسحاق ڈار کو اور پی ٹی آئی شہباز گل کو آرمی چیف بنا ڈالیں۔ ضیا الحق سے اب تک جس نے بھی آرمی چیف کی تقرری میں ’اپنا بندہ‘ تلاش کرنے کی کوشش کی وہی سب سے زیادہ خسارے میں رہا۔ یہ وہ کھلا راز ہے جو اب اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ نہیں جانتا تو اقتدار میں آنے والا یا نکلنے والا نہیں جانتا۔
