عمران اقتدار سے باہر مچھلی کی طرح کیوں تڑپ رہے ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا واحد مطلوب و مقصود وزارت عظمیٰ ہے، اور یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ وزارت عظمٰی سے فراغت کے بعد ان پر ’’ماہیِ بے آب‘‘ کی کیفیت طاری ہے۔ ایوان موجود ہے۔ پارلیمان کام کررہی ہے لیکن پارلیمانی کردار، اُن کے دَستور سیاست سے خارج ہے۔ سو! وہ لانگ مارچ، جلسوں، جلوسوں اور تقریروں سے ہوتے ہوئے خودشکنی کے ایک نئے سنگ میل تک آ پہنچے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عمران خان کا ہیجان پارلیمان کی چاردیواری میں سما ہی نہیں سکتا۔ آنے والے الیکشن میں وہ جیت گئے تو اسمبلیاں ایک بار پھر توڑنے کے لئے اپنی آستین سے کوئی نیا جادوئی کبوتر نکال لیں گے اور اگر ہار گئے تو دھاندلی کا الزام کگا دیں گے کیوں کہ ان کے خیال میں وہ کسی بھی صورت ہار نہیں سکتے۔ اگر یہ انہونی ہوگئی تو اُن کا ’’قافلہ سخت جاں 26 سالہ صبرآزما سیاسی جدوجہد کے ایک نئے مرحلہِ شوق میں داخل ہو جائے گا۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کی سیاست کچھ ایسے کیمیائی اور طبیعاتی عناصر کا مرکب ہے جو ہماری نہایت ہی مشّاق سیاسی تجربہ گاہ کے لئے بھی عجوبے سے کم نہیں۔ ہر آن ہنگامہ بپا کرنے اور پیہم کوچہ و بازار کو بازی گاہ بنائے رکھنے والی ’پارلیمان بیزار‘ سیاست اُن کے رگ وپے میں رچی بسی ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عمران کی افتادِ طبع میں ’’یا اپنا گریباں چاک، یا دامنِ یزداں چاک‘‘ کا ایک ایسا خودکار میکانکی نظام کارفرما ہے جو ٹھہرائو کے ایک خاص درجہ سکون تک پہنچتے ہی متحرک ہوجاتا ہےاور اُن کے لہو کو گرم رکھنے کا کوئی بہانہ دے جاتا ہے۔ خان صاحب کے بقول تقریباً پونے چار برس کی حکمرانی، اُن کی 26 سالہ طویل اور صبرآزما جدوجہد کا ثمر تھی، لیکن تاریخ اِس کی تائید نہیں کرتی۔ اُن کی 26 سالہ سیاست میں ہمیں طوالت تو نظرآتی ہے لیکن صبرآزمائی اور جُہدِ مسلسل نام کی کوئی شے نہیں ملتی۔ اپریل 1996میں انہوں نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔
اگلے ہی برس 1997 میں انتخابات کا نقارہ بجا۔ عمران اکھاڑے میں اترے لیکن وہ خود بھی ہار گئے اور انکی پارٹی کے تمام نامزد امیدوار بھی بری طرح شکست سے دوچار ہوئے۔ پہلا ہی تجربہ منہ کا ذائقہ خراب کر گیا۔ پارٹی کی عمر صرف تین سال تھی جب 1999 میں خان صاحب کا پالا پہلے بڑے امتحان سے پڑا۔
اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے آئین توڑا، نواز شریف حکومت کا تختہ اُلٹا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ عمران نے آئو دیکھا نہ تائو، اپنی نوزائیدہ انقلابی جماعت کا توشہ خانہ اٹھایا اور آئین شکن آمر کے پلڑے میں ڈال دیا۔ یہ اُن کی ’’طویل اور صبرآزما‘‘ جدوجہد کا پہلا سنگِ میل تھا۔ عمران خان کم وبیش تین سال دربارِ آمریت کے قوّالوں میں شامل رہے۔ اُن کے دِل میں ’’قانون وانصاف کی عملداری‘‘ کے احساس نے تب بھی انگڑائی نہ لی جب مشرف نے چیف جسٹس سمیت متعدد ججوں کو فارغ کرکے خانہ ساز عدلیہ تشکیل دی، َمن پسند فیصلے لئے، آئین کی چیر پھاڑ کرتے ہوئے جمہوری پارلیمانی نظام کے بخیے اُدھیڑ ے، مخالفین کو زِندانوں اور قلعوں کے تہہ خانوں میں ڈالا، سیاسی جماعتوں کو نیب کے عقوبت خانوں کی نذر کیا اور سیاسی حواریوں کا ایک طائفہ تراشا۔ جمہوری تاخت وتاراج کے اِس سارے عہدِ نامُراد میں پرویز مشرف کی بلائیں لیتے ہوئے عمران کی پیشانی پر عرقِ ندامت کی نمی تک نہ آئی۔
وہ حریصانہ اور والہانہ خودسپردگی کے ساتھ مشرف کے کانوں میں رَس گھولتے اور اپنی کِشتِ آرزو کو آمریت نوازی کے آبِ زر سے سینچتے رہے۔ 2002 میں، ریفرنڈم کی َمشقِ ملامت ایوب خان اور ضیاء الحق سے ہوتی ہوئی مشرف تک پہنچی تو وہ بے حجاب ہی نہیں، مکمل طور پر بے لباس بھی ہوچکی تھی۔ یہ ہماری تاریخ کا نہایت ہی مضحکہ خیز اور حیا باختہ تماشا تھا۔ اِس تماشے کے سرخیلوں میں دو کردار سب سے نمایاں تھے۔ ایک علامہ طاہرالقادری، اور دوسرے عمران خان۔ دونوں کے دِل میں دَرجاتِ بلند کا جوالا مکھی دہک رہا تھا۔ دونوں انتخابی ناکامی کے تلخ تجربے سے گزر چکے تھے۔ اِس صبر آزما اور طویل جدوجہد کا ثمر یہ ملا کہ دونوں قومی اسمبلی کے ایوان میں داخل ہو گئے۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ یہاں سے خان صاحب کی پارلیمانی زندگی کا آغاز ہوا۔ اسمبلی میں نووارد ہونے کے باوجود وہ کوئی نوخیز نہ تھے۔ پچاس برس کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور چھ برس سے جماعت کی قیادت کر رہے تھے۔ اپنی سیاسی زنبیل میں دعوئوں، وعدوں، نعروں، نظریوں اور اصولوں کا اچھا خاصا اثاثہ اٹھائے پھرتے تھے۔ سیاست کا کوئی طالب علم چاہے تو میں پارلیمنٹ ہائوس کی لائبریریوں اور ریکارڈ تک رسائی میں اُسکی مدد کر سکتا ہوں۔ وہ تمام دستاویزات کھنگال کر دیکھے کہ 2002 سے 2007 تک خان صاحب، کتنی بار ایوان میں آئے، کس کس قانون سازی میں حصہ لیا، اہم قومی موضوعات کے مباحثوں میں کتنی بار شرکت کی، کتنی بار ایسی تقاریر کیں جو یادگار سمجھی جاتیں۔ کم لوگوں کو علم ہوگا کہ عمران خان کو قومی اسمبلی کی دونہایت اہم قائمہ کمیٹیوں کی رُکنیت سونپی گئی۔
پبلک اکائونٹس کمیٹی اور کشمیر کمیٹی۔ دیکھنا چاہئے کہ خان صاحب کتنی بار پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں گئے؟ کس کے احتساب کے لئے کیا کردار ادا کیا؟ کرپشن کے سدِّباب کیلئے کتنی مؤثر رہنمائی فرمائی؟ اور اِن اَرفع مقاصد کے لئے کتنے بِل پیش کئے؟ کشمیر کمیٹی کا احوال اس سے بھی گیا گزرا ہے۔ کم وبیش پانچ سال تک ایوان ہو یا قائمہ کمیٹی یا کوئی اور پارلیمانی وظیفہ، خان صاحب نے کسی کو پرِکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دی۔ سو! 2002 میں حلف اٹھانے اور 2007 میں مستعفی ہو جانے کے درمیانی عرصے میں تنخواہوں اور مراعات کے حصول کے سوا اُن کا اور کوئی کردار نظر نہیں آیا۔ اُن کا کمالِ فن یہ ہے کہ اب تک وہ تین بار قومی اسمبلی کے رُکن چنے گئے، تینوں بار جلد یا بدیر مستعفی ہوکر سڑکوں اور چوراہوں میں آگئے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ 2008 کے انتخابات میں انہوں نے حِصّہ ہی نہ لیا۔ بس یہ آس لگا کر بیٹھ گئے کہ کبھی تو کوئی گھٹا اُن کی کِشتِ وِیراں کا رُخ کرے گی۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک دن خان صاحب بنی گالہ کی پہاڑی چوٹی پر اپنے گھر کے کشادہ لان میں دھوپ سینک رہے تھے۔ موسموں کو اپنی مرضی کا پیرہن پہنانے اور خیابانِ سیاست میں مرضی کے لالہ وگل کھلانے والی چنچل ہوائیں پائلیں چھنکاتیں پہاڑی شادابیوں سے کھیل رہی تھیں کہ اُن کی نظر خان صاحب پر پڑی۔ یکایک دِل دے بیٹھیں۔ 2011 کے لاہوری جلسے سے 2018 میں ’آر۔ٹی۔ایس‘ کی مرگِ ناگہانی تک کی داستان، خان صاحب کی صبرآزما جدوجہد کی کہانی نہیں، اُنہی شوخ ہوائوں کی فتنہ سامانی تھی۔ نوازشریف سے بیر رکھنے والوں کا قبیلہ اُن ہوائوں میں خوشبوئیں بھرنے لگا۔ دانشوروں کی فریفتگی، کالم نگاروں کی شیفتگی اور اِبنائے وقت کی وارفتگی جذبِ فراواں سے چھلکنے لگی۔ عمران خان وزیراعظم بن گئے۔ پارلیمانی زبان میں اُنہیں قائدِایوان چُن لیاگیا۔ اپریل 2022 میں ایک جمہوری آئینی مشق کے ذریعے ایوان کی قیادت سے محروم ہونے اور وزارت عظمٰی سے فراغت کے بعد ان پر ’’ماہیِ بے آب‘‘ کی کیفیت طاری ہے۔ ایوان موجود ہے۔ پارلیمان کام کررہی ہے لیکن پارلیمانی کردار، اُن کے دَستور سیاست سے خارج ہے۔ سو! وہ لانگ مارچ، جلسوں، جلوسوں اور تقریروں سے ہوتے ہوئے خود شکنی کے ایک نئے سنگ میل تک آپہنچے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کی حالت پر رحم کرے۔
