عدنان صدیقی کی فلم ’’جامن کا درخت‘‘ کانز ورلڈ ایوارڈ لے اُڑی

معروف فلم سٹار عدنان صدیقی کی فلم ’’جامن کا درخت‘‘ کانز ورلڈ ایوارڈ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگئی، فلم کے ہدایت کار رافع راشدی نے انسٹا گرام پر اعلان کیا ہے کہ ’جامن کا درخت‘ نے ’بہترین سماجی انصاف پر مبنی مختصر فلم‘ کی کیٹیگری کا ایوارڈ جیت لیا ہے، انہوں نے ساتھ ہی فلم کی کاسٹ کو بھی مبارک باد دی، کانز ورلڈ فلم فیسٹیول کا انعقاد فرانس میں ہوتا ہے، یہاں دنیا بھر کی فیچر اور مختصر فلموں سمیت ویب سیریز کی نمائش کی جاتی ہے۔ ماضی میں بھی کانز ورلڈ فلم فیسٹیول کے لیے پاکستانی مختصر اور فیچر فلمیں منتخب کی جا چکی ہیں اور کئی فلموں نے ایوارڈ بھی اپنے نام کیا ہے۔جامن کا درخت’ کا ٹریلر گزشتہ ماہ جنوری میں ریلیز کیا گیا تھا، جس میں عدنان صدیقی کو منفی کردار میں دکھایا گیا تھا، ٹریلر میں انہیں شوبز اور فیشن انڈسٹری کا حصہ بننے والی خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑٓ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ٹریلر سے اگرچہ فلم کی کہانی سمجھنا مشکل ہے، تاہم ہدایت کار نے ٹریلر کو شیئر کرتے ہوئے پوسٹ میں بتایا کہ اس کی کہانی مرد اور خواتین کے درمیان تعلقات اور رضامندی کے گرد گھومتی ہے، مختصر ٹریلر میں عدنان صدیقی کے کردار کریم کو ایک طرف میڈیا انڈسٹری کے نامور شخص کے طور پر دکھایا گیا تو دوسری طرف اسے خواتین کا استحصال کرتے دکھایا گیا، ’جامن کا درخت‘ کی کہانی بی گل نے لکھی ہے اور فلم کو فیصل کپاڈیا نے پروڈیوس کیا جبکہ اسے ہدایت کار رافع راشدی کی پروڈکشن کے بینر تلے ریلیز کیا جائے گا اور انہوں نے ہی اس کی ہدایات دی ہیں۔ ’’جامن کا درخت‘‘ کے ٹریلر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی کہانی عورت اور مرد کے تعلقات، ہراسانی، جنسی حملوں اور ہوس پرستی کے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے، فلم میں عدنان صدیقی کے ساتھ ماہا طاہرانی اور فوزیہ امن بھی شامل ہیں اور اسے رافع راشدی پروڈکشن نے پروڈیوس کیا ہے۔

Back to top button