عابد شیرعلی کورانا ثنا اللہ سے دوستی کا فائدہ کیوں نہ ہوا؟

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے نون لیگی رہنما عابد شیر علی کی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان سے صلح کے باوجود ضمنی الیکشن میں عمران خان کے ہاتھوں شکست نے شیر علی خاندان کی سیاست خطرے میں ڈال دی ہے۔ عابد شیر علی کو توقع تھی کہ انہیں الیکشن میں رانا ثنااللہ خان سے دوستی ہو جانے کا فائدہ ملے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ گزشتہ دور حکومت میں یہ سیٹ پہلے بھی پی ٹی آئی کے پاس تھی لیکن فرخ حبیب نے حلقے میں عوامی مسائل کے حل کے لئے کوئی ایسے کام نہیں کئے تھے جو کہ قابل ذکر ہوں۔ ایسے میں عمومی خیال یہی تھا کہ عمران کا این اے 108 سے الیکشن خود لڑنے کا فیصلہ شاید پی ٹی آئی کے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔
فیصل آباد کے اس حلقہ پر مشتمل علاقوں کا سیاسی پس منظر دیکھا جائے تو عابد شیر علی اور ان کے والد چوہدری شیر علی حلقہ میں متحرک رہتے ہیں۔ چوہدری شیر علی اسی حلقہ سے 2 بار جبکہ عابد شیر علی 3 بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، چوہدری شیر علی اور انکے بیٹے عامر شیر علی مئیر فیصل آباد بھی رہے ہیں۔
عابد شیر علی نے 2018ء میں اپنے سیاسی کرئیر کی پہلی شکست فرخ حبیب سے کھائی لیکن تب عابد شیر علی نے بھرپور مقابلہ کیا اور فرخ حبیب کو صرف 1275 ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی تاہم اس بار عابد شیر علی کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے 24 ہزار 575 ووٹوں کی لیڈ سے ہرایا۔
تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار محمد صدیق تیسرے امیدوار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اب سوال یہ ہے کہ عابد شیر علی کی ہار کے پیچھے کون سے محرکات ہیں؟ یاد رہے کہ اس الیکشن سے قبل دیرینہ سیاسی حریف وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عابد شیر علی اور ان کے والد سے صلح کر لی تھی تاہم یہ صلح کسی کام نہیں آئی۔ بظاہر ہونے والی صلح سے عابد شیر علی اور رانا ثناء اللہ بغل گیر تو ہو گئے لیکن ان دونوں گروپس کے لوگ پیچھے ہٹ گئے جس کا نتیجہ الیکشن کے روز کچھ یوں سامنے آیا کہ عابد شیر علی رانا ثناء اللہ کے علاقہ سمن آباد کی یونین کونسلز میں قائم پولنگ سٹیشن اور اپنے علاقہ ناظم آباد کی یونین کونسلز سے بھی کامیاب نہ ہو سکے۔
این اے 108 میں تقریباً 44 یونین کونسل ہیں جس میں 2018 میں رانا ثناء اللہ کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ سے 15 سے زائد یونین کونسل شامل ہیں، وہاں سے عابد شیر علی 15 ہزار 462، ایم پی اے شفیق گجرکے حلقہ کی4 سے زائد یونین کونسلز سے 1800، ٹکٹ ہولڈر اسرار احمد کے حلقہ کی 4 سے زائد یونین کونسلز سے 2600، سٹی صدر مسلم لیگ (ن) اور ٹکٹ ہولڈر شیخ اعجاز کے حلقہ کی 4 یونین کونسلز سے 2100 ، ایم پی اے طاہر جمیل کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ کی 16 یونین کونسل سے 1140 ووٹوں سے ہارے۔
عابد شیر علی کے ہارنے کی وجہ کا سیاسی حلقوں میں ہر زبان پر ذکر ہے کہ رانا ثناء اللہ نے عابد شیر علی سے صلح دل سے نہیں کی اور نہ ہی اس الیکشن میں عابد شیر علی کی کامیابی کے لئے کوئی کردار ادا کیا ،تنظیمی لحاظ سے بھی مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عابد شیر کا ساتھ نہیں دیا گیا اگر 2018ء کے الیکشن سے موازنہ کیا جائے تو حلقہ این اے 108 کے ذیلی صوبائی حلقہ سے رانا ثناء اللہ نے الیکشن لڑا تھا اور وہ پی ٹی آئی کے امیدوار میاں وارث سے شکست کھا گئے تھے۔ یوں اس حلقہ کی صورتحال 2018ء سے تبدیل ہو چکی تھی ،اس جانب توجہ نہ دینا شکست کی وجوہات میں شامل ہے، دوسری جانب 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پی پی 97 میں بھی ن لیگی امیدوار کی انتخابی مہم میں ن لیگ کی مرکزی قیادت نے فیصل آباد میں کوئی جلسہ نہ کیا جو اجمل چیمہ کی شکست کا باعث بنا اور این اے 108 کی انتخابی مہم میں بھی ن لیگ کی قیادت نے ایک بار پھر فیصل آباد کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ نہ لیا۔
تاہم عمران خان پی پی 97 اور این اے 108 کی انتخابی مہم میں فیصل آباد میں جلسے کر کے ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ عابد شیر علی کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ چند سالوں سے لندن میں مقیم تھے اور اپنے حلقہ سے آؤٹ رہے تاہم وطن واپسی پر انہوں نے حلقہ میں ان ہو کر الیکشن میں کھڑے ہونے کا فیصلہ تو کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے ، رانا ثناء اللہ، عابد شیر علی ناکامی کی وجہ ملک میں مہنگائی کی صورتحال اور خصوصاً فیصل آباد میں پاور لومز انڈسٹری سمیت دیگر انڈسٹری کو مہنگی بجلی سمیت تمام انڈسٹری کی زبوں حالی کو قرار دیتے ہیں ،بجلی کے اضافی بلوں کے معاملے میں این اے 108 میں 16 مقامات پر شہریوں کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا گیا۔
عابد شیر علی اپنی انتخابی مہم میں تنہا نظر آئے اور ن لیگ کی مقامی قیادت ان کے ساتھ شامل تو رہی لیکن وہ ان کی جیت پر اثر انداز نہ ہو سکی ، پیپلز پارٹی نے 16 اکتوبر کے ضمنی انتخاب میں کراچی اور ملتان میں واپسی کا سفر شروع تو کیا تاہم فیصل آباد میں انہیں 3 ماہ کے دوران ہونے والے 2 ضمنی انتخاب میں کوئی ایسا امیدوار نہ ملا جسے اپنی پارٹی ٹکٹ پر وہ کھڑا کرتے اور پیپلز پارٹی ان دونوں ضمنی انتخاب اور فیصل آباد سے آؤٹ دکھائی دی۔ عمران خان کی جیت سے فرخ حبیب نے حلقے میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کر لیا ہے جو کہ آئندہ عام انتخابات میں ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
