نئے پاکستان میں جمہوریت کے نام پر آمریت قائم ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نئے پاکستان میں جمہوریت کے نام پر آمریت قائم ہے، نئے پاکستان اور نئی آمریت کو بار کے متحرک کردار کے بغیر نہیں گرایا جاسکتا، حکمران 3 بارڈر بند کرکے ملکی معیشت کو نہیں چلا سکتے، وقت آگیا ہے کہ ہمسائیوں سے تجارت کی جائے۔
للاہور ہائی کورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نئے پاکستان میں آمریت اور فسطائیت کے ذریعے عوام کے تمام حقوق چھین لیے گئے حالانکہ یہ حقوق مشرف اور ضیاء کے دور میں بھی نہیں چھینے گئے تھے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان میں نئی قسم کی جابرانہ حکمرانی کا سامنا ہے اور جمہوری حقوق کو روندا جار ہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جیسے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بار کے بغیر چیلنج نہیں کیا جاسکا، اسی طرح نئے پاکستان اور نئی آمریت کو بار کے متحرک کردار کے بغیر نہیں گرایا جاسکتا،آئیں مل کر کام کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے ،بھٹو کی شہادت کا کیس آج بھی عدالت میں زیر التوا ہے، بار سے اپیل ہے بھٹو کو انصاف دلوائیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے ہمسائیہ ملکوں سےتجارت کرنا ہوگی،یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ 3 باڈر سیل کردیں اور معیشت بھی چلے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے غیر حقیقت پسندانہ معاہدہ کیا ہے، اقتدار میں آکر اس پر نظرثانی کریں گے، عام آدمی حکومت کی ناکام پالیسوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام چور اور ڈاکو نہیں ،ٹیکس ہدف پورا نہ کرنے کی ذمہ دار انتظامیہ ہے، ریونیوکی وصولی کے لیے سہ ماہی ہدف غیر حقیقی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نئے پاکستان میں آمریت اور فسطائیت کے ذریعے عوام کے تمام حقوق چھین لیے گئے حالانکہ یہ حقوق مشرف اور ضیاء کے دور میں بھی نہیں چھینے گئے تھے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان میں نئی قسم کی جابرانہ حکمرانی کا سامنا ہے اور جمہوری حقوق کو روندا جار ہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جیسے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بار کے بغیر چیلنج نہیں کیا جاسکا، اسی طرح نئے پاکستان اور نئی آمریت کو بار کے متحرک کردار کے بغیر نہیں گرایا جاسکتا،آئیں مل کر کام کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے ،بھٹو کی شہادت کا کیس آج بھی عدالت میں زیر التوا ہے، بار سے اپیل ہے بھٹو کو انصاف دلوائیں۔ ہمیں یقین ہے بے نظیر بھٹو کے ساتھ انصاف ہو گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا ملک بدقسمتی سے مارشل لاء کا شکار ہوتا رہا ہے، آمروں نے پاکستان کے آئین کو توڑا اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ ضیا الحق نے اس آئین کو معطل کیا، ججوں کو گھر بھیجا گیا اور بھٹو کو عدلیہ نے سزائے موت دی۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے جلد دنیا سے چلے جانے کی وجہ سے ملک میں مکمل جہموریت نہ آ سکی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو آئے جنہوں نے 1973 کا آئین دیا جو پارلیمنٹری تھا جس میں پارلیمنٹ سپریم تھا اور انتظامیہ وزیراعظم کے ماتحت تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مشکلات کے باوجود 3 بار جمہوری حکومت بنائی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عوام نے قبول نہ کیا۔ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری پر بھی جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ آصف علی زرداری کو بغیر کسی وجہ کے جیل میں قید رکھا گیا ان پر ایک الزام بھی ثابت نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس سے ثابت ہوا کہ پیپلز پارٹی کو عوام سے دور رکھنے کی سازش کی گئی تھی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیاست دان سوسائٹی کو ہمیشہ وکلا کی ضرورت رہی۔ لاہور ہائی کورٹ بار نے سب سے پہلے آمریت کے خلاف جدوجہد شروع کی اور وکلا ہر آمر کے سامنے آہنی دیوار بنے رہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خواتین ججز کی تعداد کو بڑھانا چاہیے۔ سال 1994 میں 5 خواتین ہائی کورٹس کی ججز تھیں لیکن جنسی تفریق کی وجہ سے کسی کو بھی سپریم کورٹ نہیں بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبا یونینز کو بحال ہونا چاہیے۔ طبا یونینز کے بغیر پیپلز پارٹی کا قیام ممکن نہیں تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button