عالمی پابندیاں،پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام رُک گیا

سینیٹ میں وزارت توانائی نے بتایا ہے کہ پاکستان-ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے رک گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں سینیٹ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں وزارت توانائی کی جانب سے تحریری جواب جمع کروایا گیا ہے.جواب میں بتایا گیا ہے کہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر کام ایران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے رک گیا ہے، تاہم وفاقی کابینہ کی منظوری کے ساتھ ایران اور پاکستان نے گیس پائپ لائن ترمیمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
جواب کے مطابق ترمیمی معاہدے کے تحت پاکستان اور ایران کو منصوبہ مکمل کرنے کے لیے مزید 5 سال کا عرصہ دیا جائے گا تاہم مزید کوئی بھی پیش رفت امریکی پابنیوں کے اٹھنے سے وابستہ ہے۔
خیال رہے کہ پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران کے درمیان گیس منصوبہ جاری تھا، تاہم امریکا اور ایران کی جاری کشیدگیوں کے باعث مشرقی وسطیٰ کے اس ملک کو مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔
دریں اثنا سینیٹ اجلاس کے دوران ملکیتی حقوق برائے خواتین ترمیمی آرڈیننس 2019 پر بھی بحث ہوئی۔ اس دوران ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے پوچھا کہ ایسی کوئی متنازع ترمیم بھی نہیں تو پھر آرڈیننس کیوں لایا جارہا ہے؟ آرڈیننس کی بجائے بل لایا جائے تو منظور ہوجائے گا۔ اس پر پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ ایوان میں بار بار آرڈیننس سے متعلق بات کی جا رہی ہے لیکن رول پڑھ کر سنانے میں بھی شرم آرہی ہے، جب ایوان چل رہا ہے تو پھر آرڈیننس کیوں؟ آرڈیننس کے ذریعے ایسا نہ کیا جائے۔ شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ 23 دنوں بعد یہ آرڈیننس ایوان میں پیش کیا جارہا ہے، تاہم ہم قانون سازی میں حکومت کے ساتھ ہوسکتے ہیں لیکن ہمیں موقع ہی نہیں دیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما نے مزید کہا کہ آج کمیٹی کا اجلاس ہونا ہے تو جلد بازی میں یہ آرڈیننس پیش کیا جارہا ہے۔
ایوان بالا کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے مشاہد اللہ خان نے وزارت قانون سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے بھی کہا تھا کہ وزارت قانون والوں کی ڈگریاں چیک کریں۔ انہوں نے کہا کہ لا ڈیپارٹمنٹ کا مطلب وزیرقانون اور اٹارنی جنرل ہے، فروغ نسیم کے کچھ بلز نے جو ہم نے کمیٹیوں کو بھجوائے تھے۔ مشاہد اللہ خان نے دعویٰ کیا کہ فروغ نسیم نے اس پر اتنا برا منایا کہ مجھے دھمکی دی گئی، وزیر قانون نے دھمکی دی کہ آپ یاد رکھیں، وزیر قانون وہی ہیں جنہوں نے نیلسن منڈیلا کا بیان دیا اور تاحال وضاحت نہیں دی، وہ سب کے سامنے مجھے کہتے ہیں کہ میں دیکھ لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو 25، 30 سال سے کراچی میں کر رہے ہیں تو مجھے تو ڈر لگ گیا کیونکہ کراچی میں بوری بند لاشیں ملتی رہی، بلدیہ فیکٹری میں لوگوں جبکہ وکلا کو جلایا گیا، وزیر قانون بلدیہ فیکٹری کے قاتلوں کے بھی وکیل تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مزید کہا کہ وزیرقانون نے ایک پارلیمانی لیڈر کو دھمکی دی، یہ مجھے نہیں جانتے میں دھمکی نہ دیتا ہوں اور نہ لیتا ہوں۔
انہوں نے وزیرقانون فروغ نسیم پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر نے آرڈیننس کا نیا کام پکڑ لیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وزیرقانون وضاحت تو دیں کہ وہ کس پارٹی سے ہیں کیونکہ ان کے پارٹی صدر نے تو استعفیٰ دے دیا اور وزیر قانون کابینہ میں بیٹھے ہیں۔ اس دوران مشاہد اللہ خان اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیٹر بیرسٹر سیف کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ ایوان میں پارٹی کی بات نہ کی جائے، پارٹیز کی بات ہوئی تو پھر نئی بحث چھڑ جائے گی۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا (لیڈر) نیلسن منڈیلا تھا تو آپ کا (لیڈر) بھی جارج واشنگٹن ہے جو لندن میں بیٹھا ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button