عمران خان اے پی سی میں شرکت سے گریزاں کیوں؟

ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، دہشتگردی کی نئی لہر اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود سیاستدان مل بیٹھنے سے انکاری نظر آتے ہیں جہاں ایک طرف شہباز حکومت نے دہشت گردی کی تازہ لہر کے تناظر میں اتفاق رائے کے لیے کُل جماعتی کانفرنس بلائی وہیں تحریک انصاف اس میں شرکت کے حوالے سے گومگو کی صورتحال کا شکار ہے، حکومتی اتحاد میں پہلے ہی 11 جماعتیں شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن میں واحد اہم ترین جماعت تحریک انصاف کے علاوہ دوسری جماعتیں شرکت پر آمادہ ہیں تاہم تحریک انصاف کی طرف سے تاحال آمادگی نہیں آئی ہے اور مختلف نوعیت کے اعتراض کیے گئے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل قریب میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔
اس سے قبل تحریک انصاف نے پشاور میں ہونے والی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اس عذر پر شرکت نہ کی کہ دعوت مناسب طور پر نہ دی گئی، چیئرمین تحریک انصاف کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا ’کوئی فائدہ نہیں ہوتا‘ اور دہشت گردی کے واقعات پر پوری دنیا میں کوئی اے پی سی نہیں بلاتا بلکہ ایسے واقعات روکنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران اے پی سی میں شمولیت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شر پسند کارروائیاں روکنے کے لیے حکومتوں کو اقدامات کرنے چاہیں، انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد بھی اے پی سی بلائی گئی تھی کیا دہشت گردی کنٹرول ہوئی؟
اس لیے اے پی سی صرف وقت گزارنے کا طریقہ ہے، پی ٹی آئی حکومت میں بھی دہشت گردی ہوئی لیکن ہم نے اے پی سی بلانے کی بجائے خیبر پختونخوا کی پولیس کو ٹریننگ دی اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ اس لیے مشاورت جاری ہے کہ اے پی سی میں شامل ہونا ہے یا نہیں کیونکہ حکومت تو خود سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی بار بار تاریخ دے کر موخر کیے جا رہی ہے۔
مگر سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں بڑے سانحات اور قومی مسائل پر عوام اور اداروں کو اعتماد دینے کے لیے سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر متفقہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے سینئر صحافی سلمان غنی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت کردی کو روکنے کے لیے ادارے تو اپنا کام کر ہی رہے ہیں لیکن سیاسی قیادت کو بھی اختلافات بھلا کر قومی مفادات کے لیے ایک میز پر بیٹھنا ہوتا ہے کیونکہ یہ کام صرف سیکیورٹی فورسز کا نہیں بلکہ حکمرانوں اور سیاسی قائدین کا بھی ہوتا ہے۔
سلمان کے بقول نواز شریف دور میں جب اے پی ایس واقعہ ہوا تو انہوں نے اے پی سی بلائی تھی جس میں عمران خان بھی دھرنا ختم کر کے شریک ہوئے تھے۔’اس موقع پر نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا اور سیاسی قیادت نے متفقہ فیصلے کیے تھے اس لیے ان فیصلوں پر کسی کو اعتراض نہیں تھا کیونکہ سب کی مشاورت شامل تھی اور اس سے عوامی اور سیکیورٹی اداروں میں اعتماد کی فضا قائم ہوئی تھی۔
سلمان غنی نے کہا کہ بالکل اسی طرح اب بھی یہ چیلنج در پیش ہے کیونکہ دہشت گردی روکنے کے لیے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا تھا اس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ علما اور شہریوں نے بھی کردار ادا کرنا تھا۔’بد قسمتی سے متعلقہ ادارے ہی کارروائیاں کرتے دکھائی دیے نہ کے پی حکومت نے عمل درآمد کیا نہ ہی پنجاب، بلوچستان یا سندھ میں اس طرح عمل ہوا جس طرح ہونا چاہئے تھا۔
سلمان غنی نے کہا صوبائی حکومتوں نے بھی پولیس کو تربیت دینی تھی، علما نے عوام میں شعور بیدار کرنا تھا کہ انتہا پسندی کی سوچ پروان چڑھنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرتے، اینکر پرسن تنزیلہ مظہر نے کہا کہ بظاہر تو یہی دیکھنے میں آیا کہ پہلے اے پی سی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی قیادت مل کر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے منصوبہ بندی نہ کرے۔
تنزیلہ نے کہا کہ قومی ایشوز پر آل پارٹیز کانفرنس کی اہمیت اس لیے ہوتی ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں اوراس کے بارے میں بننے والی حکمت عملی سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہو۔ان کے خیال میں: دوسری بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے کوئی اے پی سی نہیں بلائی لہذا کے پی میں شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں پر دوسری جماعتوں کو تحفظات رہے، اسی لیے سوال اٹھ رہے ہیں کہ وفاق سے 417 ارب فنڈز جاری ہونے کے باوجود پشاورمیں نہ سیف سٹی کیمرے لگے نہ ہی فرانزک لیب بن سکی، انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف بھی دیگر جماعتوں کو ساتھ لے کر چلتی تو یہ تمام ذمہ داری ان پر عائد نہ ہوتی۔سیاسی پنڈتوں کے مطابق کل جماعتی کانفرنس کا انقعاد اب کچھ وقت تک ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔
