عائشہ عمر نے بچپن کی تلخ یادیں بتادیں

پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ عائشہ عمر نے اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنے بچپن اور والدہ کی جدوجہد کی کہانی اپنے مداحوں سے شیئر کر دی۔
عائشہ عمر نے اپنی والدہ کی سالگرہ کے موقع پر ڈرامے کے سیٹ پر کیک کاٹا جس کی تصاویر انہوں نے فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر شیئر کیں۔ اداکارہ نے اپنی والدہ کی سالگرہ منانے کے ساتھ ان تصاویر پر ایک طویل کیپشن بھی لکھا جس میں انہوں نے والد کے انتقال کے بعد اپنی والدہ اور بچپن کی جدوجہد کے حوالے سے بتایا۔
عائشہ عمر نے لکھا کہ ایک بیوہ عورت جس کے 2 بچے تھے اس کے پاس مرحوم شوہر کے نام پر ایک پائی بھی نہیں تھی، اس عورت کے تمام بہن بھائی شادی شدہ تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کی بہن کی جس خاندان میں شادی ہوئی ہے وہ ان کی معاشی اور جذباتی اعتبار سے اچھی دیکھ بھال کر سکیں گے۔ اداکارہ نے والد کے انتقال کے بعد والدہ کی مشکلات کے حوالے سے مزید لکھا کہ میری والدہ کے سسرال والوں نے خاندانی کمپنی کو تحلیل کردیا تھا جس کے بڑے شیئر ہولڈر میرے والد تھے، ان کا انتقال ہوگیا تھا اور انہوں نے تمام تر رقم آپس میں ہی بانٹ لی تھی۔ عائشہ عمر نے اپنے بچپن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سال ہمارے لیے بہت کٹھن تھے، جیسے ہی میرا کالج شروع ہوا میں نے ٹی وی کے کچھ پروجیکٹس کرنا شروع کردیے تاکہ میں اپنی تعلیم کے اخراجات ادا کرسکوں۔
212662 9333145 updatesاداکارہ کی جانب سے شیئر کی جانے والی اس پوسٹ کا کیپشن پڑھ کر شوبز انڈسٹری کی شخصیات سمیت ان کے چاہنے والے متاثر ہوئے اور تمام لوگ ان کی اور والدہ کی جدوجہد کو سراہے بغیر رہ نہ سکے اور ساتھ ہی سب نے ان کی والدہ کو سالگرہ کی مبارکباد بھی دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button