علی سد پارہ پہاڑوں کا بیٹا , واپس تو آ گیا مگر کاندھوں پر

، معروف پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ کی نعش برآمد ہونے کی خبر سوشل میڈیا میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ایک مرتبہ پھر کوہ پیما محمد علی سدپارہ کا نام ٹوئٹر کی ٹرینڈز لسٹ کا حصہ بنا، ان کے کارنامے گنوائے گئے اور یادیں تازہ ہوئیں۔البتہ اس مرتبہ ان سے متعلق ہونے والی گفتگو میں ماضی کی طرح کا انتظار اور بے یقینی نہیں بلکہ مغفرت کی دعائیں اور ان کے صاحبزادے کی جواں ہمتی کے لیے داد کا رنگ باقی سب پہلوؤں پر غالب رہا۔
مسکان اشرف نے محمد علی سدپارہ سے منسوب جملے شیئر کرتے ہوئے لکھا ’وہ صحیح کہتے تھے میں پہاڑوں کا بیٹا ہوں۔ اتنا عرصہ پہاڑوں نے اپنے بیٹے کو اپنے دامن میں چھپائے رکھا۔ وہ جس کو ہم نے پہاڑوں کی قسم دے کر آنے کا کہا تھا وہ واپس اگیا مگر کندھوں پر۔‘ٹویپس کی خاصی بڑی تعداد محمد علی سدپارہ کا جسد خاکی ملنے کی اطلاع دوسروں سے شیئر کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لیے دعاگو نظر آئی۔

کچھ صارفین نے لاش ملنے کو اہلخانہ کا انتظار ختم ہونے کی وجہ سے اطمینان کا باعث قرار دیا تو کچھ ایسے بھی تھے جو غم تازہ ہوتا دیکھ کر بے چینی کا اظہار کیے بغیر رہ نہ سکے۔

محمد علی سد پارہ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ان سے متعلق ساتھی کوہ پیماؤں اور قریبی جاننے والوں کے بیانات ٹائم لائنز پر شیئر ہوئے تو مختلف صارفین اپنے محبت بھرے جذبات کا اظہار بھی کرتے رہے۔
محمد علی سدپارہ کا ذکر ہوا تو صارفین ان کے ساتھ لاپتہ ہونے والے غیرملکی کوہ پیماؤں کو بھی یاد کرنا نہ بھولے۔ دونوں غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں ان کے عزیزوں کے پاس روانہ کی جائیں گی۔

اپنی جواں ہمتی کے باعث بہت سوں کے لیے قابل تقلید ٹھہرنے والے محمد علی سدپارہ سے متعلق گفتگو کرنے والے کچھ صارفین نے ان کی زندگی کو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ انسانیت کے لیے قابل فخر قرار دیا۔

سوشل میڈیا صارفین جہاں محمد علی سدپارہ سے متعلق یادیں تازہ کرتے رہے وہیں ان کے صاحبزادے کا غم بانٹنے کی کوشش کرتے ہوئے دعائیہ کلمات شیئر کرتے رہے۔

