عمران خان اڈیالہ جیل میں عیاشیاں کیسے کرنے لگے؟

عمران خان جیل میں فل ٹائم عیاشیاں کرنے لگے۔ اڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہر خواہش پوری کردی گئی، جیل ذرائع کاکہناہےواک کرنے کیلئے زیادہ جگہ ،ورزش کیلئے ایکسرسائز مشین ،بیٹوں سے بات ،وکیلوں سے ملنے کی اجازت ،ٹی وی ،چارپائی ،میٹرس، کرسی ،میز،اخبار ،کتابیں ،اٹیچ باتھ ، 6ڈاکٹر ،3میل نرس ، ایک مشقتی بھی دیاگیا ہے۔سینٹرل جیل کے 4سرکل میں پابندسلاسل سابق وزیراعظم عمران خان کو دوپہرے دئیے گئے ہیں،
خیال رہے کہ جیل اصطلاح کے مطابق چار چکیوں یا سیلوں پرمشتمل سیٹ ایک پہرہ کہلاتاہے جس میں 4افراد کو رکھاجاتاہے لیکن کسی اہم قیدی کو چوں کہ حفاظتی نقطہ نظر سے دیگر قیدیوں سے الگ رکھاجاتاہے اس لئے عمران خان کو چارسیلوں پر مشتمل ایک پہرہ دیاگیا تھا جس کے سامنے برآمدہ میں وہ چہل قدمی کرتے تھے ،یہ برآمدہ تقریباً 40فٹ لمبا تھا واک کرنے کے لئے زیادہ جگہ کی خواہش پرعدالت کے حکم پر جیل انتظامیہ نے دوپہروں کی درمیانی دیوارگراکرانہیں 8سیلوں کے سامنے برآمدے میں واک کرنے کی اجازت دے دی ،انہیں ان کی مرضی کاکھانا جس میں دیسی مرغ بھی شامل ہے فراہم کیاجارہاہے،ورزش کے لئے عمران خان کوایکسرسائزمشین رکھنے کی اجازت دی گئی.ذرائع کاکہناہے 10لاکھ روپے مالیت اور تقریباً 75کلووزنی ایکسرسائزمشین کوعرف عام میں منی جم کہاجاتاہے ،عمران خان کی خواہش پران کی بیرون ملک مقیم ان کے 2بیٹوں سے واٹس ایپ پربات بھی کروائی گئی .جیل انتظامیہ منگل کو ان کی فیملی سے ملاقات کروارہی اور جمعرات کوان سے وکلاء ملاقات کرتے ہیں اب منگل کوبھی وکلاء کوعمران خان سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ،10وکلاء کے ناموں کی منظوری بھی ہوگئی ہے۔
دوسری جانب عمران خان کی لیگل ٹیم میں شامل شیر افضل مروت ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں جس کمرے میں رکھا گیا ہے اس کا سائز بارہ بائی دس ہے، یعنی یہ ایک بارہ فٹ لمبا اور دس فٹ چوڑا کمرا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے انھیں جس بیرک میں رکھا گیا تھا اس کا سائز اس موجودہ کمرے سے لگ بھگ نصف تھا تاہم اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کو دی جانے والی درخواست کے نتیجے میں کمرے کی دیوار کو توڑا گیا، اب یہ کمرہ یا بیرک بارہ فٹ لمبی اور دس فٹ چوڑی ہو گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ چالیس بائی اسی فٹ، یعنی لگ بھگ ایک کینال جگہ عمران خان کے لیے مختص ہے جہاں پر سابق وزیر اعظم چہل قدمی کرتے ہیں۔شیر افصل مروت کے مطابق عدالتی حکم پر عمران خان کو ورزش کے لیے سائیکل بھی فراہم کر دی گئی ہے۔جیل حکام کے مطابق عمران خان کے کمرے میں ٹی وی، چارپائی، کرسی اور میز بھی فراہم کیے گئے ہیں جبکہ اس بیرک میں پنکھا بھی لگا ہوا ہے۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ جب بھی سائفر مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے تو عدالت عمران خان سے انھیں جیل میں ملنے والی سہولتوں کے بارے میں دریافت کرتی ہے اور جیل حکام کے بقول گذشتہ سماعت میں عمران خان نے انھیں ملنے والی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیل میں قیدیوں کی ملاقات کے شیڈول کے مطابق سابق وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والوں کے بہت سے نام آتے ہیں جو انھیں بھیج دیے جاتے ہیں اور فیملی کے علاوہ جن سے وہ ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے ہوں ان سے ملاقات کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس مقدمے کے دوسرے ملزم شاہ محمود قریشی کو جس کمرے میں رکھا گیا ہے وہ چھ بائی دس کا کمرہ ہے یعنی چھ فٹ چوڑا اور دس فٹ لمبا ہے۔اس مقدمے کی پیروی کرنے والے وکلا کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے تحفظات کے باوجود انھیں کسی دوسری بیرک میں منتقل نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں متعلقہ عدالت کی طرف سے اس حد تک ریلیف ضرور ملا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو میٹرس کی بجائے چارپائی فراہم کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منتقل ہوئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی طرف سے انھیں اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے سے متعلق دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سُنایا جس کے بعد انھیں 26 ستمبر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منتقل کیا گیا۔عمران خان اڈیالہ جیل میں سائفر مقدمے میں بطور ملزم قید ہیں جبکہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو دی جانے والی سزا کو اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی معطل کر چکی ہے۔سائفر مقدمے میں دوسرے نامزد ملزم سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اڈیالہ جیل میں ہی قید ہیں تاہم عمران خان اور شاہ محمود کو الگ الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے اور ان دونوں ملزمان کی ملاقات صرف اسی روز ہی ہوتی ہے جب اس مقدمے کی سماعت کے لیے قائم خصوصی عدالت کے جج اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کی سماعت کے لیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان پہلے سیاست دان نہیں جن کا جیل میں ٹرائل ہو رہا ہے۔ آج سے لگ بھگ 21 سال قبل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور سابق صد آصف علی زرداری کا بھی اٹک قلعے میں ٹرائل ہو چکا ہے۔حکومت کی طرف سے اٹک قلعے کو سب جیل قرار دیا گیا تھا جہاں پر ان سیاست دانوں کے خلاف نیب کیسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج کرتے تھے۔
