عاصم سلیم باجوہ کا بیٹا خود سی پیک کے خلاف مہم چلاتا رہا

پاک چین اقتصادی راہداری یعنی سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے صاحبزادے یوشع باجوہ کے پرانے ٹویٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے ہیں جن سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت ماضی میں سی پیک پراجیکٹ کی کھلے عام مخالفت کرتے رہے ہیں۔
اس سے پہلے ایک غیر ملکی ویب سائٹ فیکٹ فوکس پر سینیئر پاکستانی صحافی احمد نورانی کی باجوہ خاندان کے بیرون ملک مبینہ طور پر اربوں کے اثاثوں کی تفصیلات شائع ہونے کے بعد چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس رپورٹ کا بنیادی مقصد پاک چین سی پیک پراجیکٹ کو نقصان پہنچانا ہے۔ لیکن اب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے جنرل باجوہ کے صاحبزادے یوشع سلیم باجوہ کے 2017 کے اپنے ٹویٹس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود سی پیک پروجیکٹ کے خلاف ایک مہم کا حصہ رہے ہیں۔
2017 میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرڈالی جانے والی یوشع باجوہ کی ایک ٹویٹ میں سی پیک کو محض ایک سڑک قرار دیا گیا تھا۔ یوشع باجوہ نے لکھا تھا کہ سی پیک کے نام پر چین پاکستان کو لوٹ لے گا اور پاکستانی لوگ لسی پی کر پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھے بس دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔ یوشع باجوہ نے اپنی ٹویٹ میں یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ سی پیک منصوبوں سے متعلق تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور ان پر ایک عوامی بحث کا انعقاد ہونا چاہئے کیونکہ 2027 میں نواز شریف کی حکومت برسراقتدار تھی اس لیے یوشع نے لکھا تھا کہ نون لیگ کی حکومت ایسا نہیں کرسکتی کیونکہ یہ خود پہلے ہی اپنے کئی سکینڈلز کی وجہ سے کمپرومائزز کر رہی ہے۔
اسی طرح یوشع باجوہ نے دس مئی 2017 کو اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھا تھا کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور 2022 میں پاکستان کو پانچ ارب ڈالرز واپس کرنا ہوں گے۔ یاد رہے کہ پاک چین سی پیک پراجیکٹ کے حوالے سے کچھ اسی طرح کا موقف ٹرمپ انتظامیہ نے بھی اپنا رکھا ہے جس کی بنیاد پر وہ اس پروجیکٹ کی مخالفت کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالرز مالیت کے کئی پراجیکٹس پر مشتمل منصوبے سی پیک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلِس ویلز نے نومبر 2019 میں کہا تھا کہ ‘سی پیک پراجیکٹ پاکستان کے نوجوانوں کو روزگار مہیا نہیں کرتا ہے، یہ پاکستانی کمپنیوں کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتا جو چینی کمپنیوں کو پاکستان ایک دہائی پہلے مہیا کرتا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں اتنا عدم توازن ہے۔‘ ایلس ویلز نے سی پیک کو پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں امریکہ کے ترقیاتی ماڈل کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی چینی عوام ہیں۔‘
ان کی اس تقریر پر پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین نے سیاسی مقاصد یا مخصوص حکومتوں سے بالاتر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے اور وہ کبھی بھی ایسے وقت پر پاکستان سے ادائیگی کا تقاضا نہیں کرے گا جب ایسا کرنا پاکستان کے لیے مشکل ہو۔ چینی سفیر کا کہنا تھا کہ دوسری جانب آئی ایم ایف ہے جس کی قرضوں کی ادائیگی کا سخت نظام پاکستان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا۔تاہم وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے امریکی عہدیدار کی تنقید کا محتاتط جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور پاکستان چین اور امریکہ کی کشیدگی میں پارٹی نہیں بنے گا۔
خیال رہے کہ عاصم سلیم باجوہ کے بیٹے یوشع باجوہ امریکہ میں مقیم ہیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ ان کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔ تب عاصم سلیم باجوہ کور کمانڈر کوئٹہ تھے اور ان کا سی پیک سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اس لئے ان کے صاحبزادے کھل کر پاک چین سی پیک پروجیکٹ کی مخالفت کر رہے تھے کیونکہ ان کے مالی اور تجارتی مفادات امریکہ سے وابستہ تھے اور ہیں۔ اب جب باجوہ خاندان کے اربوں کے اثاثوں کے حوالے سے میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں تو عاصم باجوہ اور حکومت پاکستان نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان الزامات کا مقصد سی پیک پروجیکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ظاہر ہے کہ اب جبکہ عاصم سلیم باجوہ پاک چین سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں تو ان کو یہی موقف اختیار کرنا چاہیے۔
تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا یہ الزام ہے کہ امریکی حکومت سی پیک پروجیکٹ کی مخالف ہے اور یوشع باجوہ کی کمپنی پبلک ریلیشن کا کام کرتی رہی ہے لہذا ہوسکتا ہے کہ یوشع باجوہ کی سی پیک مخالف ٹویٹس امریکی ایجنڈے کی ترویج کے لیے ہوں۔ تاہم یوشع سے ان کے پرانے ٹویٹس سے متعلق جواب مانگے جانے کے بعد انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا ہے اور اب صرف ان کے منظورکردہ فالوورز ہی ان کے ٹویٹس دیکھ سکتے ہیں۔
