عمران خان نے پاکستانی معیشت کا جنازہ کیسے نکالا؟

پاکستانی معیشت، سیاست اور معاشرت کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عمران خان اور ان کے حامی پی ٹی آئی حکومت کی بدترین پرفارمنس کے باوجود انتہائی دیدہ دلیری سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اب بھی صرف خان ہی پاکستان کو ڈیفالٹ اور تباہی کے سے بچا سکتا ہے اور یہ کہ موجودہ صورتحال حال کی ذمہ دار پی ڈی ایم حکومت ہے لیکن اس سے بڑا کوئی اور جھوٹ نہیں ہوسکتا کیونکہ عمران خان نے جب ایک انتہائی دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں حکومت سنبھالی تھی تو تب پاکستان میں افراطِ زر کی شرح 3 فیصد اور ترقی کی شرح 6 فیصد کے قریب تھی۔
ڈالر 120 روپے اور پیٹرول 100روپے فی لیٹر تھا، اشیائے خورو نوش عام شخص کی پہنچ میں تھیں۔ آٹا 35 روپے فی کلو، چینی 50 روپے اور گھی 150 روپےفی کلو میں دستیاب تھا۔ پاکستان میں چین کے ساتھ سی پیک معاہدے کے نتیجے میں موٹر ویز اور سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا تھا۔ سی پیک پر پوری رفتار سے کام ہو رہا تھا اور لگتا تھا کہ پاکستان بہت جلد ترقی پذیر ملکوں کی صف میں کھڑا ہو جائے گا۔ لیکن عمران کو آر ٹی ایس بٹھا کر الیکشن جتوانے اور اقتدار دلوانے کے بعد جو ہوا وہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے حکومت اپنے کنٹرول میں رکھنے اور سیاستدانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لئے پراجیکٹ عمران شروع کیا تاکہ وہ پسِ پردہ اقتدار پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط کر سکے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف لکھاری اور تجزیہ کار خالد جاوید جان ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیاست میں فوج کی مداخلت شروع سے ہی رہی ہے اور اب تو خود بھی اس کا برملا اعتراف کرت ہے، جیسا کہ جنرل باجوہ نے اپنی الوداعی تقریب میں کہا کہ فوج سیاست میں غیر آئینی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ پاکستان میں فوج کا سیاسی کردار سابقہ سوویت یونین کے خلاف امریکہ کے ہراول دستے اور محافظ کے طور پر تھا، جس کے عوض فوجی ڈکٹیٹر وں کو امریکہ کی مکمل سرپرستی اور مالی تعاون حاصل تھا۔ یہ مالی اور فوجی امداد اس کثرت سےفراہم کی گئی کہ ہر فوجی ڈکٹیٹر کے زمانے میں پاکستان کی جی ڈی پی 5 فیصد سے زیادہ رہی۔
اس سے نہ صرف فوجی آمر سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو کمزور کرتے رہے بلکہ آمریت پسندوں کے نئے نئے گروہوں کو بھی مضبوط کرتے رہے جنہوں نے ملک میں انتہا پسندی اور علیحدگی پرست قوتوں کو اس قدر تقویت دی کہ 1971 میں ملک دولخت ہوگیا۔ یہ بھی دنیا کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا کہ ایک ملک اپنے قیام کے صرف 23 سال بعد ہی اپنے بڑے حصّے سے محروم ہوگیا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے وقت بھی ملک پر ایک ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کی حکومت تھی۔ لیکن اس سانحے کے بعد بھی جمہوریت کشی کا یہ عمل نہ رُک سکا کیوں کہ سوویت یونین کے خلاف ابھی امریکہ کی جنگ فیصلہ کن مرحلے پر نہیں پہنچی تھی۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح سوویت یونین کے خاتمے میں پاکستان کی سرزمین کو میدانِ جنگ بنایا گیا۔
خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ کے نزدیک پاکستان اور پاکستانی فوج کی اہمیت کم ہو گئی اور انہوں نے اس امداد سے ہاتھ کھینچ لیا جو وہ گزشتہ 70سال سے پاکستان کو فراہم کر رہے تھے۔ امریکی امداد کی بندش کے بعد فوج کے لئے براہِ راست مارشل لا لگا کر حکومت پر قبضہ کرنا مشکل ہو گیا تو انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی بجائے پسِ پردہ رہ کر ایک ہائبرڈ نظام لانے کا فیصلہ کیا اور اسی مقصد کے لئے پراجیکٹ عمران خان کا آغاز کیا۔ اگلے کم از کم دس برسوں کےلیے عمران خان کو اپنے سویلین چہرے کے طور پر متعارف کرایا گیا اور انہیں وزیر اعظم بنوا دیا گیا۔
لیکن عمران میں نہ تو سیاسی بصیرت تھی اور نہ ہی انہیں کوئی حکومتی تجربہ تھا۔ چنانچہ پہلے سال ہی 6 فیصد جی ڈی پی کی شرح سے ترقی کرتی ہوئی معیشت منفی شرح میں چلی گئی اور ملک میں ایک خوفناک مالی بحران کا آغاز ہو گیا جو آج نقطۂ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ عمران خان کو چونکہ معیشت کی بحالی سے زیادہ اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کرنے، صحافیوں کو کلمہ حق کہنے کی سزا دینے اور ملک میں انارکی اور نفرت کو پروان چڑھانے کا زیادہ شوق تھا چنانچہ انہوں نے دوست ملکوں کو بھی ناراض کر دیا۔
ڈاکٹر خالد جاوید جان کہتے ہیں جب معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال دیکھ کر انہیں اقتدار میں لانے والی عسکری قیادت نے عمران کو احتساب کی بجائے معیشت پر فوکس کرنے کا کہا تو وہ بپھر گئے اور سیم پیج پھٹنا شروع ہو گیا۔ عمران حکومت نے پہلے آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر معاہدہ کر کے اور پھر اس سے منحرف ہو کر معیشت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ آج پاکستان کی معاشی تباہی کی ہر کڑی عمران خان کی بیڈ گورننس سے جڑی ہوئی ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کے سیاسی شعور پر حیرت ہوتی ہے جو اس پس منظر کے باوجود عمران خان کو قوم کا نجات دہندہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
