عدالتی حکم کے بعد عمران کے لئے آگے کنواں اور پیچھے کھائی


سپریم کورٹ کی جانب سے سانحہ اے پی ایس کے ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف چار ہفتوں میں سخت ایکشن لینے کے احکامات کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا وزیراعظم ایسا کر پائیں گے یا نہیں؟ کیونکہ اگر وہ ایکشن نہیں لیتے تو توہین عدالت ہوگی اور اگر ایکشن لیتے ہیں تو فوج کی توہین کا خطرہ ہے۔ ایسے میں یوں لگتا ہے کہ خان صاحب کے آگے کنواں ہیں اور پیچھے کھائی ہے۔
دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ازخوڈ نوٹس کیس میں عمران خان نے خود عدالت سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ وہ حکم دے، حکومت ایکشن لے گی۔ وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں یہ اعلان بھی کیا کہ ان کے دور حکومت میں ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے اور وہ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ لہذا اب جب کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد انہیں سانحہ اے پی ایس کے ذمہ دار سینئر فوجی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے تو ان کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ سانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کے لواحقین سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام، سابق کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کے خلاف اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکامی پر مقدمات درج کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن قانونی ماہرین کے خیال میں یہ مقدمات اتنی آسانی سے درج نہیں ہو سکتے کیونکہ اس میں قانونی حدود کے سوالات درپیش ہیں۔ انکا خیال ہے کہ فوجی افسران کے خلاف مقدمات میں قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا ہے کہ لواحقین چاہیں تو جس کو اس معاملے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، وہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں لیکن حکومت اپنے طور پر ایسا نہیں کرسکتی۔ انہوں نے بتایا کہ سکول سانحہ کے متاثرین جسے بھی اس واقعے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں وہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں لیکن اس کے بعد پھر تفتیش ہو گی اور اس میں متعلقہ پولیس افسر اس بات کا بھی تعین کرے گا کہ آیا یہ پولیس کے اختیار میں آتا ہے یا پھر اس معاملے کو آرمی اپنے قوانین کے تحت طے کرے گی۔ جسٹس وجیہہ کا کہنا تھا کہ بظاہر اس واقعے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان سے یہ لگتا ہے کہ آرمی اس معاملے کو اندرونی طور پر طے کر سکتی ہے، میرے خیال میں آرمی یہ دلیل دے سکتی ہے کہ ان کے اندر احتساب کا ایک نظام ہے اور جو افراد بھی اس معاملے میں غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف متعلقہ ادارہ ایکشن لے سکتا ہے اور اس میں پولیس کی حدود کا دخل نہیں ہے۔

تاہم فوجی قوانین پر گہری نظر رکھنے والے ایک سینئر وکیل کے مطابق یہ معاملہ سول اتھارٹی کے ماتحت آتا ہے اور لواحقین نا صرف یہ کہ ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں بلکہ اس کے بعد پولیس متعلقہ آرمی افسران کو طلب کر سکتی ہے اور اگر آرمی افسران انصاف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں یا تفتیش میں تعاون نہ کریں یا اس میں رکاوٹ ڈالیں تو ان کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بھی موجود ہے۔
لیکن کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان میں کمیشن بنتے ہیں، ہزاروں صفحات لکھے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جاتا کہ کسی بھی جرم یا غفلت کے مرتکب افراد کو سزائیں دی جائیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ کچھ برس پہلے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایبٹ آباد کمیشن بھی بنا تھا لیکن اس کی نہ رپورٹ کو منظر عام پر لایا گیا اور نہ ہی کسی ذمہ دار کو سزا دی گئی۔
معروف قانون دان جسٹس رشید رضوی کا کہنا ہے کہ شروعات کہیں سے تو ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ایک نئی ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے کیونکہ ایف آئی آر درج ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کئی کمیشن بنتے ہیں، ماضی میں جسٹس حمود الرحمان کمیشن بھی بنا لیکن ایکشن نہیں لیا گیا۔‘‘جسٹس رشید رضوی کا کہنا ہے کہ اے پی ایس کے واقعے کے حوالے سے ہونے والی سماعت کے بعد کم ازکم شروعات کہیں سے تو ہونی چاہیے اور کسی کو تو سزا ملنا چاہیے ورنہ ملک میں یہ معاملات اس طرح ہی چلتے رہیں گے۔
یاد رہے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا جو کہ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن نے 500 سے زائد صفحات پر مبنی رپورٹ جولائی 2020 میں چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجی تھی۔
کمیشن کی جانب سے اس واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں اور مارے جانے والے بچوں کے والدین سمیت 132 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تھے جن میں 101 عام شہری اور 31 سکیورٹی اہلکار اور افسران شامل تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والا گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے اس واقعے میں ملوث متعدد افراد کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلا کر سزا دی ہے تاہم ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے بچے ایک چھاؤنی میں قائم فوج کے زیر انتظام سکول میں حصولِ تعلیم کے لیے گئے تھے وہ جنگ کے محاذ پر نہیں تھے اور یہ کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کی فیس سکول انتظامیہ کو باقاعدگی سے دیتے تھے تو پھر یہ واقعہ کیسے پیش آیا، کس کی ایما پر ہوا اور کس کی غفلت کا نتیجہ تھا؟والدین کا یہی مطالبہ رہا ہے کہ اس سلسلے میں ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور جن کی غفلت یا لاپرواہی سے یہ حملہ ہوا ہے انھیں سزا دی جائے۔
10 نومبر کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار نے وزیراعظم عمران خان کو اس بات سے آگاہ کیا کہ اپنے آخری آرڈر میں عدالت نے باقاعدہ نام دیئے تھے کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن کوئی ایکشن نہ ہوا لہذا اب انکی حکومت ذمہ داران فوجی افسران کے خلاف کارروائی کرکے 4 ہفتوں میں عدالت میں رپورٹ جمع کروائے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایسا کوئی ایکشن لے پاتے ہیں یا نہیں؟

Back to top button