عمران خود نواز شریف کیلئے کھودی کھائی میں گرنے کو تیار


معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، ثاقب نثار اور عمران خان پر مبنی ٹرائیکا نے جب نواز شریف کو سیاست سے باہر کرنے کیلئے پھندہ تیار کیا اور دفنانے کے لئے کھائی کھودی، تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عمران ایک روز خود اسی کھائی میں اوندھے منہ گریں گے، مکافات عمل کے اصول کے تحت آج عمران بھی نااہلی اور پارٹی صدارت سے معزولی کے خدشات کا شکار ہیں، وہ سارے ٹوٹکے جو نواز شریف کی سیاسی ’’آرائش و زیبائش‘‘ میں استعمال ہوئے، آج عمران پر آزمائے جا رہے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ نواز شریف کی سزا پر بغلیں بجانے والے عمران خان کیلئے نصیحت یہ ہے کہ اگر اسے ایک زندگی اور ملے تو جھوٹ اور سازشوں کا حصہ نہ بننا، وہ عمران کے دست راست فواد چوہدری کا ایک پرانا بیان یاد دلاتے ہیں جس میں موصوف نے کہا تھا کہ اصلی اور نسلی ’’مائی کے لعل‘‘ کی ایک تاریخ ہے، وہ نہ تو بھولتا ہے اور نہ ہی معاف کرتا ہے، انہوں نے یہ چیلنج بھی دیا کہ ہے کوئی مائی کا لعل جو عمران خان کو ہاتھ بھی لگا سکے۔ ظاہر ہے فواد کا اشارہ شہباز شریف کی طرف ہرگز نہیں تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ ‘‘مائی کا لعل’’ کون ہے اور وہ واقعی نہیں بھولا تھا چنانچہ جب عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے بطل حریت بن کر مائی کے لعل کے سامنے کھڑا ہونے کی کوشش کی تو اسے نشان عبرت بناتے ہوئے لال بھبوکا کر دیا گیا۔ ایسے میں گل افشانیاں بکھیرنے والے فواد چودھری اب شہباز گل جیسے مزید گْل کھلانے کے قابل نہیں رہے۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کا واویلا شروع ہے، عمران خان بظاہر اکیلا کھڑا ہے، چوہدری پرویز الٰہی نے بلا توقف وبلا تکلف شہباز گل کے افسوسناک بیان کی مذمت کرتے ہوئے اس سے علیحدگی کا اظہار کر کے خود کو عمران کے بیانیے سے دور کر لیا ہے، یوں گِل کے خلاف کیس اور بھی مضبوط ہو گیا ہے لیکن مونس نے اس معاملے میں ناپختگی کا مظاہرہ کیا اور گل کی گرفتاری کی خبر ملتے ہی پنجاب پولیس کی بنی گالہ کی طرف پیش قدمی کا غیر دانشمندانہ اعلان کر دیا۔ پیش قدمی جیسے لفظ کا استعمال جنگ میں استعمال ہوتا ہے لیکن مونس کے جہاندیدہ باپ کا شہباز گل سے بروقت اعلان لاتعلقی اور پرزور الفاظ میں مذمت نقصان کا ازالہ کرنے میں کامیاب رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران کو موجودہ صورتحال سے اکیلے تن تنہا نپٹنا ہوگا خصوصا جب ان کے ساتھی اور اتحادی ان کے بیانیہ سے دوری اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں، قرین از قیاس یہی ہے کہ گِل کا ٹرائل فوجی عدالت میں بھی ہو سکتا ہے اور وہ 30 سال قید با مشقت کی سزا پا کر بقیہ زندگی جیل میں بھی گزار سکتے ہیں۔
اس حوالے سے حفیظ اللہ نیازی مسلم لیگی رہنما جاوید ہاشمی کے کیس کا حوالہ دیتے ہیں جنہوں نے جنرل مشرف کے دور میں 2003 میں ایک خط ارکان قومی اسمبلی کو لکھا تھا۔ ہاشمی کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر چند ہفتوں میں مدعی، جیوری اور جج سب ایک ہی صفحے پر آ گئے اور انہیں 32 سال قید با مشقت کی سزا سنا دی گئی۔ لیکن گِل قومی سیاست میں جاوید ہاشمی کی خاک پا کے بھی برابر نہیں لیکن انہیں نشان عبرت بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ دوسری مثال رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کی ہے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوان مل کر بھی علی وزیر کا چند گھنٹوں کا پروڈکشن آرڈر نکلوانے سے بھی قاصر رہتے ہیں، چونکہ مائی کا لعل آڑے آ جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہباز گِل کو چبایا گیا تو ‘‘مائی کے لعلوں’’ کی داڑھ بھی گیلی نہیں ہونی اس لیے مزید خوراک کا بندوبست بھی کیا جائے گا۔ اسی طرح نواز شریف کی اکتوبر 2020 کی تقریر حالانکہ مہذب ترین تھی لیکن انہیں آج تک معافی نہیں ملی۔
چنانچہ اپنی جماعت کے اقتدار میں ہونے کے باوجود وہ ملک واپس نہیں آ پا رہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کا بھی تھا جو ڈان لیکس کی وجہ سے مائی کے لعلوں کے نشانے پر آ گئے حالانکہ انہوں نے غلیل کی بجائے دلیل کے استعمال پر زور دیا تھا۔ بقول حفیظ اللہ نیازی، تب کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے انہیں بتایا تھا کہ مائی کے لعل پرویز رشید کو ان کے دفتر سے گرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے انہیں وزارت اطلاعات سے ہٹوا کر انکی معافی تلافی کروائی۔
حفیظ نیازی کہتے ہیں کہ دوسری جانب سپریم کورٹ کا معیار عمران بارے دوہرا اور انوکھا تو ہے، لیکن خاطر جمع رکھیں اس باری مائی کے لعلوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے، عمران خان نے مائی کے لعلوں کے لاڈ، پیار اور صبر و تحمل کو ان کی کمزوری سمجھ لیا جوکہ نا سمجھی تھی لیکن عمران کے خاتمے کا آغاز اب نوشتہ دیوار ہے اور موصوف نے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے ساتھ مل کے نواز شریف کیلئے جو کھائی کھودی تھی وہ خود اس میں گرنے والے ہیں۔

Back to top button