عمران ریاض کی گرفتاری پر احتجاج نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟


سابق وزیراعظم عمران خان کے پسندیدہ یوٹیوبر عمران ریاض خان کی گرفتاری پر ماضی میں انکے اپنے دور میں ہونے والی گرفتاریوں کے برعکس اس مرتبہ کوئی احتجاج نہ ہونے کی وجہ صحافی برادری میں پائی جانے والی تقسیم کو قرار دیا جا رہا ہے۔ معروف انگریزی روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اکثریت کا ماننا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ صحافیوں کی تعریف اور حدود و قیود کا تعین کرلیا جائے۔ عمران ریاض کو چند روز پہلے اٹک پولیس نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ اور دیگر 6 دفعات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ان پر سوشل میڈیا میں پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ مختلف تھانوں میں ان پر 18 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ گرفتاری سے چند لمحے پہلے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں عمران ریاض نے احتجاج کی اپیل کی تھی مگر ملک کے کسی بڑے شہر میں کسی صحافتی تنظیم کا کوئی بڑا احتجاج نہیں دیکھا گیا۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے گرفتاری کی مذمت تو کی ہے لیکن احتجاج کی کال نہیں دی۔ دوسری جانب راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر وقار ستی نے عمران ریاض کو صحافی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کی مذمت سے بھی انکار کر دیا ہے۔ اسی طرح کراچی اور دوسرے پریس کلبوں کی جانب سے بھی کوئی احتجاج سامنے نہیں آیا۔

زیادہ تر صحافتی تنظیموں کا یہ موقف ہے کہ عمران ریاض خان نے صحافتی روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے تحریک انصاف کے کارکن کا کردار اپنا لیا تھا اور ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے عمران خان کے ایما پر فوج کے ادارے اور فوجی قیادت کی تضحیک کر رہے تھے لہذا یہ طے کیا جانا چاہئے کہ صحافی کہلانے کا حقدار کون ہے اور کون نہیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عمران ریاض خان کے خلاف مقدمات کے اندراج کی مذمت کے اگلے ہی روز انہیں موٹر وے سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کی جانب سے عمران ریاض کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی والے تو سامنے نہیں آئے لیکن عمرانڈو صحافی قرار دیے جانے والے سمیع ابراہیم کی زیرِ قیادت نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر چند لوگوں نے کٹھے ہو کر نعرے ضرور بلند کیے۔ یاد رہے کہ ماضی میں عمران خان کے دور میں حکومت کے ناقد صحافیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا جس کے دوران نہ صرف صحافیوں کو گولیاں ماری گئیں بلکہ انہیں اغوا اور گرفتار بھی کیا گیا۔ لیکن تب ہر قاتلانہ حملے، گرفتاری اور اغوا کے خلاف ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج بن جاتی تھیں اور سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا تھا۔ تاہم عمران ریاض کی گرفتاری پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا اور وہ ابھی تک پولیس کی حراست میں ہیں۔

مختلف صحافتی تنظیموں کا یہ مؤقف ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں عمران ریاض ایجنسیوں کے ماتحت پیس کا کردار ادا کرتے رہے اور جب بھی کوئی حکومت کا ناقد صحافی گرفتار ہوتا توموصوف اس عمل کی مذمت کرنے کی بجائے ریاستی لائن لے کر چلتے تھے۔ عمران ریاض کے یوٹیوب چینل پر موجود پروگراموں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ہر صحافی پر ہونے والے قاتلانہ حملے، اغوا اور گرفتاری کی حمایت کی، چاہے وہ حامد میر ہو، ابصار عالم ہو، مطیع اللہ جان ہو، اسد علی طور ہو، عامر میر ہو یا عمران شفقت ہو۔ موصوف ان تمام صحافیوں کو ملک دشمن اور ریاست مخالف قرار دے چکے ہیں۔ اور شاید یہ مکافات عمل ہی ہے کہ عمران ریاض خود بھی ریاست دشمنی کے الزامات پر گرفتار ہوئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے منسلک سینئر صحافی ثقلین امام کا کہنا تھا کہ ’کسی ایک شخص پر ایک ہی متن کی دو درجن ایف آئی آرز کا اندراج انتظامیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، تاہم اس معاملے پر بات کرنے سے پہلے ہمیں کچھ بنیادی باتیں معلوم ہونی چاہئیں۔ مثلاً آزادی صحافت خبر دینے کی آزادی ہے تو آزادی اظہارِ رائے تبصرہ کرنے کی آزادی کا نام ہے جو ملک کے قانون کے مطابق ہر شہری کو حاصل ہے لیکن تبصرے یا تجزیے کو نفرت آمیز نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ عمران ریاض کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’تبصرے اور خبر میں فرق ہے۔ تبصرے کو خبر کے طور پر پیش کرنا پیشہ ورانہ بے ایمانی ہے‘۔

صحافی کی تعریف کرتے ہوئے ثقلین امام نے کہا کہ ’صحافی وہ ہے جو خبر نکالے اور مفادِ عامہ میں اسے شائع کرے لیکن اگر کوئی خبر نکال کر کسی ایجنسی کو دے یا کسی ادارے یا شخص کو دے اور شائع نہ کرے تو وہ مخبر تو ہوسکتا ہے صحافی نہیں‘۔

یاد رہے کہ اپنی گرفتاری سے کچھ دن قبل عمران خان کی محبت میں عمران ریاض نے اداروں کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لڑائی ادھوری چھوڑ کر چلے گئے ہیں لیکن میں نہیں جاؤں گا اور آخر تک لڑوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو پہلی دفعہ آپ ٹکر کے مخالفین کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ عمران ریاض کی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والی پہلے سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر 5 گھنٹے کے اندر انہیں رہا نہیں کیا گیا تو انکے چینل پر ایک ایسی ویڈیو اپلوڈ ہوگی جس سے تہلکہ مچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے میرے خلاف کارروائی کی ہے، سب کا نام لوں گا۔ ان ایجنسیوں کا بھی، ان اداروں کا بھی اور ان بندوں کا بھی جنہوں نے یہ سب کیا ہے۔ تاہم ابھی تک ایسی کوئی ویڈیو سامنے نہیں آ پائی۔

Back to top button