طیارہ حادثے کی شفاف انکوائری ہوگی

وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی طیارہ حادثے کی تحقیقات سے متعلق ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ حادثے کی انکوائری شفاف ہو گی اور رپوٹ 22 جون کو ایوان میں پیش کی جائے گی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر غلام سرور نے بتایا کہ ماضی میں ہونے والے طیارہ حادثوں کی انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آ سکیں اور حالیہ ادوار میں بھی کئی حادثے ہوئے، کسی ذمہ دار کا تعین نہ ہوا نہ کسی کو سزا ہوئی، آخر کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرانا ہو گا، کسی کے گریبان تک تو ہاتھ ڈالنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب لوگ اس کے ذمہ دار ہیں لیکن ہمیں چیزوُں کو ٹھیک بھی کرنا ہے اس لیے احتساب ہو اور حساب ہو تاکہ ان واقعات پر مستقبل میں قابو پایا جا سکے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آوازیں آرہی ہیں کہ کراچی طیارہ حادثے میں ہو سکتا ہے انکوائری جانبدرانہ ہو لیکن میرا وعدہ ہے کہ طیارہ حادثے کی صاف شفاف انکوائری ہو گی اور 22 جون کو انکوائری رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی، اس کے علاوہ ماضی میں ہونے والے طیارہ حادثات کی رپورٹ سے بھی ایوان کو آگاہ کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب چیزیں ٹھیک کرنی ہیں جس کے لیے میں ایک اورپوائنٹ بھی شامل کر رہاہوں کہ تمام پائلٹس کی ڈگریاں اور لائسنس بھی چیک کئے جائیں گے کیونکہ پچھلے ادوار میں پائلٹس کی جعلی ڈگریاں بھی سامنے آئی ہیں۔ وفاقی وزیر نے اظہار افسوس کرتے ہوئے مزید کہا کہ کتنا بدقسمت ہے کہ ملک کہ ہر معاملے پر دو نمبری کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ طیارہ آبادی پر گرا، جس سے کئی گھر متاثر ہوئے جن کی مدد کے لیے حکومت کی جانب سے رقم دی گئی لیکن ان میں سے کچھ خاندانوں نے امدادی رقم لینے سے بھی انکار کر دیا مگر طیارہ حادثے کے نقصانات کا سروے ہو رہا ہے، ان شاءاللہ نقصانات کا ازالہ ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button