علامہ خادم رضوی کی نماز جنازہ ادا، بیٹا جانشین مقرر

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے انتقال کرجانے والے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی نے پڑھائی۔
نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی جبکہ خادم حسین رضوی کے جسد خاکی کو ایمبولنس کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا تھا۔علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی خصوصی انتظام کیے گئے تھے جبکہ لاہور ٹریفک پولیس افسر کے مطابق 5 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور 36 انسپکٹر شہر میں ٹریفک کے انتظامات کو دیکھنے کے لیے موجود تھے۔نماز کے ادائیگی کے بعد جسد خاکی کو لاہور کے مختلف راستوں نیازی شہید انٹرچینج، بند رود، بابو سابو انٹرچینج سے لے جاکر یتیم خانہ چوک کے قریب مسجد و مدرسہ رحمت الالعالمین کے احاطے میں سپردخاک کیا گیا۔
واضح رہے کہ خادم حسین رضوی اسی مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔سربراہ ٹی ایل پی کے جنازے کے موقع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ کچھ افراد کی جانب سے موبائل فون کے سگنل میں دشواری کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔
خیال رہے کہ 19 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی 54 برس کی عمر میں لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔ٹی ایل پی کے ترجمان حمزہ نے بتایا تھا کہ خادم حسین رضوی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا اور گزشہ چند دنوں سے بخار تھا۔19 نومبر کی دوپہر کو ان کی طبیعت بگڑی تھی جس پر انہیں شیخ زید ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں رپورٹس کے مطابق انہیں مردہ قرار دیا گیا تھا تاہم ان کے اہلِ خانہ انہیں نزدیکی نجی ہسپتال لے کر گئے جہاں ان کی وفات کی تصدیق کی گئی تھی۔خادم رضوی کے انتقال پر چند لوگوں نے ان کی موت کی وجہ کووِڈ 19 کو قرار دیا تھا جبکہ دیگر نے کہا تھا کہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی تاہم ان کے اہلِ خانہ اور ان کی پارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر موت کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔خادم حسین رضوی کے سوگواران میں دو بیٹے، تین بیٹیاں اور بیوہ شامل ہیں۔
ادھر نماز جنازہ کے موقع پر ٹی ایل پی کے نئے امیر کا بھی اعلان کردیا گیا اور خادم حسین رضوی کے بڑے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔اس حوالے سے جنازے میں شریک تحریک لبیک یارسول کے سربراہ آصف اشرف جلالی نے بتایا کہ سعد حسین رضوی کو ٹی ایل پی کا نیا امیر بنایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سعد حسین رضوی علامہ خادم حسین رضوی کے بڑے بیٹے ہیں۔
خادم حسین رضوی 22 جون 1966 کو پنجاب کے ضلع اٹک میں نکہ توت میں اجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے جبکہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنی بتدائی زندگی کے بارے میں اپنے قریبی لوگوں کو بھی زیادہ نہیں بتایا۔انہوں نے جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔علامہ خادم حسین رضوی حافظ قرآن اور شیخ الحدیث تھے اور لاہور میں داتا دربار کے قریب پیر مکی مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کرتے تھے۔ وہ 2006 میں گوجرانوالہ کے قریب ایک حادثے کا شکار ہوئے تھے جس کے بعد سے وہیل چیئر پر ہیں جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے یہ حادثہ ان کی گاڑی کے ڈرائیور کی وجہ سے پیش آیا تھا جو گاڑی چلاتے ہوئے سو گئے تھے۔علامہ خادم حسین رضوی کی گاڑی راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی تھی۔وہ مشہور اسلامی اسکالر امام احمد رضا خان بریلوی کے پیروکار تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button