SECP کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل لاپتہ ہوگئے

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل لاپتا ہوگئے۔ اہلخانہ کے مطابق ساجد گوندل کل شام سے گھر واپس نہیں آئے اور ان کی گاڑی زرعی تحقیقاتی مرکز شہزاد ٹاؤن کے قریب کھڑی ملی ہے۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہےکہ ساجد گوندل کی گاڑی ہمیں این اے آر سے کے قریب سے ملی ہے، کارڈیٹا کا ریکارڈ حاصل کرلیا اور اس کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔
ساجد گوندل کے اہلخانہ کے مطابق وہ جمعرات کی شام سے لاپتہ ہیں جب کہ پولیس کو ان کی سرکاری گاڑی جمعے کی صبح اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں واقع زرعی تحقیقاتی مرکز کے باہر سے ملی ہے۔
ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن حاکم نیازی نے بتایا کہ جمعے کی صبح ساڑھے گیارہ بجے ایمرجنسی سروس 15 کی کال کے بعد ہم نے موقع پر پہنچ کر گاڑی قبضے میں لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی این اے آر سی کے دفتر کے باہر سڑک کنارے کھڑی تھی اور گاڑی کھلی ہوئی تھی جب کہ چابی اس میں ہی موجود تھی۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’ساجد گوندل کا لاپتہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ بطور حکومت اُن کی جلد بازیابی ہماری ذمہ داری ہے۔ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ہر شہری کی زندگی کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔۔۔‘
ساجد گوندل کے اہل خانہ کے مطابق انہوں نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دے دی ہے اور وہ گمشدگی کی درخواست دینے کےلیے پولیس سے رابطے میں ہیں۔

ساجد گوندل کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر دو تین دن سے دباؤ اور پریشانی کا شکار تھے تاہم انہوں نے پوچھنے کے باوجود تفصیلات نہیں بتائیں کہ آخر انہیں پریشانی تھی کیا۔ ان کے مطابق جمعرات کی شام ساجد گوندل اپنے فارم ہاؤس پر گئے تھے اور انہیں شام ساڑھے سات بجے کے بعد اپنے شوہر کی گمشدگی کا علم ہوا۔ ساجد گوندل کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ گمشدگی سے ایک دن قبل کچھ لوگ شام کو ان کے گھر پر ساجد گوندل کا پتہ کرنے آئے تھے جس پر ان کے بیٹے نے انہیں فارم ہاؤس کا پتا بتا دیا تھا۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین عامر خان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی اس واقعے کے بارے میں اطلاع ملی ہے اور فی الحال وہ اس پر کوئی ردعمل نہیں دے سکتے۔
ساجد گوندل کی گمشدگی کے بعد ٹوئٹر پر اس بارے میں بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا اور جہاں اسے جبری گمشدگی کے واقعات سے جوڑا جاتا رہا وہیں کئی لوگ اس واقعے کا تعلق صحافی احمد نورانی کی اس خبر سے ملاتے دکھائی دیے جس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈعاصم باجوہ نے اپنے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ اس خبر میں فراہم کی جانے والی بہت سی معلومات ایس ای سی پی سے حاصل ہونے والی دستاویزات کی بنیاد پر ہی فراہم کی گئی ہیں۔
اس سلسلے میں جب احمد نورانی کا کہنا تھا کہ ساجد گوندل اُن کی اس خبر کا ذریعہ نہیں تھے جو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کے استعفے کی وجہ بنی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیکٹ فوکس ویب سائٹ اس بارے میں جلد ہی ایک تفصیلی بیان بھی جاری کرے گی۔
صحافی ریم خورشید نے ساجد گوندل کی گمشدگی پر وزیر اعظم عمران خان کے گذشتہ روز الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ حکومت جمہوری ہے اور میڈیا آزاد۔ لیکن وہ پاکستان جو ان کے تخیل سے باہر ہے وہاں میڈیا ایک جانب اس خبر کی تردید شائع کرتا ہے جسے چلا نہیں سکتا اور پھر ایس ای سی پی کا اعلی افسر لاپتہ ہو جاتا ہے۔
استاد اور سماجی کارکن عمار علی جان نے اس حوالے سے ٹویٹ میں کہا کہ ’سیاست ہو یا صحافت ہو یا معیشت، ہر چیز کو اب قومی سلامتی کا معاملہ بنا دیا جاتا ہے۔ اب یہ مزید نہیں چل سکتا۔‘
صحافی اور ٹی وی اینکر ندیم ملک نے ساجد گوندل کی گمشدگی پر ٹویٹ میں کہا کہ ’وزیر اعظم کو فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ ان کی واپسی ممکن ہو سکے۔ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔‘
اسی طرح صحافی انعام اللہ خٹک نے بھی ایس ای سی پی کہ اہلکار کی گمشدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ’خدارا انھیں واپس لائیں، طاہر داوڑ جیسا واقعہ دوبارہ نہ دہرائیں۔‘
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ کس قسم کی لاقانونیت ہے جس سے ساری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
’قریب ہر ہفتے کوئی نہ کوئی اٹھا لیا جاتا ہے۔ 21 جولائی کو مطیع۔ آج ساجد گوندل۔ اور دونوں وفاقی دارالحکومت سے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button