عمران خان ریاست مدینہ کا نام لیکر مذاق اڑانا بند کریں

وزیراعظم عمران خان سے ذاتی قربت کا دعویٰ کرنے والے یوتھیے کالم نگار ارشاد بھٹی نے کپتان حکومت کو چارج شیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سوا تین برسوں میں عمران خان سے علی امین گنڈا پور تک ہرروز ریاستِ مدینہ کی باتیں، آئے روز رسول ؐ اللہ کی مثالیں، ہر دوسرے دن صحابہ کرام ؓ کے تذکرے، سیاسی بھاشنوں کو ایسے مذہبی تڑکے کہ جنرل ضیاء الحق کی یادیں تازہ ہوجائیں، یقین جانیے اس عرصے میں ریاستِ مدینہ کے دعویداروں نے اتنی ایک جیسی تقریریں کی ہیں کہ کان پک گئے، بچے بچے کو یہ تقریریں زبانی یاد ہوگئیں۔ اب ایک طرف یہ سہانے سپنوں بھری تقریریں جبکہ دوسری طرف گورننس اور پرفارمنس ایسی کہ کہیں بے روزگاری کی وجہ سے باپ بچوں کو کنویں میں پھینک کر خود بھی چھلانگیں مار رہے ہیں تو کہیں غربت کی وجہ سے ماں 25ہزار میں بیٹی بیچ رہی ہے، کہیں مہنگائی کی وجہ سے گھر کا خرچہ چلانے، بجلی، گیس کے بل، بچوں کی اسکول فیس دینے کیلئے لوگ بیٹیوں کا جہیز بیچ رہے تو کہیں بڑے بڑے سفید پوش ہاتھ پھیلانے پر مجبور، کہیں تنخواہ دار طبقہ سرپیٹ رہا تو کہیں مڈل کلاس اپنی موت آپ مررہی، اب اگر ان برے حالات کی طرف ریاستِ مدینہ والوں کی توجہ دلائی جائے تویہ بڑے اطمینا ن سے فرمائیں، یار دو کی بجائے ایک روٹی کھالو، کھانا کھاتے 9 نوالے کم کھا مرلو، چائے کے کپ میں 9 دانے چینی کم ڈال لو۔
اپنی تازہ تحریر میں ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ میں نے حال ہی میں 9 نوالے کم کھانے، چائے کے کپ میں 9 چینی کے دانے کم ڈالنے اور پیٹ پر پتھر باندھنے کا مفت مشورہ دینے والے علی امین گنڈاپور کی سوشل میڈیا پر ایک تصویر دیکھی، موصوف چند مصاحبین کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں، جب میں نے تصویر میں موجود ڈشیں گنیں تو 12 نکلیں، سبحان اللہ۔ اب آپ ہی بتائیے اس جھوٹ، منافقت کے بعد بھی ریاستِ مدینہ کے دعوے ہوں، رسولؐ اللہ کی مثالیں دی جائیں، صحابہ کرام ؓ کے حوالے دیئے جائیں، مذہبی بھاشن ٹھوکے جائیں تو بندہ یہی کہہ سکتا ہے، توبہ اللہ توبہ۔ ارشاد کہتے ہیں کہ اچھا باقی سب چھوڑیں،چند دن پہلے تقریر فرماتے فرماتے اچانک عمران خان نے فرمایا، حضرت عمر ؓ نے دورانِ جنگ اپنے سپہ سالار خالد بن ولیدؓ کو تبدیل کردیاتھا، اب یہ چھوڑیئے خان صاحب یہ کسے سنارہے تھے، یہ بھی رہنے دیں کہ حضرت عمرؓ نے دوران جنگ خالد بن ولید ؓ کو کیوں تبدیل کیا، خان صاحب سے پوچھنا یہ، آپ نے اتنی دیدہ دلیری سے حضرت عمرؓ کی مثال تو دیدی، لیکن کیا آپ کو حضرت عمرؓ کی باقی زندگی، حکمرانی کا بھی علم یا صرف یہی ایک مثال یاد، خان صاحب اطلاعاً عرض ہے کہ حضرت عمرؓ 20 پاکستانوں سے بھی بڑی سلطنت کے حاکم، ا میر المومنین تھے، لیکن ان کا عدل ایسا تھا کہ جرم ہونے پر بیٹے کو کوڑے مارے، یہ نہیں کہ ہیلی کاپٹر کیس،مالم جبہ، بی آر ٹی، آٹا گندم، چینی، پٹرول گھپلوں، نجی بجلی گھر ڈاکوں پر آنکھیں موندلی جائیں، سانحہ ماڈل ٹائون بھلا دیاجائے، سانحہ ساہیوال کے مجرم پتلی گلی سے نکال دیئے جائیں، خان صاحب حضرت عمرؓ تین سو کنال کے گھرمیں نہیں رہتے تھے، خان صاحب حضرت عمرؓ سرکاری خرچ پر روزانہ دفتر سے گھر اور گھرسے دفتر ہیلی کاپٹر پر نہیں آیا، جایا کرتے تھے۔
ارشاد بھٹی عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خان صاحب حضرت عمرؓ نے کبھی اپنی کہی باتوں سے مکرنے، یوٹرن لینے کو عظیم لیڈ ر کی پہچان قرار نہیں دیا،خان صاحب حضرت عمرؓ کبھی کوئی ایسا آرڈیننس نہیں لائے، کبھی کسی قانون میں ایسی ترمیم نہیں کی کہ اپنے، پرائے کرپٹ مستفید ہوجائیں، کرپشن حلال ہوجائے، خان صاحب حضرت عمرؓ نے ہر حکومتی عہدہ میرٹ پر دیا، کبھی کسی عہدے پراپنے چہیتے، لاڈلے کو نہیں بٹھایا، خان صاحب حضرت عمرؓ کی گورننس، پرفارمنس ایسی تھی، فرمایا کرتے’’اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مرے تو ذمہ دار میں۔ ارشاد بھٹی مزید کہتے ہیں کہ خان صاحب آپ ذرااپنی مخولیا قسم کی گورننس بھی دیکھ لیں۔حضرت عمرؓ نے تو حکمرانی کے ہر شعبے میں تاریخ ساز اصلاحات کیں، سوا تین سال ہوگئے آپ کو حکمران بنے، آپ ان جیسی کوئی ایک اصلاح بھی کر پائے، حالانکہ آپ آئے تواصلاحات کیلئے تھے، خان صاحب کبھی ایک مرتبہ بھی آپ نے حضرت عمرؓ کی طرح ایک رات جاگ کر گلی محلوں میں پھر کر اپنی رعایا کی خبر لی کہ وہ کس حال میں،خان صاحب حضرت عمرؓ کے دور میں بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کا یہ عالم نہیں تھا جو آپ کے دور میں ہے، خان صاحب حضرت عمرؓ کا ہر حکومتی عہدیدار عہدہ سنبھالتے وقت اپنے اثاثے ڈکلیئر کرتا اور پھر عہدہ چھوڑتے وقت بتاتا کہ اس وقت اس کے پاس کیا کچھ ہے،آپ ذرا اپنے چہیتوں، لاڈلوں پر نظر ماریں، بہت سارے ایسے کہ سوا تین برس میں ہی اتنا کما چکے کہ دیکھ کر بندے کے ہوش ٹھکانے آجائیں۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ لیکن مجھے پتہ ہے خان صاحب! آپ اپنوں، اپنے اردگرد بیٹھے مافیاز پر ہتھ ہولا ہی رکھیں گے، جیسے جہانگیر ترین سے پنڈورا لیکس تک آپ نے اپنوں پر ہتھ ہولا رکھا، کیونکہ آپ کو اپنا اقتدار عزیز، آپ اب اپنے اقتدار کیلئے کچھ بھی کرنے پرتیار، خان صاحب حضرت عمرؓ نے اپنے کُرتے، چادر کا بھی حساب دیا جبکہ آپ باقی چھوڑیں، توشہ خانہ کے تحفوں کا ہی نہیں بتار ہے، لہٰذامیرے پیارے خان صاحب خیال کیا کریں، آپ کے منہ سے حضرت عمر ؓ کی مثالیں اور پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے ذرا بھی نہیں جچتے۔
