عمران سانحہ 9 مئی کا ذمہ دار قرار، خٹک نے بھانڈا پھوڑ دیا

سابق وزیر دفاع اور عمران خان کے سابق دست راست پرویز خٹک کھل کر عمران خان کے سامنے آ گئے ہیں اور انھوں نے نیازی کے پول کھولنا شروع کر دئیے ہیں جس کے بعد عمران خان نے انھیں تحریک انصاف سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پرویز خٹک نے عمران نیازی کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ ایک منظم ایجنڈے کے تحت ہوا اور اس کی پلاننگ چند لوگوں کی مشاورت سے ہوئی۔ جس پر پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 9 مئی کے واقعات کا زمہ دار عمران خان اور ان کے چند قریبی ساتھیوں کو ٹھہراتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا 9 مئی والے دن کور کمانڈر ہاؤس اور قلعہ بالا حصار سمیت فوجی تنصیبات پر حملہ منظم ایجنڈے کے تحت کیا گیا پہلے سے اس کی پلاننگ کی گئی تھی عمران کی گرفتاری کے بعد اس منصوبے پر عمل کیا گیا۔ ریڈیو پاکستان پر حملہ بھی مذموم ایجنڈے کا حصہ تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اس پلاننگ بارے پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا بلکہ یہ پلاننگ چند لوگوں کی مشاورت سے ترتیب دی گئی تھی۔ پرویز خٹک نے عمران خان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تصادم کی سیاست چل سکتی ہے نہ اب ہٹلر کی نازی فورس کا وقت ہے۔ ملک میں انقلاب اور تصادم کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے الزام تراشیوں، سابق منتخب ارکان اسمبلی کو پارٹی چھوڑنے کیلئے اکسانے اورشوکاز نوٹس کا جواب نہ دینے پر مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی بنیادی رکنیت ختم کرنے اور انہیں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاہم پرویز خٹک نے پارٹی نوٹس کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کوئی سرکاری ملازم نہیں جو شوکاز نوٹس کا جواب دیں انہیں شوکاز نوٹس کی کوئی پروا نہیں، وہ شوکاز نوٹس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ انھوں نے مزید قرار دیا ہے کہ 9مئی کا واقعہ چیئر مین کا چند لوگوں سے مشاورت کا نتیجہ ہے. ان کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کو ہمیشہ مثبت سیاست اور مثبت سوچ کا درس دیا مگر ان کی سوچ اور ایجنڈا کچھ اور تھاجبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے30سے زائد سابق ارکان اسمبلی نے پرویز خٹک کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کرادی ہے جس کے بعد ممکنہ طور پر وہ جلد ہی اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کو پارٹی چھوڑنے کیلئے ورغلانے پر سابق وزیراعلی پرویز خٹک کو پارٹی قیادت کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے7 دن میں جواب طلب کیا گیاتھا۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس کے مطابق پرویز خٹک تحریک انصاف کے اراکین کو جماعت سے علیحدگی کیلئے رابطے کررہے ہیں. نوٹس کے مطابق جواب تسلی بخش نہ ہونے یا اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے مفصل جواب سے گریز پر سخت کارروائی کی بھی تنبیہ کی گئی تھی تاہم سات دن کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے باوجود پرویز خٹک نے پارٹی کے شوکاز نوٹس کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے، اس سلسلے میں پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وہ کوئی سرکاری ملازم تو نہیں جو شوکاز نوٹس کا جواب دیں گے بلکہ وہ ایسے کسی شوکاز نوٹس کو خاطر میں نہیں لاتے. پارٹی اراکین سے رابطے قائم تھے اور اب بھی پارٹی کے سابق ارکان کیساتھ رابطے جاری ہیں.
دوسری جانب تحریک انصاف نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع نہ کرانے پر سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی پارٹی کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا باضابطہ اعلامیہ جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔ادھرذرائع کا دعویٰ ہے کہ اب تک30سے زائد سابق ارکان اسمبلی پرویز خٹک کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کراچکے ہیں جس کے بعد وہ جلد ہی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے پرویز خٹک کے عمران خان اور پارٹی بارے بیان کوسراسر لغو، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیاہے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اگر پرویز خٹک کو پارٹی کے کئے ہوئے فیصلوں سے اختلاف تھا تو اسی وقت عہدے اور پارٹی رکنیت سے مستعفی کیوں نہ ہوئے۔ ایک بیان میں پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ پرویز خٹک پارٹی کے عہدوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد الزامات سے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پرویز خٹک عمران خان کو 9 مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو سراسر جھوٹ، بے ہودہ اور بے بنیاد ہے۔ پرویز خٹک بطور صوبائی صدر پارٹی کے تمام فیصلوں میں مکمل طور پر شریک ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے۔ پرویز خٹک کو پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کے فیصلے غلط نظر آنے لگے، پرویز خٹک جھوٹے الزامات لگانے کی بجائے فیصلہ کریں کہ انہوں نے پارٹی میں رہنا ہے کہ نہیں، شاید پرویز خٹک اس قسم کے الزامات کے ذریعے نئی کنگز پارٹی میں اپنے لئے کسی مرکزی عہدے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ عمران خان یا پی ٹی آئی پر الزمات لگا کر یہ اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال نہیں کر سکتے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جب پرویز خٹک نے یہ دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ کور کمانڈر ہاؤس سے لیکر قلعہ بالاحصار تک یہ ایک منظم سازش اور پلاننگ کے تحت کارروائی تھی ، اب یہ سازش کیسے تیار ہوئی ؟ اس سازش میں کون کون ملوث تھا ؟ شرپسندوں کو ہدف کس نے دئے اور کس کی کیا زمہ داریاں تھی یہ بات بھی کھل کر سامنے آنے والی ہے، لیکن یہ بات واضح ہوگئی کہ تاریک انصاف کے اندر سے اب یہ بات باہر آگئی اور مزید بھی آنے والی ہے۔ اب عمران نیازی کس کس کا منہ بند کریگا ؟ میانوالی سے مردان لاہور سے بالاحصار کراچی سے سوات تک شرپسند اہم رہنما ثبوتوں کے ساتھ قانون کے ریڈار پر ہیں ، کب تک انڈر گراونڈ رہینگے ؟ بالآخر آنا قانون کے گرفت میں ہی ہے، فوجی عدالتیں ان شرپسندوں کا انتظار کر رہی ہے ، تمام شرپسند اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے اور جلد سانحہ 9 مئی کا ماسٹر مائنڈ بھی قانون کی گرفت میں ہو گا۔
