کیا نون لیگ اکٹھی رہے گی یا پھر بکھرنے جا رہی ہے؟

مریم نواز کو پارٹی کا چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر بنائے جانے کے بعد مسلم لیگ نون کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کے پیش نظر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا نواز شریف کی بنائی ہوئی جماعت آنے والے وقت میں میں اکٹھی رہ پائے گی یا بکھر جائے گی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا سابق وزیراعظم اپنی جماعت کو بچانے کیلئے جلد وطن واپس لوٹیں گے یا نہیں؟تیسرا ہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق اور مفتاح اسماعیل کے بدلتے ہوئے تیور اس بات کی علامت ہیں کہ موروثیت کا عنصر مسلم لیگ ن کو گھائل کر چکا اور اس کی طبعی عمر پوری ہو چکی ہے؟

انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اختلاف کا دور مسلم لیگ ن نے دلاوری سے گزارا لیکن اقتدار میں آئے ایک سہ ماہی نہیں گزری کہ اس کی صفوں میں اب ان رہنماؤں کا دم بھی گھٹنے لگا ہے جو عشروں پورے قد اور سارے حوصلے کے ساتھ مسلم لیگ ن کا حصہ رہے۔ شاہد خاقان عباسی الجھے الجھے سے پھر رہے ہیں، سعد رفیق جیسا آدمی دہائی دیتا ہے کہ موروثیت نے اس کا دل توڑ دیا ہے اور مفتاح اسماعیل معاشی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں تو انہیں ’جوکر‘ کا طعنہ دیا جاتا ہے؟ نجی معاملات اور پرائیویٹ لمیٹڈ قسم کے بندوبست میں خدام اور مشقتیوں کے ساتھ تو اس طرح کے بے نیازی اور تند خوئی گوارا کی جا سکتی ہو گی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک سیاسی جماعت اپنے کارکنان اور رہنماؤں کے ساتھ اس رویے کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کہنے کو اسے سازش سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد، ہم خیال، پیٹریاٹ، ق لیگ اور تحریک انصاف جیسے تجربات کے بعد اس تجربہ گاہ میں تمام سیاسی جماعتوں سے ’نیک نام‘ لوگ اکٹھے کر کے ایک نیا تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن فی الوقت اس کا یقین کرنا مشکل ہے۔

تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعد رفیق کا تو معلوم نہیں لیکن شاہد خاقان عباسی ایسے کسی تجربے کی بھینٹ کیوں چڑھیں گے؟ انہوں نے ایسا کچھ کرنا ہوتا تو تجربہ گاہ میں انہیں بہت پہلے بہت سازگار ماحول میسر تھا۔ تب وہ ہلکاسا التفات کرتے اور سارے موسم ان پر سازگار ہو جاتے۔ لیکن انہوں نے نیب کی قید کاٹی اور جرات سے کاٹی۔ مسلم لیگ ن سے سعد رفیق کا تعلق بھی معمولی نہیں۔ وہ ایک فعال وزیر رہے، ریلوے کو کھڑا کیا اور نیک نامی کمائی۔ اگرچہ ایک زمانے میں ان کے تحریک انصاف سے رابطوں کی کہانیاں عام ہوئیں لیکن ان کی صداقت کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دور ابتلا میں بھی اپنی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ مفتاح اسماعیل کو ن لیگ نے تب متبادل معاشی مینیجرکے طور پر پیش کیا جب عمران خان کو حکومت سے الگ کر کے اقتدار سنبھالا گیا۔ پھر یہ کیا قصہ ہے کہ ایک دو ماہ میں وہ اتنے معتوب ہو گئے کہ شریف خاندان کے وہ نوجوان ان کی تضحیک کر رہے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق ہے نہ ان کے پاس کوئی منصب ہے؟ یہ تینوں رہنما آج گریزاں گریزاں سے پھرتے ہیں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ پارٹی میں ہر اس شخص کے لیے ماحول اجنبی ہوتا جا رہا ہے جو عقل پر عقیدت کی برتری کا قائل نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں میں یہ رویہ ایک حد تک گوارا ہوتا ہے لیکن پھر ایک وقت آتا ہے، اس پر رد عمل آتا ہے۔ مسلم لیگ ن پر وہی وقت آ چکا ہے، آثار بتا رہے ہیں اس کی طبعی عمر تمام ہو چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ ن کے پاس کارکنان کو ساتھ رکھنے کے لیے کوئی رومان باقی نہیں رہا۔ جو پارٹی سیاست میں رومان برقرار نہ رکھ سکے وہ فعل ماضی بن جاتی ہے۔ اس کے پاس ایسا کوئی پروگرام بھی نہیں جو نوجوانوں کو اس کی طرف راغب کر سکے۔ پرانی عصبیت برف کے باٹ کی صورت دھوپ میں پڑی ہے اور نیا خون پارٹی میں شامل نہیں ہو رہا۔ ایسے میں انجام جاننے کے لیے آئن سٹائن کی ضرورت ہے نہ ابن خلدون کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کی سب سے بڑی قوت اس کی معاشی استعداد تھی۔ ایک تاثر تھا کہ یہ جیسی بھی ہے معیشت کو سنبھال لے گی۔ یہ تاثر بھی بکھر چکا ہے۔ عمران کو ہٹانے کے بعد کوئی ایک کام ایسا نہیں کیا جا سکا جس سے عوام کو کچھ ریلیف ملا ہو۔ مسلم لیگ ن کی مبلغ معاشی مہارت کوئی دانش اجتماعی یا ادارہ سازی نہیں تھی، صرف اسحاق ڈار تھے۔ لیکن معلوم نہیں وہ اب کہاں ہیں۔ ان کی معاشی پالیسیوں پر مفتاح اسماعیل کو بھی اعتماد نہیںتو عوام کیسے اعتبار کریں؟ نواز لیگ کی قوت کا مرکز پنجاب تھا لیکن پرویز الہی نے اعتماد کا ووٹ لے کر اس مرکز کے طلسم میں بھی شگاف ڈال دیا۔ کے پی، بلوچستان اور سندھ میں پہلے ہی مسلم لیگ ن کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں اگر نون لیگ پنجاب میں بھی سمٹ گئی تو اس کا مستقبل کیا ہو گا؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اگر ایک سیاسی جماعت ہے تو اسے ان پہلوؤں پر توجہ دینا ہو گی لیکن اگر وہ محض ایک موروثی بندوبست ہے توپھر اسے معلوم ہونا چاہیے وقت کا موسم بدل چکا ہے اور نئے موسم موروثیت کو راس نہیں آئیں گے۔

Back to top button