کرنل انعام کو گرفتار کر کے وزارت دفاع نے بدنامی کمائی

لاپتہ افراد کی آواز بننے والے وکیل کرنل انعام الرحیم کی چالیس روز خفیہ اداروں کی حراست میں رہنے اور خود پر عائد جاسوسی کے الزامات ثابت نہ ہو سکنے کے بعد سپریم کورٹ کے احکامات پر رہائی سے وزارت دفاع کو بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔
کرنل انعام کی رہائی سے اس تاثرکو مزید تقویت ملی کہ ہماری ریاستی ایجنسیاں جمہوری اوراختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے بے جا طاقت کے استعمال کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں جس کا آج کے مہذب معاشروں میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
وزارت دفاع کے ماتحت خفیہ اداروں نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو40 روز بعد رہا کر دیا ہے۔ انعام الرحیم کو 17 دسمبر 2019 کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا اور ایک ہفتے بعد عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ گمشدہ وکیل جاسوسی کے الزامات پر وزارت دفاع کے ماتحت اداروں کے پاس ہیں۔
تاہم انہیں23جنوری 2020 کے روز سپریم کورٹ کے حکم پر رہا کر کے گھر پہنچا دیا گیا۔ رہائی کا حکم سپریم کورٹ نے تب جاری کیا جب وزارت دفاع کرنل انعام کو دشمن کا جاسوس ثابت کرنے کے حوالے سے عدالت میں کوئی بھی ثبوت فراہم نہ کر سکی۔ لیکن لطیفہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے کرنل انعام کی ضمانت کینسل کرواتے وقت وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے لیپ ٹاپ سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کرنل انعام پاکستان کے جوہری اثاثوں اور آئی ایس آئی کے بارے میں جاسوسی کر کے اہم راز دشمن کو مہیا کر رہے تھےلیکن ایک ہفتے کے بعد وزارت دفاع کے وکیل دوبارہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ حکومت کرنل انعام کی مشروط رہائی پر تیار ہے اگر وہ اپنا پاسپورٹ اور اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ ہمیں دے دیں تاکہ ہم تفتیش مکمل کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وزارت دفاع کا کرنل انعام کے لیپ ٹاپ سے جاسوسی کے ثبوت حاصل کرنے کا دعوی ایک سفید جھوٹ تھا۔
رہائی کی ایک شرط پوری کرتے ہوئے کرنل انعام رحیم نے اپنا پاسپورٹ توعدالت میں جمع کروا دیا لیکن اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ نہیں دیا جس پر انہیں قانونی طور پر مجبور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ سپریم کورٹ میں کرنل انعام کے جاسوس ہونے کا جھوٹا دعوی کرنے والے اٹارنی جنرل کی جانب سے مشروط رہائی کی پیشکش میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کرنل ریٹائرڈ انعام کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور انھیں بار بار ہسپتال لے کر جانا پڑتا ہے لہذا اگر وہ اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کروائیں اور اپنے خلاف چلنے والے مقدمہ کی تفتیش میں تعاون کریں تو انھیں رہا کیا جا سکتا ہے۔
مشروط پیشکش میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا تھا کہ کرنل انعام اپنے زیر استعمال لیب ٹاپ کا پاس ورڈ بھی فراہم کریں۔ تاہم اس کے برعکس 14 جنوری کو اس کیس میں ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور نے دعویٰ کیا تھا کہ وزارت دفاع کے ماتحت اداروں نے جب کرنل انعام کو حراست میں لیا تو ان کے لیب ٹاپ سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور حساس اداروں میں تعینات فوجی افسران کا ریکارڈ موجود تھا۔ اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرنل ریٹائرڈ انعام ایک جاسوس ہیں۔ تاہم اگلی ہی سماعت پر وفاق کی جانب سے مشروط رہائی کی پیشکش کر دی گئی۔ اس پیشکش پر انعام الرحیم کے وکیل نے پاسپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا تھا۔
تاہم سوال یہ ہے کہ اٹارنی جنرل انور منصور کے اس دعوے کا کیا بنا جس کے مطابق کرنل انعام دشمن کے جاسوس تھے اور ان کے پیچھے ایک پورا منظم نیٹ ورک تھا جس سے تحقیقات کی روشنی میں متعدد لوگوں کی گرفتاریاں ہوئی تھیں۔ اس صورتحال کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی ریاست جمہوری اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے بے جا طاقت کے استعمال کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔
