علی وزیر کو ایک تقریر پر ایک برس قید کیوں کاٹنا پڑی؟


ریاستی اداروں کے خلاف ایک قابل اعتراض تقریر کرنے کے جرم میں پچھلے ایک برس سے جیل کاٹنے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے ایم این اے علی وزیر کو بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے لیکن ان کے خلاف غداری کیس کی سماعت جاری رہے گی۔ تاہم اس سوال کا جواب دینے کو کوئی تیار نہیں کہ ایک تقریر کرنے کے جرم میں ایک منتخب رکن قومی اسمبلی کو ایک برس تک قید میں رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟
پچھلے ایک برس میں علی وزیر نے اپنی ضمانت کے لیے ہر عدالت سے رجوع کیا لیکن ریاستی اداروں نے ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہونے دی تھی۔ تاہم 30 نومبر کے روز جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے علی وزیر کی درخواست پر سماعت کے بعد چار لاکھ کے مچلکوں کے عوض انکی ضمانت منظور کر لی۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس 16 دسمبر 2020 کو سندھ پولیس کی درخواست پر علی وزیر کو پشاور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔ان کو چھ دسمبر 2020 کو کراچی میں نکالی گئی پی ٹی ایم کی ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان پر غداری کا الزام عائد کر دیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ’کیا علی وزیر کے الزامات پر پارلیمان میں بحث نہیں ہونی چاہیے؟‘ انھوں نے کہا کہ ’علی وزیر نے اپنی تقریر میں صرف ایک شکایت کی تھی لہذا ان کا گلہ دور کیا جانا چاہیے تھا بجائے کہ انہیں گرفتار کر لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ اپنوں کو سینے سے لگانے کے بجائے پرایا کیوں بنایا جا رہا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’علی وزیر کی جانب سے اداروں پر عائد کردہ ایک بھی الزام درست نکلا تو کیا ہوگا؟‘
پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ علی وزیر پر اس طرح کے اور بھی مقدمات ہیں اور کس بھی اور مقدمے میں ان کی ضمانت نہیں ہوئی۔ اس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ’کسی اور کیس میں ضمانت نہیں ہوئی تو اسے سنبھال کر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ علی وزیر پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنتا تو پھر ان پر متعلقہ دفعہ کیوں لگائی گئی؟‘
سپریم کورٹ نے علی وزیر کی ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ جب انکے شریک ملزمان کی پہلے ہی ضمانت ہوچکی تو انہیں بھی جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔ دوران سماعت جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے کہ ریاست مذاکرات کرکے شرپسندوں کو چھوڑ رہی ہے، ہو سکتا ہے کل علی وزیر کے ساتھ بھی کوئی معاملہ طے ہو جائے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ان لوگوں کے ساتھ بھی معاملات طے کیے جا رہے ہیں جو لوگوں کو شہید کر رہے ہیں، کیا وہاں قانون کی کوئی دفعہ نہیں لگتی؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو گڈ طالبان اور بیڈ طالبان والا معاملہ لگتا ہے، کیا عدالتیں صرف ضمانتیں خارج کرنے کے لیے بیٹھی ہیں؟
اس موقع پر علی کے وکیل نے کہا کہ علی وزیر نے تو اپنی تقاریر میں صرف ریاست سے شکایت کی تھی، یہ بھی بتایا جائے کہ ان کی پشتو تقریر پر ایک سندھی پولیس افسر نے مقدمہ کیسے درج کر لیا جبکہ اسے معلوم ہی نہیں کہ تقریر میں کیا کہا گیا ہے؟ اس موقع بینچ میں شامل جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ سے واضح ہے کہ مقدمہ ترجمہ کرانے کے بعد درج ہوا۔
دوسری جانب رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف پر مبنی ایسے عدالتی فیصلوں سے انہیں امید کی کرن نظر آتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں توڑ پھوڑ اور تباہی مچانے والوں کے ساتھ معاہدے کیے گئے اور مظاہرین میں پیسے تقسیم کیے گئے۔منظور پشتین نے کہا کہ علی وزیر کے خاندان کے 17 افراد کو شہید کیا گیا، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف غداری کے مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، وکلا، صحافیوں اور حامیوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جنید صفدر کا ولیمہ 17 دسمبرکو رائیونڈ میں ہو گا
علی وزیر کی ضمانت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایم این اے محسن داوڑ نے کہا کہ اس میں بہت وقت لگا لیکن وہ خوش ہیں کہ علی وزیر ضمانت پر رہا ہو گئے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اور ریاستی حکام پشتونوں کے ساتھ انصاف کا دہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں، ایک جانب علی وزیر کو بے بنیاد مقدمے میں الجھا کر ایک برس سے زیر حراست رکھا جا رہا تھا تو دوسری جانب قاتل طالبان جنگجوؤں کو جیلوں سے رہا کیا جا رہا ہے۔

Back to top button