علیم خان دوبارہ پنجاب کابینہ میں شامل، حلف اٹھا لیا

تحریک انصاف پنجاب کے رہنما علیم خان خان نے پنجاب کابینہ میں دوبارہ شمولیت اختیار کرلی۔عبدالعلیم خان کو پنجاب کابینہ میں شامل کرنے کی تقریب گورنر ہاؤس لاہور میں ہوئی۔ گورنر پنجاب چودھری سرور نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔
رہنما تحریک انصاف عبدالعلیم خان نے دوبارہ صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے ان سے حلف لیا۔حلف برداری کی اس سسادہ تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ہمراہ صرف گیارہ شخصیات شریک ہوئیں۔ چیف سیکرٹری، وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، صوبائی وزیر چودھری ظہیرالدین، صوبائی وزیر میاں خالد محمود اور عبدالعلیم خان کی فیملی حلف برداری میں شریک ہوئی۔یاد رہے کہ عبدالعلیم خان نے نیب کیس میں گرفتاری پر وزارت سے استعفیٰ دیدیا تھا، اب انھیں دوبارہ وزیر کی حیثیت سے ذمہ داری دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال 6 فروری کو نیب نے پی ٹی آئی رہنما اور اس وقت کے وفاقی وزیر علیم خان کو نیب آفس میں پیشی کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔علیم خان نے نیب کی جانب سے گرفتار کیے جانے پر فوری اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ قومی احتساب بیورو نے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا۔اس اعلامیے میں ملزم عبدالعلیم خان کی گرفتاری کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کو آپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے بطور سیکریٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اسی کی بدولت پاکستان اور بیرون ملک مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔اعلامیے میں مزید تفصیلات بتائی گئی تھیں کہ ملزم عبدالعلیم خان نے ریئل اسٹیٹ کاروبار کا آغاز کرتے ہوئے اس کاروبار میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی جبکہ ملزم نے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900 کینال زمین خریدی جبکہ 600 کینال کی مزید زمین کی خریداری کے لیے بیانیہ بھی ادا کی گیا، تاہم علیم خان اس زمین کی خریداری کے لیے موجود وسائل کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔نیب لاہور کے مطابق ملزم علیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اپنے اثاثوں کے علاوہ 2005 اور 2006 کے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں تھیں جبکہ ملزم کے نام موجود اثاثوں سے کہی زیادہ اثاثے خریدے گئے جس کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔اس اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر ریکارڈ میں ردوبدل کے پیش نظر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
15 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق صوبائی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10، 10 لاکھ روپے کے 2 مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ آمدن سے زائد اثاثے، پاناما پیپز میں آف شور کمپنی کے ظاہر ہونے اور ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق عبدالعلیم خان کے خلاف نیب تحقیقات کررہا تھا اور وہ 3 مرتبہ پہلے بھی نیب کے سامنے پیش ہوچکے تھے۔علاوہ ازیں احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر متعدد مرتبہ علیم خان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع بھی دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button