عمران خان کی مظلومیت کی دھائی کا کوئی اخلاقی جواز نہیں

عمران کی متکبر اور آمرانہ روش اور سیاسی مہم جوئی کے ہاتھوں وہ خود اور تحریک انصاف بڑی مصیبت میں پھنس گئے۔ انکے ساتھ وہی ہورہا ہے جو انہوں نے مقتدرہ کے ساتھ مل کر اپنے مخالفوں کے ساتھ کیا تھا، اسی لیے انکی مظلومیت کا اخلاقی جواز کمزور پڑجاتا ہے۔ دوسری طرف جو کل تک نشان عبرت تھے، انکے ساتھ وہی کیا جارہا ہے جو عمران کو 2018 کے انتخابات میں کامیاب کروا کر کیا گیا تھا۔ نتیجتاً تمام تر سیاست اخلاقی جواز سے محروم ہوچلی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار امتیاز عالم نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ اب اس المیے کا کیا کریں کہ لاڈلے ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ آنکھوں کا تارا کب آنکھ کا شہتیر بنتا ہے، اس میں کتنی دیر لگتی ہے؟ یہ منظر یہ گناہ گار آنکھیں اس مملکت میں کب سے دیکھتی پتھرا سی گئی ہیں۔ ہر ریاست اور معاشرہ تضادات کا مجموعہ ہوتا ہے، ان تضادات کو برقرار رکھنے والی قوتیں جمود کی حامی قوتیں کہلاتی ہیں اور جو ان تضادات کا کوئی عوام دوست حل چاہتی ہیں وہ ’’تبدیلی‘‘ کی قوتیں کہلاتی ہیں۔ لیکن ’’تبدیلی‘‘ ماضی کے کسی سنہری خواب کی یادوں کی عملی تعبیر یا اسلاف کے زمانے کی واپسی کی آرزو بھی ہوسکتی ہے اسے تاریخ کا پہیہ اُلٹا چلانے کی تمنا تو کہہ سکتے ہیں، تبدیلی نہیں۔ تبدیلی تو وہ ہے جو موجود حالات کے شکنجے اور بنیادی تضادات کا حل پیش کرے اور تاریخی عمل کو آگے بڑھائے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ عمران خان کے تذکرے کے بغیر پاکستانی سیاست کا ذکر ممکن نہیں۔ بھٹو کے نام پر بھی جنرل ضیا الحق کے تاریک دور میں بندش لگائی گئی تھی، پھر یار لوگوں نے تنقید کی آڑ میں نام لینا شروع کیا تو اخبارات کے صفحے خالی ہونے لگے، لیکن صبح شام ذکر یار ہی ہوتا رہا ۔ کچھ ایسا ہی تحریک انصاف کے چیئرمین کے ساتھ ہورہا ہے۔کوئی ٹی وی شو انکے ذکر بنا ہوتا نہیں، پھر بھی پابندی؟ گویا سویلین کے حق میں سول نافرمانی، انتخابات کی تاریخ ہو، سیاست میں لیول پلینگ فیلڈ ہو، نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کی خواہش ہو، انصاف کے ترازو کی بات ہو، اداروں کی آئینی دائرے میں ہونے یا نکلنے کی کہانی ہو، جمہوریت اور اسکے مستقبل پہ قیاس آرائی ہو، یا پھر معیشت ہو اور ثقافتی آلودگی ،کوئی بھی موضوع لے لیں، تان عمران خان پر جاکے ٹوٹتی ہے۔آخر ایسا کیا ہے کہ یہ عمرانی کمبل جان نہیں چھوڑ رہا۔ یہ مقتدرہ کے گناہوں کا ثمر ہے یا پھر نئی نسلوں کی محرومیوں کے آدرشوں کا سراب ۔ یا نا قابل حل تضادات کا المیہ ۔۔۔ پاکستان کی تاریخ بھی عجیب ہے۔ نیم نوآبادیاتی طرز کی مقتدرہ کی اجارہ داری اور بے کس عوام کی بیزاری، اس تضادستان کا بنیادی تضاد ہے اور اسکے حل ہونے کی کوئی امید کہیں سے پھوٹتی نظر نہیں آرہی۔ ہماری تاریخ کا آمرانہ باب اگر طویل تر ہے تو اس کیخلاف عوامی و قومی مزاحمتوں کی تاریخ بھی طویل تر ہے ۔ یہ کہنا کہ پاکستان عوامی اُمنگوں کا قبرستان ہے، درست نہیں۔ کیا مشرقی پاکستان کے عوام نے آزادی حاصل نہیں کی تھی؟ کیا ایوب خان کیخلاف آمریت مخالف جمہوری جدوجہد کامیاب نہیں ہوئی تھی اور عوام کو 33برس بعد حق رائے شماری نہیں ملا تھا؟ اور پھر 1973کے آئین کا معاہدہ عمرانی نہیں ہوا تھا؟ ہم نے ہر فوجی آمریت کی صفیں لپٹتی دیکھی ہیں اور عوامی رہنمائوں کو بار بار سولی پہ چڑھائے جانے اور معتوب کرنے کے باوجود پائندہ باد ہوتے دیکھا ہے لیکن کوئی فوجی آمروں کا نام لیوا نہیں ۔
امتیاز عالم کے مطابق عمران کے عروج و زوال کی کہانی بھی تضادات کے بے جوڑ ملغوبے کا ایسا مجموعہ ہے جو سلجھائے نہیں سلجھتا۔ اگر نواز شریف کا سیاسی بت گھڑا گیا تھا، تو عمران کو لاڈ پیار سے آسمان پہ چڑھایا گیا تھا۔ عمران کا سیاسی اُبھار فقط مقتدرہ کی انجینئرنگ کا کمال نہ تھا، بلکہ وہ عالمی سطح پہ مختلف ملکوں میں قومی ردعمل کے ماحول میں پیدا ہوئے دائیں بازو کے فسطائی طرز کے جلالی لیڈروں ہی کی طرح اُبھر کر سامنے آئے۔ جمود سے تنگ عوام اور پرانے وقتوں کی سیاسی قیادتوں سے بیزاری، نئی نسل کی اور خاص طور پر مڈل کلاس کی ’’تبدیلی‘‘ کی خواہش، ۔۔۔ مقبول عام اور نرگسیت پسند عمران کو خوب راس آئی ۔ وہ ٹرمپ اور اس قماش کے دیگر غیر آزاد خیال رہنمائوں کی طرح نمودار ہوئے اور سوشل میڈیا کے زور پہ چھاگئے۔ اوپر سے انکی حکومت کے گرائے جانے کا ڈرامائی سین، بیرونی مداخلت کا تڑکا اُنکےخوب کام آیا۔ لیکن عمران کی متکبر اور آمرانہ روش اور سیاسی مہم جوئی کے ہاتھوں وہ خود اور تحریک انصاف بڑی مصیبت میں پھنس گئے۔
امتیاز عالم کا کہنا ھے کہ کل جو غلط ہورہا تھا، آج پھر دہرائے جانے پر درست نہیں کہا جا سکتا ۔ لہٰذا، جو ناجائز سلوک ماضی کے منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ روا رکھا گیا، ویسا ہی سلوک آج عمران کے ساتھ کیے جانے کی کوئی جمہوریت پسند حمایت نہیں کرسکتا۔ اب جبکہ ہم انتخابی مرحلے میں داخل ہورہے ہیں، اس کا تقاضہ ہے کہ سبھی سیاستدانوں اور جماعتوں کو مساوی مواقع میسر ہوں اور صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے تمام جماعتیں ایک جمہوری فریم ورک پر اتفاق کریں تاکہ اس ملک کے عوام کو انکے حق خود اختیاری کے استعمال کا بھرپور موقع مل سکے۔ موجودہ سیاسی بحران کا بھی یہی حل ہے۔ وگرنہ ہم ایک سیاسی گڑھے سے دوسرے سیاسی گڑھے میں گرتے رہیں گے۔ کیا عمران مخالف جماعتوں کے ساتھ ملکر ایک نئے جمہوری میثاق پہ اتفاق رائے پیدا کرنے کو تیار ہوں گے اور اسکی مخالف جماعتیں خان کے گناہ بخشنے کو تیار ہونگی؟ مشکل ہے لیکن ہوسکتا ہے اور ہونا چاہیے
