طالبان نے ملا ہیبت اللہ کو افغانستان کا نیا حکمران ڈیکلئیر کر دیا

افغان امن معاہدے کے بعد افغانستان کے ستر فیصد رقبے پر قابض طالبان نے ملک میں اسلامی امارت قائم کرنے اور اپنے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو امیرالمومنین بنانے کا اعلان کردیا ہے۔
روں برس 29 فروری کو امریکہ اور مغربی طاقتوں کے ساتھ قطر میں تاریخی امن معاہدہ طے پانے کے بعد افغان طالبان نے اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے جدوجہد تیز کردی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی روز بروز بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال نے طالبان کو نیا حوصلہ دیا ہے بالخصوص نو مارچ کی شام اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی جانب سے بیک وقت صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد طالبان کو یقین ہو چلا ہے کہ سیاسی قیادت کی ناکامی کے بعد اب طالبان آسانی سے افغانستان کے اقتدار پر ایک مرتبہ پھر قابض ہو سکتے ہیں۔
ایک حالیہ بیان میں افغان طالبان نے اپنے امیر ملا ہیبت اللہ کو افغانستان کا قانونی سربراہ قرار دیا ہے۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی قابض فوج کے انخلا کے بعد ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیاجائے گا جس میں ملا عمر مرحوم کے بعد ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نئے امیرالمومنین کے طور پر افغانستان کی قیادت کریں گے۔ یاد رہے کہ ملا عمر کے انتقال کے بعد ملا اختر منصور طالبان کے نئے امیر بنے تھے لیکن ایک امریکی ڈرون حملے میں ان کی ہلاکت کے بعد ملا ہیبت اللہ طالبان کا امیر مقرر کیا گیا تھا جو اس وقت افغان طالبان کی قیادت کر رہے ہیں۔
اب افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ ملک کے قانونی سربراہ ہیں اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کر لی جائے گی۔وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کرنے سے ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آتا جو افغانستان کے قانونی حکمراں ہیں۔ ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ غیر ملکی قابض فوج کے انخلا کے بعد ملک میں ”اسلامی حکومت” قائم کریں۔
طالبان کا مؤقف ہے کہ ملا ہیبت اللہ کی موجودگی میں افغانستان میں کوئی اور ”قانونی حکمراں” نہیں بن سکتا کیونکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے 2001 میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ کرکے ملک میں اپنا تسلط قائم کیا تھا اس لئے لیے غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کے اقتدار پر صرف طالبان کا حق ہے۔
طالبان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ایک قانونی امیر یعنی ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے حکم پر غیر ملکی حکمرانی کے خلاف 19 برس تک جہاد جاری رکھا ۔ قبضہ ختم کرنے کے سمجھوتے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اصول باقی نہیں رہا۔ طالبان نے تازہ بیان میں وضاحت کی ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے صرف بین الاقوامی فوج کا انخلا کافی نہیں ہوگا۔ بیان کے مطابق سمجھوتے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ بدعنوان افغان عناصر کو ساتھ رکھا جائے جنھوں نے غیرملکی حملہ آوروں کا ساتھ دیا، تاکہ وہ آئندہ حکومت کا حصہ بنیں۔ افغان طالبان نے مزید کہا ہے کہ جب تک قبضے کی جڑوں کو مکمل طور پر اکھاڑ نہیں پھینکا جاتا اور اسلامی حکومت تشکیل نہیں دی جاتی، تب تک مجاہدین اپنا مسلح جہاد جاری رکھیں گے اور اسلامی شریعت پر عمل درآمد کی کوششیں تیز کریں گے۔
افغان طالبان کے اس بیان کے بعد امریکا اور روس نے ابتدائی ردعمل میں کہا ہے کہ افغانستان میں اسلامی امارات کے قیام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تاہم افغان امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ طالبان نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ درپردہ اس شرط پر ہی معاہدہ کیا ہے کہ بہت جلد اقتدار طالبان کے حوالے کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ طالبان ان کے پہلے امیر ملا محمد عمر اور ان کے بعد طالبان کی قیادت کرنے والے ملا اختر منصور امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے امریکہ نے انہیں قتل کروا دیا۔ تاہم اختر منصور کے بعد جب سے ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے طالبان کی سربراہی سنبھالی ہے، طالبان نے اپنا موقف بدلا ہے جس کے بعد انہوں نے امریکہ اور دیگر مغربی اقوام کے ساتھ تاریخی امن معاہدہ بھی کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کا واضح مقصد یہی ہے کہ اب طالبان اقتدار پر قبضہ کریں گے اور ملا ہیبت اللہ اخونزادہ طالبان اور افغانستان کی بطور حکمران قیادت کریں گے۔ واضح رہے کہ امریکہ جو کہ طالبان کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اس نے تاحال ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو دہشتگردوں کی فہرست میں نہیں ڈالا۔
خیال رہے کہ 25 مئی کو طالبان نے ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو اپنا نیا امیر منتخب کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ملا اختر منصور نے اپنی زندگی میں ہی وصیت کی تھی کہ اگر انھیں قتل کر دیا گیا تو ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو نیا امیر منتخب کیا جائے۔ ملا اخونزادہ کے نام سے مشہور شیخ ہیبت اللہ کا تعلق نورزئی پشتون قبیلے سے ہے اور یہ مسلح جنگجو کی بجائے ایک بڑے مذہبی عالم شیخ الحدیث کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ اخونزادہ عوامی سطح پر بھی طالبان کی عسکریت پسندانہ کارروائیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں، ساتھ ہی وہ کابل حکومت اور غیر ملکی فوجوں کے خلاف حملوں کو بھی جائز قرار دیتے رہے ہیں۔ انہیں طالبان نے شاہین صفت کا لقب دیا ہوا ہے۔ ملا اخونزادہ 2001 سے 2015 تک کوئٹہ میں مقیم رہے۔ اگرچہ اخونزادہ کو طالبان کا امیر مقرر کئے جانے کے موقع پر بعض طالبان دھڑوں نے ان کی اطاعت سے انکار کیا تھا تاہم گزشتہ تین برسوں میں انہوں نے کسی نہ کسی طرح طالبان کو متحد رکھا ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button