عمران کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی دھمکی قابل عمل کیوں نہیں؟

عمران خان کی جانب سے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کی دھمکی بظاہر قابل عمل اس لیے نہیں کہ ان کے وزرائے اعلیٰ اس اقدام پر تیار نہیں ہوں گے، خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے سو سے زائد ارکان استعفے دینے کا باوجود گزشتہ سات ماہ سے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔ ویسے بھی جنرل باجوہ کے جانے اور جنرل عاصم منیر کے آنے سے فوری انتخابات کے انعقاد کا امکان بھی ختم ہو چکا ہے کیونکہ اب فوجی قیادت ماضی کی طرح سیاسی معاملات میں مداخلت سے اعلانیہ توبہ کر چکی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف لکھاری اور دانشور وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ کہ نومبر کا آخری ہفتہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پوری قوم ایک برس سے مسلح افواج میں چوٹی کے عہدوں پر نئی تقرریوں کے ہیجان میں مبتلا تھی۔ معمول کے ایک انتظامی اقدام پر ایسی اٹھا پٹخ اور کھینچا تانی بذات خود دنیا میں ہمارے قومی وقار کے لئے نقصان دہ تھی۔ خیر گزری کہ گزشتہ ایک ہفتے میں قوم کو انتشار کے کنارے سے واپس کھینچ لیا گیا۔ 23 نومبر کو یوم شہدا کی تقریب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک اہم خطاب کیا جس سے آنے والے مناظر کے خد و خال واضح ہو گئے۔ 24 نومبر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین اور جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ دونوں اصحاب سینئر ترین ہونے کے علاوہ اعلیٰ پیشہ ورانہ اہلیت کی شہرت بھی رکھتے ہیں لہذا عمران خان کی اس معاملے پر کوئی تنازع کھڑا کرنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ صدر علوی کی طرف سے ان تقرریوں کی رسمی توثیق کے بعد صرف یہ دیکھنا باقی تھا کہ عمران خان 26 نومبر کو اپنے لانگ مارچ میں کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں؟ لیکن راولپنڈی میں تحریک انصاف کے سربراہ کا خطاب توقع کے عین مطابق کسی اہم سیاسی پیش رفت سے قطعی طور پر خالی تھا۔ موصوف نے صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے لئے اپنی قیادت سے مشاورت کا اعلان تو کیا لیکن یہ سمجھنا خام خیالی ہوگی کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت چار اسمبلیوں میں ان کے وزرائے اعلیٰ اس اقدام پر تیار ہوں گے خاص طور پر ایسی صورت میں کہ خود قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے مستعفی ارکان خواری کا شکار ہیں۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ قومی سیاست میں آئندہ مہینے معمول کی طرف لوٹنے کا مرحلہ ہوں گے۔ تاہم جنرل باجوہ نے ایک بنیادی سیاسی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے گزشتہ سات دہائیوں میں سیاست میں فوجی مداخلت کے غیر آئینی ہونے کا اعتراف کیا اور کھلے لفظوں میں بتایا کہ فوج نے گزشتہ برس ہی سیاست سے لاتعلق ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ آج اسی نکتے پر غور کی ضرورت ہے کیونکہ عملی طور پر طاقتور ترین عسکری عہدیدار کی طرف سے یہ اعلان قومی تاریخ کی ازسرنو ترتیب کے مترادف ہے۔ فی الحال اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہیں کہ فوج کی سیاست سے لاتعلقی قومی سلامتی کے ادارے کا صوابدیدی اختیار ہے یا دستور کا دو ٹوک تقاضا؟ فوج کے سربراہ کی طرف سے غالباً اتنا ہی کہا جا سکتا تھا جتنا جنرل صاحب نے فرما دیا۔ تری آواز مکے اور مدینے!
وجاہت مسعود کے مطابق جنرل باجوہ نے سات عشروں کی تاریخ پر اپنی رائے دی ہے۔ گویا جمہوری قوتوں کے اس مؤقف کو درست تسلیم کر لیا گیا کہ قوم کی سیاسی شیرازہ بندی، وفاقی اکائیوں میں باہم اعتماد، معاشی ترقی، عوام کے معیار زندگی میں مطلوب بہتری اور تمدنی ارتقا جیسے بنیادی اشاریوں میں اجتماعی ناکامی کے ڈانڈے سیاست میں فوج کی مداخلت سے ملتے ہیں۔ جنرل باجوہ نے فرمایا کہ مشرقی پاکستان میں ہمیں فوجی شکست نہیں ہوئی بلکہ یہ سیاسی ناکامی تھی۔ یہ جملہ دراصل جنوری 1972 میں صدر بھٹو نے حسینی والا سیکٹر میں فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ادا کیا تھا۔ بھٹو صاحب تب ٹوٹی ہوئی قوم کی کرچیاں چن رہے تھے اور ایسا کہنا دانش مندی کا تقاضا تھا۔ لیکن آج یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا واقعی مشرقی پاکستان کی علیحدگی سیاسی ناکامی تھی، چونکہ سقوط ڈھاکہ کے وقت ایک فوجی آمر جنرل آغا محمد یحییٰ خان نہ صرف صدر کے عہدے پر فائز تھا بلکہ آرمی چیف ہونے کے علاوہ متحدہ پاکستان کا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی تھا؟ عبدالغفار خان اور حسین شہید سہروردی تو جمہوری حقوق مانگنے کی پاداش میں جیلوں میں تھے۔ حسن ناصر تو لاہور قلعے کے عقوبت خانے میں تھا۔مشرقی پاکستان کے سیاسی معاملات تو 13 برس سے جنرل رائو فرمان علی چلا رہے تھے۔ ملک کا دو لخت ہونا بھلے فوجی شکست نہ ہو لیکن یحییٰ خان کے صدارتی عزائم کو کیسے فراموش کیا جائے جنہوں نے ایک طرف لیگل فریم ورک آرڈر میں منتخب نمائندوں پر 120 روز میں دستور سازی کی تلوار لٹکا دی، دوسری طرف اس ’آئین‘ کی پس پردہ تدوین کرتے رہے جو 20 دسمبر 1971 کو نافذ کرنا مقصود تھا۔ یہاں تاریخ کے زخم کھرچنا مقصود نہیں۔ یہ ملک ہمارا ہے اور اس کی فوج بھی ہماری ہے۔ اگر فوج نے سیاسی دستکاری سے گریز کا ارادہ کیا ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے تاہم ’وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں‘۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ 14 مئی 2006 کو پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے میثاق جمہوریت پر دستخط کرتے ہوئے یہی مطالبہ کیا تھا۔ اگر اب فوجی قیادت بھی اس نتیجے پر پہنچی ہے تو اختیار کے اس جمہوری بندوبست کو ایک وسیع تر قومی اتفاق رائے کی ادارہ جاتی شکل دینا ہو گی۔ فوج کی حب الوطنی ہمیشہ شک و شبے سے بالا رہی ہے۔ اختلاف محض اس نکتے پر رہا ہے کہ سیاسی تربیت نہ ہونے کے باعث فوج قومی پالیسی سازی کی اہلیت نہیں رکھتی۔ اس سمت میں عملی پیش رفت کے طور پر لاپتہ ہزاروں سیاسی کارکنوں کو بازیاب کروانے کی کوشش قابل تحسین ہو سکتی ہے۔ کسی نے اگرکوئی جرم کیا ہے تو عدالت کو اس کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔ یہ ایک قدم نئی سمت میں قومی اعتماد سازی کا پہلا امتحان ہو گا۔
