گوادر کی عورتیں سڑکوں پر نکلنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
’گوادر کو حق دو‘ تحریک میں شدت آنے کے بعد شہر کے مردوں کے بعد اب خواتین بھی مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل آئی ہیں جو کہ گوادر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ ‘گوادر کو حق دو’ تحریک کی جانب سے 15 نومبر سے گوادر کے پورٹ روڈ پر جاری دھرنے کی حمایت میں 29 نومبر کو سینکڑوں خواتین نے احتجاجی ریلی نکالی جسے شہر کی تاریخ میں خواتین کی سب سے بڑی ریلی قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے گوادر کو حق دو تحریک کے 4 مطالبات کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں لیکن دھرنے کے شرکاء ان پر عملدرآمد کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں۔گوادر سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی بہرام بلوچ نے شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے اس ریلی کو نہ صرف گوادر بلکہ بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی خواتین ریلی قرار دیا ہے۔ اس ریلی سے انگریزی، اردو اور بلوچی زبان میں خطاب کرتے ہوئے طالبہ نفیسہ بلوچ نے کہا کہ ’ہم گوادر کی مائیں اور بہنیں مولانا ہدایت الرحمان کو ڈرانے والوں کو یہ بتا دینا چاہتی ہیں کہ وہ ایک فرد نہیں ہیں بلکہ گوادر اور مکران کے مظلوم عوام کی آواز ہیں۔ ریلی سے گوادر کو حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کے علاوہ بڑی تعداد میں خواتین نے بھی خطاب کیا۔ بعض خواتین نے کہا کہ وہ مجبور ہو کر اپنے گھروں سے نکلی ہیں کیونکہ ان کے مردوں کا روزگار ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری اور ایرانی سرحد پر تجارت پر پابندیوں کے بعد ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ یہاں ظلم کی انتہا ہے۔ ہم بھوکے ہیں، بے روزگار ہیں، ہمیں نہ صحت اور تعلیم کی سہولت حاصل ہے۔ یہاں نہ پانی ہے اور نہ بجلی۔ ڈرانے والے اپنی طاقت دکھا چکے ہیں اور اب ہم اپنی طاقت دکھائیں گے۔ ہم نکلے ہیں ان اداروں اور کرپٹ لیڈروں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے اور مولانا سے ان کی بہنوں کا وعدہ ہے کہ وہ اس تحریک میں ان کے ساتھ ہیں۔
گوادر میں خواتین کی ریلی کا آغاز الجوہر پبلک سکول سے ہوا اور مختلف سڑکوں سے ہوتی ہوئی ریلی نے جیبڈی پارک پر جلسہ عام کی شکل اختیار کی۔ گوادر میں 15 نومبر سے دھرنے کے آغاز سے اب تک خواتین کی ریلی اپنی نوعیت کی تیسری بڑی ریلی تھی۔ اس سے قبل عام لوگوں اور بچوں کی بڑی ریلیاں نکالی گئیں لیکن خواتین کی ریلی سب سے منفرد تھی کیونکہ بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں پہلے خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے نکلنے کی مثال نہیں ملتی۔ سینیئر صحافی بہرام بلوچ نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل نہ صرف گوادر میں خواتین اتنی بڑی تعداد میں کسی احتجاجی ریلی میں شرکت لیے نہیں نکلی ہیں اور نہ ہی بلوچستان کے کسی اورعلاقے میں اس کی نظیر ملتی ہے۔ اُنھوں نے اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ جن مسائل کے حوالے سے گوادر میں جو دھرنا دیا جا رہا ہے ان سے گوادر کی پوری آبادی متاثر ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ گوادر میں لوگوں کے معاش کے دو بڑے ذرائع ہیں جن میں ماہی گیری اور ایران سے سرحدی تجارت شامل ہیں۔ سس وقت یہ دونوں شعبے تباہ ہو گئے ہیں۔ ماہی گیری کو ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری جبکہ ایران سے سرحدی تجارت کو ٹوکن سسٹم کے نام پر حکومت کی جانب لگائی جانے والی پابندیوں نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اسی طرح لوگ بہت بڑی تعداد میں چیک پوسٹوں سے متاثر ہیں۔
بہرام بلوچ کے مطابق چونکہ گوادر کی آبادی کا ہر فرد متاثر ہے اس لیے خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔
یاد رہے کہ حق دو تحریک کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں کوسٹل ہائی اور ایکسپریس وے کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
لیکن حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے گوادر میں دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیے اور شرکاء کے چار مطالبات سے متعلق نوٹیفیکشن جاری کر کے ان کو مولانا ہداہت الرحمان کے حوالے کیا گیا۔ جن چار مطالبات پر عملدرآمد سے متعلق نوٹیفیکشن کا اجراء کیا گیا ان میں بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے ماہی گیری پر پابندی اور ان کے خلاف کارروائی، سرحد پر نقل و حمل کی مانیٹرنگ فرنٹیئر کور کے بجائے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے، کوسٹ گارڈ کی تحویل میں لوگوں کی گاڑیاں چھڑوانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معاونت فراہم کرنے، اور گوادر میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شراب کی دکانوں کو تاحکم ثانی بند کرنے سے متعلق تھے۔ ان نوٹیفیکیشنز کے اجراء کے بعد دھرنے کے شرکاء نے شاہراہوں کی بندش کے اعلان پر عملدرآمد کے فیصلے کو مؤخر کرنے کا اعلان تو کیا مگر دھرنے کو ختم نہیں کیا۔ ان نوٹیفیکشنزکے اجراء کے بعد وزراء کی جانب سے شرکاء سے دھرنے کو فوری طور پر ختم کرنے کا کہا گیا مگر دھرنے کے شرکاء نے کہا کہ وہ تین دن تک ان پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے اور اس کے بعد دھرنے کو ختم کرنے یا جاری رکھنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ مگر وہ تین دن گزر گئے ہیں اور نہ صرف دھرنا جاری ہے بلکہ گوادر کی خواتین بھی دھرنے کی حمایت میں گھروں سے نکل آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت عظمیٰ نے تھرکول کرپشن کیس نیب کو بھیج دیا
دھرنے کے شرکاء کی آئندہ کی حکمت عملی کیا ہے؟ اس بارے مولانا ہدایت الرحمان نے بتایا کہ جب گوادر کے لوگوں کے معاش کے ذرائع کو تباہ کرنے کے عوامل کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں تو لوگوں کے پاس احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بڑے مطالبات پر فوری طور پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو جمعرات سے دھرنے کے شرکاء نے کوسٹل ہائی وے کو مختلف مقامات پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گوادر میں ایکسپریس وے پر بھی دھرنا دیا جائے گا۔اُنھوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ پورٹ روڈ پر دھرنا بھی جاری رہے گا۔
