عدنان صدیقی لکس ایوارڈز والوں سے کیوں ناراض ہوئے؟

سالانہ 21 ویں لکس اسٹائل ایوارڈز کی تقریب کے دوران قومی ترانے کا ری مکس ورژن پیش کرنے پر سینئر اداکار عدنان صدیقی تقریب کی انتظامیہ سے ناراض ہو گئے، اور یہ موقف اختیار کیا کہ تخلیقیت کے نام پر کسی کو بھی قومی ترانے میں ردو بدل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قومی ترانے کے ری مکس کو لاہور میں ہونے لکس سٹائل ایوارڈ شو میں 24 اور 25 نومبر کی شب پیش کیا گیا تھا۔
اس ری مکس قومی ترانے کو معروف گلوکار شہزاد رائے اور بلوچ فوک فنکار عبدالوہاب بگٹی نے گایا تھا۔عبدالوہاب بگٹی نے رواں برس کوک سٹوڈیو کے ’کنا یاری‘ سے شہرت حاصل کی تھی۔قومی ترانے کو دونوں گلوکاروں نے ری مکس میوزک کے ساتھ پیش کیا۔ ترانے کی ویڈیو کے دوران ملک کے مختلف علاقوں کے مناظر دکھائے گئے، ری مکس قومی ترانے کے دوران ایوارڈ شو کے مہمان ادب میں کھڑے ہوگئے۔ لیکن ترانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عدنان صدیقی نے اس پر اظہار برہمی کیا۔ اداکار نے انسٹاگرام پوسٹ میں واضح کیا کہ انہیں قومی ترانے کا ری مکس بالک اچھا نہیں لگا، اور انہیں مایوسی ہوئی، اپنی پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ قومی ترانے کو آج تک تمام تقریبات اور ایوارڈز شو میں اصل موسیقی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جس سے عوام میں حب الوطنی بیدار ہوتی ہے۔ اداکار نے لکھا کہ قومی ترانے کو شاندار موسیقی کے ساتھ لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا، انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستانی آئین کسی کو تخلیقیت کے نام پر قومی ترانے کو ری مکس کی صورت میں پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
عدنان صدیقی نے کہا کہ ممکن ہے کہ ان کی رائے غلط بھی ہو لیکن انہیں قومی ترانے کا ری مکس اچھا نہیں لگا، عدنان صدیقی کی پوست پر متعدد افراد نے کمنٹس کرتے ہوئے ان کی بات سے اتفاق بھی کیا۔ خیال رہے کہ رواں برس یوم آزادی کے موقع پر حکومت پاکستان نے اصل قومی ترانے کی نئی ریکارڈنگ کو ریلیز کیا تھا، قومی ترانے کو 68 سال بعد دوبارہ پرانی دھن پر ہی ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس بار ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت اسلام آباد کے گلوکاروں نے اس میں اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔دوبارہ ریکارڈ کیے گئے قومی ترانے کی دھن کو 48 موسیقاروں نے پرانی دھن کی طرح جدید انداز میں پیش کیا اور اسے ملک کے تمام علاقوں کے 155 گلوکاروں نے گایا، دو منٹ سے بھی کم دورانیے کی قومی ترانے کی ویڈیو میں 600 سے زائد افراد کو وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔
قومی ترانے کو پہلی بار قیام پاکستان کے چند سال بعد 1953 میں ریکارڈ کیا گیا تھا اور رواں برس 75 ویں یوم آزادی پر ترانے کی نئی ریکارڈنگ کی گئی تھی، نئی ریکارڈنگ میں پرانی دھن اور انداز کو برقرار رکھا گیا تھا، جس وجہ سے لوگوں نے قومی ترانے کی تعریفیں بھی کی تھیں۔
