عوامی طاقت سے وفاق سے این ایف سی ایوارڈ چھین کر رہیں گے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا راج ختم کردیا اور اب شہر کی ترقی پر کام کریں گے۔’اگر آپ ہمارا ساتھ دیتے ہیں تو وفاق سے این ایف سی ایوارڈ بھی چھین کر رہیں گے’۔
کراچی میں ناظم آباد کے کے ڈی اے چوک پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سمیت دیگر وزرا کے ہمراہ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی طاقت سے اپنے حقوق چھین کر رہیں گے.چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ نالوں کو صاف کریں گے مگر انصاف کے ساتھ صاف کریں گے، نالوں کی صفائی کے دوران کسی کا گھر نہیں توڑیں گے، اگر کسی کا گھر توڑیں گے تو پہلے اسے متبادل گھر فراہم کریں گے۔
بلاول بھٹو کی جانب سے مذکورہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کراچی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے 11 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا تھا کہ کورونا کے پھیلاؤ کے بعد فوری طور کمیٹی بنا کر اقدامات کیے اور اسی طرح ٹڈی دل کے معاملے پر بھی فوری ایکشن لیا گیا اور اب بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں جہاں سیلابی صورتحال ہے اس سے اسی طرح نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کراچی میں کارکنوں سے خطاب میں مزید کہا کہ ‘کراچی کا جو پیسہ موجود ہے، سپریم کورٹ سے درخواست کریں گے کہ وہ پیسہ ہمیں کراچی کے عوام پر خرچ کرنا ہے’۔حالیہ بارشوں سے متعلق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تاریخی بارش کی وجہ سے شہریوں کو نقصان پہنچا مگر آج کے درمیان وزیر اعلیٰ، وزیر بلدیات لے کر آیا ہوں جو عوام کی خدمت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بارش کے متاثرین کا خیال رکھنا پڑے گا اور گرین لائن کی وجہ سے برساتی نالوں کو نقصان پہنچا اس مسئلے کو حل کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چھت کی فراہمی تک ہم کسی کا گھر نہیں گرائیں گے اور متاثرین کو نئی جگہ فراہم کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کراچی کے عوام نے تاریخی بارش اور کورونا وبا کا مقابلہ کیا ہے اس لیے سندھ کے عوام کا پیسہ سندھ کو دو تاکہ ہم ان کے مسائل حل کریں’۔
خیال رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر کے مختلف علاقوں میں مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوران ریکارڈ بارش سے سیلابی حالات پیدا ہوگئی تھی اور بارشوں میں مختلف حادثات میں بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔بارش کے باعث شہر کے چھوٹے نالے ابل پڑے جبکہ ندیاں بھی اوور فلو ہوگئیں اور ان کا پانی اطراف کے علاقوں میں داخل ہوگیا تھا جس کے باعث وہاں کے مکین چھتوں پر پناہ لینے یا نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے۔برساتی پانی نے جن آبادیوں میں تباہی مچائی ان میں رزاق ٹاؤن، مدینہ ٹاؤن، خلد آباد، رضا سٹی، قائد آباد مرغی خانہ سمیت نیا ناظم آباد، نیو کراچی بھی شامل ہیں۔
قبل ازیں اپنے ایک بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد کی صورتحال کو تناظر میں قومی اسمبلی کا اجلاس مؤخر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اراکین قومی اسمبلی اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں بارش سے متاثرہ افراد کی خدمت میں مشغول ہیں، اس وقت منتخب عوامی نمائندوں کی موجودگی کی سب سے زیادہ ضرورت متاثرینِ برسات کے درمیان ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اجلاس مؤخر کرنے کے سلسلے میں سپیکر اسمبلی کو بھی استدعا کی ہے۔ حالیہ طوفانی برسات کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں تشویش ناک صورت حال ہے۔پی پی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی مجموعی قومی مفاد میں ہونے والی کسی بھی قانون سازی کی مخالف نہیں ہے۔ موجودہ صورت حال میں حکومت اور اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کا مقصد متاثرینِ برسات کی داد رسی ہونا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button