عاصم باجوہ چیئرمین سی پیک کے عہدے سے مستعفی

پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جبکہ خالد منصور کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک مقرر کردیا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ خالد منصور کو سی پیک امور پر وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کردیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری ہوگا۔خالد منصور کے حوالے سےکہا گیا کہ ان کی تعیناتی اعزازی سطح پر ہوگی۔

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں بتایا کہ ‘میں اللہ کے حضور اپنا سرتسلیم خم کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اہم ادارے سی پیک اتھارٹی کے تحت ایک پلیٹ فارم سے تمام منصوبوں کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا اور مستقبل کی سمت کا تعین ہوا’۔انہوں نے کہا کہ ‘وزیراعظم اور ان کی حکومت کے مکمل اعتماد اور تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا’۔جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ ‘سی پیک مستقبل کا تعین کردیا گیا ہے اور یہ سفر جاری رہے گا، خالد منصور کے لیے میری جانب سے نیک خواہشات ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘سی پیک پاکستان کی لائف لائن ہے، یہ ہمیں پروگریسیو اور مکمل ترقی یافتہ ملک بنائے گا’۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘میں عاصم باجوہ کا سی پیک کو آگئے بڑھانے کے لیے خدمات انجام دینے اور سی پیک کو دوسرے مرحلے میں ڈھالنے کے لیے وسیع کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ان کی لگن اور عزم بڑے حوصلے اور سپورٹ کا ذریعہ تھا’۔


خالد منصور کو مبارک باد دیتےہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں خالد منصور کو سی پیک امور کے لیے وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر ٹیم میں خوش آمدید کہتا ہوں’۔اسد عمر نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘کارپورٹ سیکٹر میں وسیع تجربہ، چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے اور سی پیک کے چندمنصوبوں کی براہ راست قیادت انہیں سی پیک کے اگلے مرحلے کی قیادت کے لیے بہترین شخصیت بنادیتی ہے’۔


وزیراعظم کے ترجمان اور معاون خصوصی شہباز گل نے نوٹیفیکیشن ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان نے خالد منصور کو معاون خصوصی برائے سی پیک امور تعینات کرنے کی منظوری دی ہے’۔

یاد رہے کہ اگست 2019 میں وزیراعظم عمران خان نے سی پیک اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ سی پیک اتھارٹی تمام متعلقہ محکموں کے مابین روابط کو یقینی بنائے گی۔

بعد ازاں اکتوبر 2019 میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سی پیک اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے آرڈیننس پر دستخط کردیے تھے۔حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ‘سی پیک اتھارٹی’ ایک چیئرپرسن، ایک چیف ایگزیکٹو افسر، 2 ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور 6 اراکین پر مشتمل ہوگی۔

اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آرڈیننس کے ذریعے ‘سی پیک اتھارٹی’ کے قیام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا۔وفاقی حکومت نے 26 نومبر 2019 کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو 4 سال کے لیے سی پیک اتھارٹی کا چیئرپرسن مقرر کردیا تھا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی تقرری ایم پی ون اسکیل کے تحت 4 سال کی مدت کے لیے کی گئی ہے اور اس مدت کا آغاز عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے ہوگا جبکہ اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی و اصلاحات کے تحت کام کرے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس سی پیک اتھارٹی کے حوالے سے جاری صدارتی آرڈیننس کی معیاد ختم ہوگئی تھی جس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔حکومت نے 2 فروری 2021 کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کے شور شرابے کے دوران سی پیک اتھارٹی بل سمیت دیگر 3 بل منظور کرلیے تھے۔بعد ازاں مئی 2021 میں اپوزیشن کی غیر موجودگی میں سینیٹ سے متفقہ طور پر سی پیک اتھارٹی بل منظور کرلیا گیا تھا، جس کے بعد اس کو قانونی حیثیت مل گئی تھی۔

Back to top button