عمران خان کیلئے فوج کو شکست دینا ممکن کیوں نہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار عباس ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان کی 75 سالہ سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ عمران خان کے لئے اپنی خالق طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو شکست دینا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔

ڈان اخبار کے سابق ایڈیٹر عباس ناصر نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ 3 نومبر کو ایک احتجاجی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے قاتلانہ حملے میں محفوظ رہنے کے بعد عمران خان نے شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر پر اپنے قتل کی سازش کا الزام تو لگا دیا لیکن ان تینوں کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے میں ناکام رہے۔ سول ملٹری تعلقات میں ایک نمایاں دراڑ ڈالتے ہوئے عمران نے پاکستانی فوج کی جاسوس ایجنسی آئی ایس آئی کے میجر جنرل کو نام لیکر رگڑ دیا لیکن اپنے الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ ایسا کرتے ہوئے عمران شاید بھول گئے کہ  اسی ایجنسی نے انہیں اقتدار میں لانے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے تھے اور کتنی بدنامی مول لی تھی۔

 

عباس ناصر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی فوج سے ہاتھ ملانے کی کہانی اور ان کے زوال اور جرنیلوں کے ساتھ محاذ آرائی پاکستان میں سیاست دانوں کے محدود اختیارات کی یاد دہانی ہے۔ یہاں فوج نے 33 سال تک براہ راست حکومت کی ہے جبکہ ہمیشہ ہی ایسی طاقت کا کردار ادا کیا ہے جو اقتدار کے پیچھے ہوتی ہے۔ عمران خان نے اگست 2018 میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا اور رواں سال اپریل میں پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے انہیں معزول کر دیا گیا تھا۔ 70 سال کی عمر میں انتہائی وجیہہ، بالکل بے وقعت اور ضدی ہونے کے باعث عمران خان نے اقتدار سے بے دخل ہونے کو دل سے قبول نہیں کیا ہے۔ اب وہ کئی مہینوں سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ موصوف اپنی برطرفی کا الزام امریکی سرپرستی میں تیار ہونے والی غیر ملکی سازش پر لگا رہے ہیں اور شہباز شریف کی حکومت کو ‘چوروں’ پر مبنی ‘امپورٹڈ حکومت’ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے 28 اکتوبر کو پورے پاکستان میں ایک بھرپور مارچ کا آغاز کیا جس میں فوری انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ ان انتخابات میں ابھی پورا سال پڑا ہے۔ عمران خان کی اصل وجہ شہرت ایک مضبوط عزم والے کرکٹ کپتان کی ہے جس نے 1992 میں ایک نسبتاً کمزور ٹیم کے ساتھ کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔ یہ کہانی ان کے سیاست میں بھی ڈٹے رہنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے 1992 میں اپنی ٹیم کو ایسے شیر کی طرح کھیلنے کو کہا تھا جسے کونے میں لگا دیا جاتا ہے اور ٹیم نے فتح کے لئے اپنی جان لڑا دی۔

 

تاہم عباس ناصر کے بقول سیاست میں عمران خان کی شبیہ اور حوصلہ کافی نہیں تھا۔ انہوں نے 1996 میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی اور ڈیڑھ دہائی تک انتخابی طور پر کامیاب ہونے کے لیے بھرپور کوشش کرتے رہے۔ تاہم انہیں 342 رکنی قومی اسمبلی میں محض ایک ہی سیٹ مل سکی۔ بہت سے پاکستانی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاک فوج کو محسوس ہوا کہ عمران اگر مقبول ہو جاتے ہیں تو دو بڑی سیاسی جماعتوں کے تسلط کو کم کرنے میں مدد ملے گی جو بار بار اقتدار میں آتی رہتی ہیں۔ ان میں سے ایک سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی جو ان کی راولپنڈی میں مشرف دور میں شہادت کے بعد ان کے شوہر اور بیٹے کو وراثت میں ملی اور دوسری سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) تھی۔ 2010 کی دہائی کے اوائل میں عمران خان نے ان دونوں جماعتوں کے خلاف پاک فوج کے ساتھ اتحاد کر لیا اور پرانی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود طاقت ور سیاست دانوں کو اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہا۔ تحریک انصاف نے خود کو بدعنوانی اور بدانتظامی کے خلاف ایک عوامی تحریک قرار دیا اور ایک نئے پاکستان کا وعدہ کیا، عمران نے ایک فلاحی ریاست کی بات کی اور صوبہ خیبر پختونخوا اور افغانستان کی سرحد سے متصل فاٹا کے علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ چنانچہ امریکہ مخالف چورن بیچنے کی وجہ سے وہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ نشستوں کے حساب سے ان کی پارٹی تیسرے نمبر پر آ گئی لیکن نواز شریف نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے حکومت بنائی۔ تین سال بعد 2016 میں نواز شریف جو کہ موجودہ وزیر اعظم کے بڑے بھائی ہیں، اور فوج کے مابین قومی سلامتی پالیسی کے معاملات پر اختلافات پیدا ہو گئے اور فوج نے نواز شریف کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔

 

عباس ناصر کہتے ہیں کہ 1947 میں پاکستان بننے کے فوراً بعد سے، فوجی جرنیل فوج کو چیلنج کرنے کی کوشش کرنے والے سیاست دانوں کو برطرف کرتے آئے ہیں، چاہے انہیں اس مقصد کے لیے مارشل لا لگانا پڑے ہیں یا پھر ڈمی وزیراعظم بنانے پڑیں۔ الیکشن 2013 کے بعد عمران نے نواز شریف اور ان کے خاندان پر بدعنوانی کے الزامات لگا کر ان کی برطرفی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ موصوف یہ برطرفی الیکشن کے ذریعے نہیں بلکہ عدالتی مقدموں کے ذریعے سے چاہ رہے تھے۔ 2017 میں عمران کی پٹیشن پر کرپشن کے الزام میں احتساب عدالت کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اثاثے چھپانے اور ‘صادق اور امین’ نہ ہونے کے باعث عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ حالانکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جا سکا کہ انہوں نے اپنے عہدے کا استعمال ذاتی فائدے کے لیے کیا۔ 2018 کے انتخابات میں عمران کی پارٹی کو فوج کی پسندیدہ ترین پارٹی کے طور پر دیکھا گیا۔ میڈیا کو دبایا گیا اور ان پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔ ان انتخابات سے متعلق کافی شواہد تھے کہ فوج نے عمران کی جیت میں مدد کے لیے کتنی مداخلت کی۔ اپنے پہلے تین سالوں میں عمران خان مسلسل اس بات پر اتراتے رہے کہ وہ اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ عمران خان نے جنرل باجوہ کو آرمی چیف کی دوسری تین سالہ مدت کے لیے توسیع بھی دی۔

 

عباس ناصر کہتے ہیں کہ عمران کے دور کی پہچان شہری آزادیوں اور آزاد پریس کو نظر انداز کرنے، ان کے مخالفین کو نشانہ بنانے اور پارلیمانی جمہوریت کے طریقہ کار کو نظر انداز کرنے کے طور پر بنی۔ وہ معیشت کو بہتر بنانے میں ناکام رہے، افراط زر میں اضافہ ہوا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے لیے اس وقت اپنی امداد روک دی جب عمران خان کی حکومت نے اپنے وعدوں پر قائم رہنے سے انکار کر دیا۔ ان کی خارجہ پالیسی بھی اچھی نہیں رہی۔ امریکہ، سعودی عرب اور چین کے ساتھ پاکستان کے اہم ترین تعلقات ہیں اور یہ تینوں ان کے دور میں سرد مہری کا شکار رہے۔ صدر بائیڈن نے اپنی مدت ملازمت کے آغاز کے بعد عمران خان کو رسمی فون کال تک نہ کی جبکہ اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کم و بیش تعطل کا شکار رہے۔  حکومتی ناکامیوں کے علاوہ اکتوبر 2021 میں عمران نے فوج کے فیصلوں میں مداخلت کا ‘بنیادی گناہ’ کیا۔ انہوں نے آئی ایس آئی کے لیے نئے سربراہ کی تقرری کو روکنے کی کوشش کی کیونکہ عمران خان لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بدستور اس عہدے پر برقرار رکھنے کے حامی تھے کیونکہ وہ ان کے لئے سیاسی انجینئرنگ کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔

 

عباس ناصر کے بقول ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہر سطح پر افسران کو ترقی دینے اور انہیں تعینات کرنے کے اپنے استحقاق کا پوری شدومد سے دفاع کرتی ہے۔ جنرل باجوہ نے جنرل فیض حمید کی جگہ نیا آئی ایس آئی چیف مقرر کیا۔ عمران خان، جنہوں نے بطور وزیراعظم آرمی چیف کی مشاورت سے انٹیلی جنس سربراہ کا تقرر کیا مگر اس تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے پہلے تین ہفتے لے کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

پاکستانی میڈیا ان قیاس آرائیوں کی زد میں تھا کہ عمران خان نومبر 2022 کے آخر میں جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل فیض حمید کو آرمی چیف مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے اگرچہ ان افواہوں کی تردید کی لیکن انہیں جو نقصان پہنچنا تھا پہنچ چکا تھا۔ خان صاحب اور آرمی چیف اب ایک پیج پر نہیں رہے تھے۔ مارچ 2022 میں عدم اعتماد کی تحریک کے دنوں میں جنرل باجوہ کے ایک ترجمان نے عوامی طور پر اعلان کیا کہ فوج کا ‘سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے’۔ چنانچہ فوج اور انٹیلی جنس سروسز کی حفاظتی چھتری ہٹتے ہی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد انہیں ہٹانے کے لیے آگے بڑھا اور عمران کی اپنی پارٹی کے اہم اتحادی اور قانون ساز ان سے الگ ہو گئے۔ پھر قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی گئی۔

Back to top button