عثمان بزدار نے اپنی عیاشی کے لئے خزانے کی دھجیاں اُڑا دیں

کپتان کے وسیم اکرم پلس وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپنی ذاتی عیاشی کے لیے قومی خزانے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی سرکاری رہائش گاہ 7کلب کی کروڑوں روپے سے سیون اسٹار تزئین و آرائش کرواتے ہوئے ٹوائلٹس، فرنیچر اور پردے سمیت ہر چیز تبدیل کروادی ہے۔
عوامی حلقوں کی طرف سے صفر کارکردگی کی بنا پر تنقید کا شکار عثمان بزدار نے چیف منسٹرز انیکسی کے ایگزیکٹو سوئیٹس اپنے رشتہ داروں کیلئے مختص کر دئیے ہیں جہاں وزیراعلیٰ، ان کے خاندان اور رشتہ داروں کو شاہانہ کھانا مفت مہیا ہوتا ہے۔ جی او آر ون کی پرتعیش تزئین و آرائش وہاں آنے والوں کے لیے حیران کن ہے۔ صرف پورے مکان کی ہی تزئین و آرائش نہیں کی گئی بلکہ سرکاری رہائش گاہ کو انتہائی فضول خرچی کے ساتھ مہنگے فرنیچر اور ہاتھوں سے بنے قالینوں سے سجایا گیا ہے۔ تمام ٹوائلٹس جو معقول طور پر اچھی حالت میں تھے، ان کی جگہ درآمد شدہ سیرامکس استعمال کئے گئے ہیں۔ اخراجات کی سطح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ کی خلوت گاہ کے لئے پردوں کی قیمت 15؍ ہزار روپے فی مربع فٹ ہے۔
اندرون خانہ کی خبر رکھنے والوں کے مطابق متعدد بڑے اسکرین کے ایل ای ڈی ٹیلی ویژن نصب کئے گئے ہیں۔ فیڈرل اور صوبائی چیف ایگزیکٹوز ہائوسز کے بکثرت دورے کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لاہور میں وزیر اعلی کے لیے ریاست کے خرچے پر اتنی پرتعیش رہائش گاہیں پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔ سابق وزیراعلیٰ سردار عارف نکئی کے بعد کبھی کسی وزیر اعلی نے چیف منسٹر انیکسی کو بطور سرکاری رہائش گاہ کے استعمال نہیں کیا۔ شہباز شریف اور چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے ادوار میں اپنی نجی رہائش گاہوں ہی میں قیام کو ترجیح دی اور انہوں نے7 کلب کو دفتر کے طور پر استعمال کیا۔ بعدازاں پرویز الٰہی نے نیا دفتر 8 کلب بنایا۔ ان کے دور میں زیادہ تر 7؍ کلب زیر استعمال نہیں رہا تاہم شہباز شریف نے اپنے دونوں ادوار میں 7؍ کلب کوہی اپنے مرکزی دفتر کے طور پر استعمال کیا۔ 7؍ کلب کی آرائش پہلے ہی پُر وقار اور مناسب تھی، سابق وزرائے اعلیٰ نے پردے اور فرنیچر تبدیل نہیں کرائے۔ ایک بار تو شہباز شریف کے دور میں وزیراعلیٰ کے ذاتی دفتر کی چھت گر گئی لیکن انہوں نے کسی بڑی تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔ پورا فرنیچر پہلے والا ہی رہا۔
گزشتہ وزرائے اعلیٰ غیرملکی معززین اور سربراہان مملکت کو پرانے طرز کے مکان ہی میں مدعو کرتے رہے۔ 7؍ کلب کا دورہ کرنے والے باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بزدار نے سرکاری رہائش گاہ 7؍ کلب کی پرتعیش تزئین و آرائش پر بے دریغ قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر دئیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سرکاری خرچ سے چائے، ظہرانے، اور عشائیہ کے حقدار ہیں لیکن وزیراعلیٰ، ان کے خاندان اور رشتہ داروں کے لئے کھانے پینے کے اخراجات سرکاری خزانے سے پورے نہیں کئے جا سکتے۔ چاہے وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ اسے مذکورہ اخراجات اپنی جیب سے پورے کرنے ہوتے ہیں لیکن بزدار نے یہ تمام اخراجات ریاست کے کھاتے سے پورے کئے۔
وزیراعلیٰ ہائوس کی انیکسی جو 6؍ ایگزیکٹو سوئیٹس پر مشتمل عمارت ہے اور جو لاہور کے دورے پر آنے والے وفاقی وزراء، دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے لئے خاص طور پر بنائی گئی ہے وہ جولائی 2018ء سے بزدار کے فرسٹ کزنز کے تصرف میں ہے جو اسے ڈیرہ غازی خان اور تونسہ سے آنے والے مہمانوں سے ملنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اور تمام اخراجات سرکاری خزانے سے پورے کئے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بزدار کا سرکاری دسترخوان طلائی اور نقرئی برتنوں اور کراکری سے مزین ہے جہاں پانی اور مشروب کے لئے نہایت قیمتی بلوری گلاسں استعمال کئے جاتے ہیں۔ بزدار کی سرکاری رہائش گاہ کے یہ شاہانہ اخراجات آج کل پنجاب کے وزراء کا پسندیدہ موضوع گفتگو ہے۔ چونکہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ بزدار کے پشت پناہ ہیں لہذا یہ لوگ پی ٹی آئی کی بچت پالیسی کی اس کھلی خلاف ورزی پر کھل کر نہیں بول رہے۔
