عاصم باجوہ سکینڈل پر جے آئی ٹی بننے کا انتظار ہے

چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن رہنماؤں پر صرف الزامات عائد ہونے کے بعد تحقیقات کیلئے جے آئی ٹیز بن سکتی ہیں تو ہم منتظر ہیں کہ عاصم سلیم باجوہ کے اثاثہ جات سکینڈل کے حوالے سے جے آئی ٹی کب بنتی ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ احمد نوارانی کی خبر کے بعد عاصم سلیم باجوہ کے استعفے سے یہ بات واضح ہے کہ عاصم باجوہ کی دال میں کچھ کالا ضرور ہے.
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کے مستعفی ہونے سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ جس پر الزام ہے، وہ پہلے مستعفی ہو اور پھر خود کو بے گناہ ثابت کرے۔ان کا کہنا تھا یہ روایت خود عمران خان نے سیٹ کی تھی، نواز شریف کے دور میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ جس پر الزام ہے وہ مستعفی ہو، اسی بنیاد پر اداروں نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو گرفتار کیا۔انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے قابل احترام جسٹس فائز عیسیٰ کی بیوی سے سوال ہوتا ہے تو پھر معاون خصوصی کو بھی اس معیار پر پورا اترنا چاہیے، جب ہمارے خلاف ایک خبر پر ایکشن ہوتا ہے تو دوسرے کی گرفتاری کا بھی سوال ہو گا۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر صحافی احمد نورانی کی خبر پر استعفی دیا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے، اگر اخبارکی خبر پر جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو عوام پوچھیں گے کہ اس معاملے کی جے آئی ٹی کب بنے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے لیے پاناما کیس بنتا ہے تو لوگ پوچھیں گے زلفی بخاری کی پاناما لیکس کا کیا ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنماؤں پر آمدن سے زائد اثاثہ جات پر الزامات عائد ہونے کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں یہاں دہرا معیار کیوں قائم ہے.چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب ایک جج کی بیوی سے سوال ہوتا ہے تو معاون خصوصی بھی اسی معیار پر پورا اتریں۔
انھوں نے مزید کہا کہ 100 سال بعد اتنی زیادہ بارش ہوئی ہے، بارش کے دوران عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ بارش اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں، سنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کل کراچی آ رہے ہیں، امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم کل ہماری توقعات پر پورا اتریں گے اور صوبے کی ضروریات کو پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دو سال بعد نظر آ رہا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے لیکن صرف کراچی کے 3 نالوں کی صفائی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ میرپور خاص، بدین اور کھپرو کے عوام بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کو سراہتا ہوں کہ وہ بارش کے دوران فیلڈ میں موجود رہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کراچی والوں کے لیے بجلی کی قیمت بڑھانے کے فیصلے کو واپس لے کیونکہ سندھ بھر میں بارشوں اور سیلاب سے شدید نقصان ہوا ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ سندھ میں بارش سے زراعت بھی شدید متاثر ہوئی ہے، امید کرتے ہیں وفاقی حکومت کسانوں کی بھرپور مدد کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سوات اور دیگر علاقوں کے سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں، اس آفت میں پورے ملک کی عوام وفاقی حکومت کی جانب دیکھ رہی ہے، بارش متاثرین کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کا تعاون درکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بارش اور سیلاب سے لوگوں کے گھر تباہ ہو گئے ہیں، حکومت لوگوں کے تباہ گھر بنانے میں تعاون کرے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کہتی ہے کہ کراچی کے لیے تاریخی پیکج لا رہے ہیں، سیلاب اور بارش متاثرین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ریلیف کی ضرورت ہے۔
