عاصم باجوہ الزامات جھوٹے ثابت کرنے کیلئے عدالت کیوں نہیں گئے؟


چئیرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے بیرون ملک موجود اربوں روپے کے اثاثہ جات کی خبر سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ان کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کی بجائے این آر او دیے جانے سے اس سکینڈل کے حوالے سے مزید سوالات پیدا ہو گئے ہیں جن کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔
عاصم سلیم باجوہ نے فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر سینئر صحافی احمد نورانی کی خبر آنے کے بعد چار صفحے کے تفصیلی بیان کے ذریعے اور پھر ٹی وی چینلز پر آ کر اپنا موقف دیا۔ تاہم اتنے کمزور اور تضادات سے بھر پور موقف نے انکی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دی۔ باجکو گروپ کے اربوں روپوں کے اثاثوں کے حوالے سے عاصم باجوہ کی وضاحت نے عوام کے ذہنوں میں مزید سوالات کھڑے کر دیے لیکن زیادہ افسوسناک واقعہ یہ ہوا کہ وزیراعظم عمران خان نے عاصم باجوہ کی وضاحت پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے ان کا استعفیٰ مسترد کردیا اور انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔ ایسا کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے اس موقف پر بھی یوٹرن لے لیا کہ وہ کسی بھی کرپٹ شخص کو کبھی بھی این آر او نہیں دیں گے۔ عاصم باجوہ کو کلین چٹ دیتے ہوئے عمران خان نے اتنا بھی نہ کیا کہ وہ اپنی فیس سیونگ کے لیے کوئی چھوٹی موٹی انکوائری کروانے کا حکم ہی دے دیتے۔ یوں سوشل میڈیا پر یہ لطیفہ وائرل ہو گیا کہ عمران خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے نہایت جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک جرنیل کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
عاصم باجوہ کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک ننگا این آر او دے کر عمران خان نے شاید مقتدر قوتوں کو تو رام کر لیا لیکن اپنی ختم ہوتی ساکھ کے تابوت میں ایک آخری کیل بھی ٹھونک دی۔ وزیر اعظم عمران خان نے عاصم باجوہ کی جس تحریری وضاحت کو تسلی بخش قرار دیا اس پر کھڑے ہونے والے سوالات کا مین سٹریم میڈیا پر تو معاون خصوصی برائے اطلاعات کے اپنے احکامات کے تحت مکمل بلیک آوٹ جاری ہے لیکن سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بدستور بحث جاری ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
سوشل میڈیا پر جو سوال سب سے زیادہ کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر باجوہ صاحب کے ہاتھ صاف تھے تو پھر انہوں نے استعفی کیوں دیا تھا؟ الزامات لگنے کے بعد استعفیٰ ہمیشہ وہ شخص دیتا ہے جس کے پاس اس اپنے دفاع میں کچھ نہ ہو۔
یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کو جنرل باجوہ کے مؤقف میں کونسی بات تسلی بخش لگی جبکہ عوام کو انکی وضاحت نہایت ہی غیر تسلی بخش لگی۔ جنرل باجوہ کی حالت تو یہ تھی کہ جب جیو ٹی وی پر شاہ زیب خانزادہ نے ان سے باجکو گروپ کی منی ٹریل مانگی تو وہ لائن ڈراپ کرکے غائب ہوگئے اور خود کو چور ثابت کردیا۔ لیکن شاید وزیراعظم کو جنرل باجوہ کی یہی ایک ادا پسند آ گئی اور انہوں نے استعفے مسترد کردیا۔
سوشل میڈیا پر عاصم باجوہ کے حوالے سے ایک اور سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ ان کی بیوی اور بچوں کو دوران سروس کاروبار کی ضرورت کیوں‌ پیش آئی؟ پھر یہ کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کے بیرون ملک کاروبار کے حوالے سے اپنے ادارے کو آگاہ کیوں نہیں کیا؟ انھوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو بیرون ملک کاروبار شروع کروانے سے پہلے کسی اتھارٹی سے اجازت لی؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عاصم باجوہ پر کرپشن کے سنگین ترین الزامات کی تحقیقات کے لیے کوئی جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی اور کس اختیار کے تحت ان کو این آر او دے دیا۔
عاصم باجوہ سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر احمد نورانی کی خبر غلط ہے تو پھر آپ اسے عدالت لے جا کر اسکے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کیوں نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ اگر عاصم باجوہ کے ہاتھ صاف ہوتے تو وہ سیدھا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور آخری حد تک احمد نورانی کا پیچھا کرتے۔
سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ان کی اہلیہ نے باجکو گروپ کے کاروبار سے اپنی انوسٹمینٹ بطور معاون خصوصی حلف اٹھانے سے محض 21 دن پہلے کیوں نکالی؟ سوال یہ بھی ہے کہ عاصم باجوہ کے بقول ان کی اہلیہ نے یہ رقم نکالی ضرور لیکن پاکستان واپس نہیں لائیں بلکہ امریکہ میں موجود ان کے بیٹوں نے وہ رقم رکھ لی۔ عاصم باجوہ سے کہا جا رہا ہے کہ اگر ان کا یہ موقف سچ ہے تو یہ بھی وضاحت کی جانی چاہیے کہ وہ رقم کب اور کس طرح بیرون ملک بھیجی گئی؟
یہ بھی یاد رہے کہ عاصم باجوہ کے بیٹے اپنے چچاؤں کے ساتھ ہی کاروبار کر رہے ہیں۔ لہٰذا یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ مسز باجوہ کی کاروبار میں لگائی گئی رقم نے خاندان کے اندر ہی ایک ہاتھ تبدیل کیا ہے؟ اس سے پہلے جو رقم باجوہ کی اہلیہ کے نام پر تھی، وہی رقم اب اسی کاروبار سے منسلک ان کے بیٹوں کے پاس ہے۔ عاصم باجوہ نے اپنے وضاحتی بیان میں اپنے بیٹوں کی کمپنیوں کو یا تو خسارے میں بتایا ہے یا غیر فعال بتایا ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ خسارے کی کمپنیاں اب تک ان کے بچوں کی ملکیت میں کیوں ہیں اور انہیں بند کیوں نہیں کیا جا رہا؟
سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جس ملک میں قومی احتساب بیورو لاکھوں روپے کی کرپشن کا الزام لگنے پر سیاستدانوں اور صحافیوں کو پکڑ کر صرف انکوائری کے لیے مہینوں جیل میں رکھتا ہے اور پھر سالہا سال کیس چلانے کے لیے جیل میں رکھتا ہے وہاں ایک ہزار کروڑ روپے کر بیرون ملک اثاثے رکھنے والے سے یہ سوال کیوں نہیں کیا جا رہا کہ اس نے یہ مال کہاں سے بنایا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button